قیامت کی نشانی : جابر حکمران

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : جابر حکمران

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن طال بك مدة أو شككت أن ترى قوما يغدون فى سخط الله ويروحون فى لعنته فى أيديهم مثل أذناب البقر
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی سنا، آپ نے فرمایا: ”اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم ایک ایسی قوم دیکھو گے جو اللہ کے غضب میں صبح کرے گی اور اللہ کی لعنت میں شام گزارے گی۔ ان کے ہاتھوں میں بیلوں کی دموں کی طرح (لاٹھیاں) ہوں گی۔“
مسلم : کتاب الجنة : باب النار يدخلها الجبارون (2857) احمد (405/2 – 427) حاکم (482/4)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صنفان من أهل النار لم أرهما : قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو قسم کے لوگ جہنم والے ہیں جنہیں میں نے (ابھی) نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ قوم ہے جن کے پاس بیلوں کی دموں جیسی لاٹھیاں ہوں گی اور ان کے ساتھ وہ لوگوں کو ماریں گے۔“
مسلم: کتاب الآداب: باب النساء الكاسيات …. (2128) احمد (469/2) موطا (913/2) سنن کبری(224/4)شرح السنہ (2988)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کے آخری دور میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جن کے ہاتھوں میں بیلوں کی دموں جیسی لاٹھیاں ہوں گی۔ یہ لوگ صبح و شام اللہ کی لعنت اور غضب کا شکار ہوں گے۔“
ایک اور روایت میں ہے کہ ان سے دوستی پیدا نہ کرنا۔
احمد (315/5) صحیح الجامع (317/3) مجمع الزوائد (234/5) القول المسدود (ص 53) حاکم (483/4)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو میری ہدایت (Guidance) سے منہ پھیریں گے اور میری سنت (Path) سے اعراض کریں گے اور ان (کی انتظامیہ) میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے جسموں میں شیطانوں کے دل ہوں گے۔“
بخاری : کتاب المناقب : باب علامات النبوة (3606) مسلم (1847)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت میں شاہانہ کروفر ہوگا اور رومی و ایرانی بادشاہوں کی نسلیں ان کی خدمت گزار ہوں گی تو اللہ تعالیٰ بدترین لوگوں کو ان کے بہترین لوگوں پر مسلط کر دے گا۔“
فوائد :
(1) جابر حکمران کا ظہور قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) اس نشانی کا ظہور عرصہ دراز سے عمل میں آچکا ہے اور قیامت کے قریب ہر طرف بکثرت ظالم انتظامیہ اور جابر حکمرانوں کا دور دورہ ہوگا۔
(3) جابر حکمران اللہ کے غیظ و غضب کے شکار ہوں گے۔ دنیا میں نہیں تو آخرت میں ان سے سخت حساب لیا جائے گا۔
(4) ایسے حکمرانوں کا آلہ کار بننے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا ہے۔
(5) ظالموں کی مدد کرنے والا بھی ان سے ظلم میں برابر حصہ دار ہے۔
(6) نبی کی پیش گوئی برحق ثابت ہوئی۔ آج بلاد اسلامیہ میں بکثرت ایسے حکمران پائے جاتے ہیں جو خود تو اسلام سے کنارہ کش ضرور ہیں مگر اسلام پر عمل کرنے والوں پر بھی یہ لوگ بلا وجہ ظلم و عدوان کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ موجودہ وقت میں پاکستان کے بلا جواز حکمران جنرل مشرف نے امریکہ بدمعاش کے حکم پر سر جھکاتے اور لبیک کہتے ہوئے تقریبا (40) دینی جماعتوں پر پابندی کے احکامات صادر فرما دیتے ہیں علاوہ ازیں ملک بھر کے دینی مدارس کے چندوں پر پابندیاں ، مدارس کا زبردستی کنٹرول اور کئی دوسری اسلام کش پالیسیوں کے فیصلے قومی اخبارات کی زینت بن رہے ہیں حالانکہ ان ظالم نام نہاد مسلمانوں کو تو خود آگے بڑھ کر احیائے اسلام اور بقائے مسلمان کا فریضہ سر انجام دینا چاہیے تھا مگر بقول شاعر :
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
کے مصداق انہی حکمرانوں نے افغانستان کے مسلمانوں پر آتش و آہن کی بارش برسائی اور ہزاروں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل کر انہی خون آلودہ ہاتھوں کو پاکستان کے با عمل مسلمانوں کی طرف بڑھانا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ دنیا و آخرت کی رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں ! (اللهم انصر المسلمين)