قیامت کی نشانی : بیت المقدس کی فتح
عن عوف بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : أمسكوا منها تكون قبل الساعة … فتح بيت المقدس
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی چھ علامتیں یاد رکھو۔ بیت المقدس (قبلہ اول جو فلسطین میں ہے) فتح ہوگا۔“
بخاری : کتاب الجزية : باب ما يحذر من القدر (3176) ابو داؤد (5000) ابن ماجہ (4091) حاکم (466/4) شرح السنة (430/7) احمد (34/6)
باقی پانچ یہ ہیں :
(1) میری موت۔
(2) ہر گھر میں فتنے کا داخل ہونا۔
(3) ”موت“ کی بیماری عام ہوگی۔
(4) مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہو جانا کہ بندہ سود بینار لے کر بھی راضی نہ ہوگا۔
(5) رومی تمہارے ساتھ دھوکہ کریں گے اور اسی (80) جھنڈے لے کر تمہاری طرف چڑھائی کریں گے جن میں سے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار کا لشکر ہوگا۔
فوائد :
بیت المقدس، یہود و نصاری کے زیر کنٹرول تھا جو ملک فلسطین میں واقع ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو مستقل قبلہ بنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت 18 ہجری میں پوری ہوئی اور مسلمانوں نے بیت المقدس یہود و نصاری سے آزاد کروالیا۔ 1099ء میں صلیبیوں نے بھرپور یلغاروں کے ساتھ بیت المقدس مسلمانوں سے چھین لیا پھر تقریباً 90 سال بعد 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے پیہم معرکہ آرائیوں کے بعد بیت المقدس صلیبیوں سے آزاد کروالیا مگر افسوس کہ اب بیت المقدس یہودیوں کے قبضے (Domination) میں ہے اور قیامت کے قریب جب امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کا ظہور ہوگا اس وقت وہ بزور شمشیر اسے دوبارہ آزاد کروائیں گے اور ایک جنگ عظیم برپا ہوگی جس کے نتیجے میں دین اسلام غالب ہوگا۔