قیامت کی نشانی : ترکوں سے جنگ
عن عمرو بن تغلب رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من أشراط الساعة أن تقاتلوا قوما نعالهم الشعر أو ينتعلون الشعر وإن من أشراط الساعة أن تقاتلوا قوما عراض الوجوه كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی سنا: ”قیامت کی نشانیوں سے ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔ یہ بھی قیامت کی علامات سے ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے کہ گویا وہ تہ بہ تہ ڈھال جیسے (موٹے یا پیٹے) ہیں۔“
احمد (94/5) بخاری : کتاب الجہاد : باب قتال الترک (2927) ابو داؤد (4303) ابن ماجہ (406/2) سنن کبری (179/9) مسلم (2912)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا الترك صغار العيون ، حمر الوجوه خلاف الأنوف كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم ہونے سے پہلے تم ترک قوم سے لڑو گے جو چھوٹی آنکھوں والے، چپٹی ناکوں والے، سرخ چہروں والے ہیں گویا ان کے چہرے کوئی ہوئی ڈھالیں ہیں۔“
احمد (421/2) بخاری (2928) مسلم (2912) ابو داؤد (4303) شرح السنة (425/7) ابن حبان (360/8) مصنف عبد الرزاق (375/11)
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ نشیبی جگہ میں اتریں گے اور اس جگہ کا نام بصرہ رکھیں گے، یہ جگہ ایک دریا کے قریب ہوگی جسے دجلہ کہا جائے گا۔ اس پر ایک پل بھی ہوگا۔ یہ مسلمانوں کا ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہوگا۔ جب آخری زمانہ ہوگا تو قطورا کی اولاد آئے گی جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور وہ دریا کے کنارے پڑاؤ کریں گے۔ شہر بصرہ کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک گروہ میں وہ لوگ ہوں گے جو بیلوں کی دمیں پکڑے جنگل کا رخ کریں گے مگر تباہ و برباد ہو جائیں گے، دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جو قطورا کی اولاد سے امان طلب کریں گے اور وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے اور تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہوگا جو اپنی اولاد کو اپنے پیچھے رکھ کر ان سے جنگ کریں گے اور مقام شہادت پر فائز ہوں گے۔“
ایک روایت میں ہے کہ ایک گروہ امان طلب کرے گا اور مرتد ہو جائے گا اور ایک گروہ جنگ کرے گا جن کے مقتول شہید ہیں اور ان کے باقی بچنے والے فتح سے ہمکنار ہوں گے۔
احمد (54/5 – 60) ابو داؤد (4306) موارد الظمان (1873)
ایک صحابی (ابو امامہ بن سھل انصاری رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس وقت تک حبشیوں اور ترکوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کرو جب تک وہ تمہیں کچھ نہ کہیں۔“
ابو داؤد: کتاب الجہاد (4302) احمد (461/5) مجمع الزوائد (551/5) السلسلة الصحیحة (402/2)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم عجمیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ ان کے چہرے سرخ ہوں گے، ناک چپٹی ہوگی، آنکھیں چھوٹی ہوں گی، اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے نیز ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔“
بخاری : کتاب المناقب : باب علامات النبوة (3590)
فوائد :
(1) ترکوں سے جنگ قیامت کی ایک نشانی ہے جس کا ظہور ہو چکا ہے۔
(2) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی چند ایک واضح صفات بھی ذکر فرمائی ہیں: ”چھوٹی آنکھیں، چپٹی ناک، سرخ اور چوڑے (یا موٹے) چہرے۔“
(3) ترکوں کو بنو قطورا بھی کہا گیا ہے۔ قطورا ابراہیم علیہ السلام کی ایک لونڈی تھی جس سے یہ نسل پیدا ہوئی۔
(4) ترکوں کے علاقے مشرقی خراسان سے چین کے مغرب اور ہند کے شمال کے درمیان واقع ہیں۔
النہایة (153/10) معجم البلدان (23/2)
(5) تاریخی روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ترک نامی ایک شخص پیدا ہوا جس کی اولاد بلاد مشرقیہ (منگولیا، چین، صحرائے گوبی) وغیرہ میں پھیل گئی اور یہ سب ترک کہلائے۔ پھر ترک بن یافث بن نوح کی اولاد یعنی ترکوں میں سے ایک شخص النجه خان تھا جس کے ہاں دو بیٹوں نے جنم لیا۔ ایک کا نام مغول اور دوسرے کا نام تاتار رکھا گیا۔ انہی دونوں سے مغول اور تاتار قومیں پیدا ہوئیں اس لیے تاریخ میں انہیں ترک، مغل، تاتار، ترکمان وغیرہ مختلف ناموں سے پہچانا گیا ہے۔
(6) ترک بن یافث کی اولاد سے جنم لینے والے قبائل میں ایک قبیلہ سلجوقی نام سے معروف ہوا جس نے مذکورہ قبائل میں سے سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔
(7) مذکورہ قبائل بے آب و گیاہ صحراؤں، پہاڑوں اور جنگلوں میں لطائف قدرت سے محروم وحشیانہ زندگی بسر کرتے، کتے، بلی، ہر قسم کے جانوروں کا گوشت کھا جاتے، خانہ بدوشوں کی طرح اپنے جائے قیام بدلتے رہتے اور اکثر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ چھٹی صدی ہجری میں یہی لوگ تاتاریوں کے روپ میں قتل و غارت گری اور تباہی و بربادی کا پیغام لیے آنا فانا تمام عالم اسلام پر محیط ہو گئے اور یہ وحشی قوم ٹڈی دل کی طرح مشرق سے مغرب تک پھیل گئی۔ لاکھوں افراد ان کے ہاتھوں قتل ہوئے، ہزاروں شہر خاک کے ڈھیر بنے اور بڑی بڑی سلطنتیں اجڑ کر رہ گئیں۔
654ھ (1256ء) میں چنگیز خان کی ولادت ہوئی جس کا اصلی نام تموچن تھا۔ اس کا باپ سردار تھا مگر تموچن ابھی بارہ سال کا تھا کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور دوسرے سرداروں نے اس بچے کی سیادت و قیادت سے انکار کر دیا مگر چنگیز خان نے حوصلہ اور صبر و جرات سے کام لے کر حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور تمام قبائلی سرداروں کو اطاعت پر مجبور کر لیا پھر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد اردگرد کے علاقوں کو تاراج کر کے سارے چین پر قبضہ کر لیا اور تاتاریوں کی عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی۔
ترکستان کا علاقہ ایک نہایت زیر دست حکمران سلطان علاؤ الدین خوارزم شاہ کے قبضے میں تھا۔ چنگیز خان نے ابھی تک اسلامی علاقوں کو اپنی ہوس ملک گیری کا نشانہ نہ بنایا تھا بلکہ ایک معاہدے کی رو سے اس نے خوارزم شاہ کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کر رکھے تھے لیکن ایک افسوس ناک حادثے نے صورت حال کو بدل کر رکھ دیا۔ ہوا یوں کہ تاتاریوں کا ایک قافلہ خوارزم شاہ کی حدود سے گزرا تو علاقہ اترار کے حاکم نے انہیں جاسوس سمجھتے ہوئے گرفتار کر لیا اور پھر خوارزم شاہ کی اجازت سے انہیں قتل کر دیا اور ان کا مال و اسباب لوٹ لیا۔ جب اس واقعہ کی خبر چنگیز خان کو ہوئی تو اس نے خوارزم شاہ کے پاس قاصد بھیج کر قصاص و تاوان کا مطالبہ کیا مگر شاہ نے حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے قاصد کو بھی قتل کر دیا۔ اس پر چنگیز خان نے جوش انتقام سے لبریز ہو کر ترکستان کا رخ کیا اور ہرات، بلخ، بخارا، سمرقند وغیرہ تاریخی شہروں پر قبضہ کرنے کے بعد اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ہزاروں، لاکھوں مردوں کا قتل عام کر کے اپنے غضب کی پیاس بجھائی۔ ادھر خوارزم شاہ کی موت کے بعد اس کا بیٹا جلال الدین پر سر اقتدار آیا مگر تاتاریوں کی یلغار کو روکنا اس کے بس سے باہر تھا لہذا جلال الدین اپنی سلطنت دیران چھوڑ کر ہندوستان نکل گیا۔ تاتاریوں نے موقع غنیمت جانا اور غزنہ، غور کو تباہ و برباد اور وسط ایشیا، خراسان، فارس، آذربائیجان وغیرہ کو روندتے ہوئے روس تک جا پہنچے۔ اس اثنا چنگیز خان کی موت واقع ہو گئی پھر اس کے بعد اس کا بیٹا اکتائی خان پھر اس کا پوتا منگو خان تخت نشین ہوا۔ ادھر بغداد میں خلیفہ مستعصم کی حکومت تھی۔ منگو کا ایک بھائی یہ کہ خان صالح شمس الدین با خوری کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہو چکا تھا اس لیے تاتاریوں نے بغداد کا رخ نہ کیا کیونکہ ہر کہ خان نے مستعصم کی تحریری بیعت کر لی تھی۔ اسی دوران عراق میں اسماعیلیوں کے ہاتھوں لوگ سخت تنگ تھے چنانچہ منگو خان نے اپنے بھائی ہلاکو خان کو ایران کا حکمران بنا کر روانہ کیا تا کہ عراق میں امن قائم ہو۔ ہلاکو خان نے باطنیوں کی قوت توڑنے کے بعد قلعہ الموت پر قبضہ کر لیا اور منگو خان کی ہلاکت کے بعد اس کا جانشین مقرر ہوا۔
عباسی خلافت کی حیثیت اب چراغ سحری سے زیادہ نہ تھی کیونکہ مسلسل نااہل اور ناکارہ حکمرانوں کے تخت نشین ہونے کی بدولت عباسی خلافت اپنی عظمت اور قوت کھو چکی تھی۔ جب ہلاکو خان بغداد کی تباہی کے منصوبے سوچ رہا تھا تو عین اس وقت مستعصم جیسا نااہل خلیفہ مسند خلافت پر متمکن تھا جسے امور خلافت سے کوئی دلچسپی نہ تھی لہذا اس نے تمام اختیارات اپنے وزیر ابن علقمی کے سپرد کر رکھے تھے جس نے ملی غداری کا ثبوت دیا اور ہلاکو خان کو بغداد پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے دی جبکہ عامۃ المسلمین میں اتحاد و اتفاق مفقود تھا، وہ فرقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، آپس میں دست و گریبان تھے، مذہبی مناظروں اور جھگڑوں نے شیعہ سنی اور حنفی فساد کی شکل اختیار کر لی تھی اور مسلمان جزوی و فروعی مسائل میں الجھ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے بیٹھے تھے، انہیں آنے والے عظیم خطرات کا کوئی احساس نہ تھا اور نہ ہی وہ اس کے خلاف محاذ آرائی کے لیے تیار تھے۔
علاوہ ازیں مستنصر نے اپنے عہد حکومت میں تاتاری حملہ کے سدباب کے لیے زبردست فوج تیار کر رکھی تھی مگر ابن علقمی نے خلیفہ مستعصم سے کہا کہ اس قدر عظیم الشان فوج کے اخراجات ملکی آمدنی سے پورے نہیں ہو سکتے لہذا اس بے فائدہ فوج کو برخاست کر دیا جائے۔ خلیفہ نااہل نے بے چون و چرا اس کی رائے پر عمل کیا اور بغدادی فوج کا کثیر حصہ توڑ دیا گیا اور جو بچ گئے انہیں نقد تنخواہ دینے کی بجائے شہریوں سے محاصل (Revenue Tax) وصول کر کے تنخواہ پوری کرنے کی اجازت دے دی۔ اس طریق کار سے شہریوں اور فوج کے درمیان نفرت کی دیوار بھی کھڑی ہو چکی تھی۔
ہلاکو خان نے مذکورہ حالات کو بہترین موقع (Golden Chance) گردانتے ہوئے بھرپور فائدہ اٹھایا اور بغداد پر فوج کشی (Invasion) کر دی۔ ابن علقمی نے سازش کے ذریعے فوج کا اکثر حصہ برخاست کر دیا تھا۔ باقی ماندہ فوج تاتاریوں کے ٹڈی دل فوج کا زیادہ دیر تک مقابلہ نہ کر سکی اور سرنڈر (Surrender) ہونے میں خیر سمجھ کر ہتھیار پھینک ڈالے مگر تاتاریوں نے شہر میں داخل ہوتے ہی بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں کا بے دریغ قتل عام کیا، شہر لوٹ لیا گیا، عمارتیں، درسگاہیں اور لائبریریاں جلا کر راکھ کر دی گئیں اور انہیں دریائے دجلہ میں ڈبو دیا گیا۔ لاشوں کے پشتے اور سروں کے مینار بنائے گئے۔ لاکھوں مسلمان مارے گئے جن کے خون سے دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہو گیا۔ بغداد جو تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کا گہوارہ تھا اب انسانی لاشوں، اینٹوں کے ڈھیر اور جلی ہوئی راکھ کے سوا کچھ نہ تھا، ہر طرف تباہی و بربادی کے آثار کھڑے پڑے تھے۔ مسلمانوں کی عظمت کے تمام نقوش ختم کر دیے گئے اور بغداد اپنی اہمیت ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھا۔ بغداد کی تباہی ایک ایسا عظیم سانحہ (Tragedy) تھی جس سے عالم اسلام میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔
خلیفہ مستعصم کے قتل اور سقوط بغداد کے ساتھ مسلمانوں کی مرکزی خلافت کا بھی خاتمہ ہو گیا اگرچہ دنیا کے اطراف و اکناف میں مسلمانوں کی کچھ خودمختار و نیم خودمختار ریاستیں قائم رہیں مگر مرکزی خلافت کے قیام پانی تک تقریباً چار عشرے امت مسلمہ حیران و سرگرداں رہی اور بالآخر 699ھ میں خلافت کا سہرا عثمانیوں کے ماتھے پر بننا مقدر ہوا۔
یہ بھی عجیب قدرت ہے کہ خود چنگیز خان کی نسل سے لوگ مسلمان ہوئے اور انہی لوگوں نے جس طرح اسلام اور مسلمانان عالم کا قلع قمع کیا اسی طرح اسلام کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیا۔ بقول شاعر :
ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
حافظ ابن کثیر 694ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں کہ ”اس سال چنگیز خان کے پڑپوتے غازان جو تاتاریوں کا بادشاہ بنا نے امیر نوزون کے ہاتھوں اعلانیہ اسلام قبول کیا اور اکثر و بیشتر تاتاریوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ غازان نے اپنا (اسلامی) نام محمود رکھا، جمعہ کے خطبہ میں شرکت کی، بت خانے گرا دیے گئے، ان پر جزیہ لگایا گیا، دوسرے علاقوں کی لوٹی ہوئی چیزیں واپس کر دی گئیں اور عدل و انصاف کا قیام کیا گیا۔ جب لوگوں نے تاتاریوں کے ہاتھ میں تسبیحیں دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا شکر ادا کیا۔“
البدایة والنہایة