قیامت کی نشانی : بدعملی پھیل جائے گی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : بدعملی پھیل جائے گی

عن أبى أمامة الباهلي رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لينقضن عرى الإسلام عروة عروة فكلما انتقضت عروة تشبث الناس بالتي تليها وأولهن نقضا الحكم وآخرهن الصلاة
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی کڑیاں یکے بعد دیگرے ٹوٹتی جائیں گی جب ایک ٹوٹے گی تو لوگ دوسری پکڑ لیں گے۔ سب سے پہلے حکم (امر خلافت) اور سب سے آخر میں اقامت صلوٰۃ (کی کڑی) ٹوٹے گی۔“
[احمد (316/5) حاکم (104/4) طبرانی کبیر (98/8)]
ابن فروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم : اسلام کی کڑیاں درجہ بدرجہ ٹوٹتی جائیں گی جس طرح رسی (زنجیر) وقفہ وقفہ ٹوٹتی ہے۔
[احمد (317/4)]
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يتقارب الزمان وينقص العمل
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ زمانہ قریب آ جائے گا اور عملوں میں کوتاہی پیدا ہو جائے گی۔“
[بخاری: کتاب الفتن: باب ظهور الفتن (7061) مسلم (157) احمد (687/2) ابو داؤد (4255) ابن ماجہ (4096)]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ آدمی مسجد (کے پاس) سے گزرے گا مگر اس میں دو رکعتیں (تحیۃ المسجد) ادا نہیں کرے گا۔“
[ابن خزیمہ (283/2) السلسلة الصحيحة (253/2) بزار (147/4) مجمع الزوائد (329/7)]
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان میں اپنے دین (کی حفاظت) پر صبر کرنے والا اس شخص کی مانند ہوگا جو آگ کے انگارے کو اپنی مٹھی میں تھامنے والا ہے۔“
[ترمذی: کتاب الفتن: باب الصابر على دينه في الفتن كالقابض على الجمر (2260)]
فوائد
(1) اسلامی تعلیمات سے کنارہ کشی قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) یہ نشانی وقوع پذیر ہو چکی ہے۔
(3) اسلامی تعلیمات سے بے رخی آہستہ آہستہ (By and By) شروع ہوگی اور بالآخر ایسا زمانہ آ جائے گا کہ روئے زمین پر «الله الله» پکارنے والا بھی کوئی فرد باقی نہ رہے گا اور نہ ہی وقت ہوگا جب حضرت اسرائیل کو صور پھونکنے کا حکم دے دیا جائے گا۔
(4) اسلامی تعلیمات میں سب سے پہلے نظام امارت و خلافت کی کڑی ٹوٹے گی اور تاریخ گواہ ہے کہ فی الواقع خلافت اسلامیہ کا انقطاع خودمختار و نیم خودمختار ریاستوں کے قیام سے شروع ہوا اور بیسویں صدی کے آغاز میں مصطفیٰ کمال جیسے عجوبہ روزگار نے عثمانی خلافت کے انقراض کے اعلان کے ساتھ اس کی رہی سہی کسر بھی اپنے ”کمال لا جواب“ سے نکال باہر کی۔
(5) بدعملی کے فروغ کے لیے سب سے آخر میں اقامت صلوٰۃ جیسے اہم فریضے پر تیشہ چلایا جائے گا اور فی الواقع دامے، درے، سخنے اور قد سے یہ کارروائی بھی جاری ہے۔
(6) بدعملی کی ایک خفیف سی مثال یہ پیش کی گئی ہے کہ لوگ مساجد کے قرب و جوار میں ہونے کے باوجود اس میں فرائض و نوافل کا اہتمام نہیں کریں گے بلکہ کئی ایسے زعما بھی دیکھنے کو ملیں گے جو مسجد کی بنیاد اور رسم افتتاح میں پیش پیش ہوں گے مگر اللہ کے حضور ایک سجدہ پیش کرنا بھی نصیب نہ ہوگا۔
(7) بدعملی کے مرتکب صرف جہلا اور عوام ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے علماء اور خواص بھی بدعملیوں کے شکار ہیں۔
(8) ہمیں ہر ممکن جدوجہد سے قیامت کی مذکورہ بری علامت سے اجتناب کی فکر کرنی چاہیے۔