قیامت کی نشانی : امت مسلمہ (صحابہ رضی اللہ عنہم) کا ظہور :
عن أنس بن مالك رضى الله عنه أنه قدم على الوليد بن عبد الملك فسأله : ماذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر بها الساعة ؟ قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أنتم والساعة كهاتين
اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کے بارے میں کیا خبر دی تھی؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان سنا تھا کہ میں اور قیامت اس طرح ہیں (جس طرح شہادت اور درمیان والی انگلی ہے)۔
(مسند احمد : 13336)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان گرامی سنا جبکہ آپ بر سر منبر تھے: ”خبردار! تم لوگ پہلی امتوں کے مقابلے میں اس طرح ہو جیسے نماز عصر سے غروب شمس (کے درمیان وقت ہے)۔
یہودیوں کو تورات دی گئی اس پر انہوں نے عمل کیا اور جب نصف دن گزر گیا تو وہ عاجز آگئے اور انہیں ایک ایک قیراط (اجرت) دی گئی۔ عیسائیوں کو انجیل دی گئی، اس پر وہ نماز عصر تک عمل پیرا رہے پھر عاجز آگئے تو انہیں بھی ایک ایک قیراط (وزن یا مساحت کا پیمانہ) دیا گیا۔ پھر تمہاری باری آگئی اور تمہیں قرآن دیا گیا جس پر تم نے (عصر سے) مغرب تک عمل کیا اور تمہیں دو دو قیراط دیے گئے جس پر یہودی اور عیسائی واویلا کرنے لگے کہ یا رب! انہوں نے عمل تھوڑا کیا اور اجر زیادہ لیا؟“
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”کیا میں نے تمہارے (طے شدہ) اجر سے ظلم کرتے ہوئے تم کو اجرت تھوڑی دی ہے؟ “ انہوں نے کہا نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ میرا فضل ہے اور میں جسے چاہوں اپنے فضل سے نوازتا ہوں۔ “
ایک روایت میں ہے : ”تمہاری عمر (مدت) پہلی امتوں کے مقابلے میں اس قدر ہے جس قدر عصر سے غروب شمس تک (کی مدت) ہے۔ “
(بخاری : 7467 ، ترمذی : 2871)
فوائد :
1۔ بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت مسلمہ کا ظہور ہو چکا ہے۔
2۔ امت مسلمہ کا ظہور قیامت کی ایک نشانی ہے۔
3۔ دنیا کی عمر کا بڑا حصہ بیت چکا ہے اور عمر کا تھوڑا حصہ باقی ہے۔ (یہ محض ادنیٰ سا اشارہ ہے قطعی بات نہیں)۔
4۔ امت مسلمہ یہود و نصاریٰ کے بعد آخری اسلامی ملت ہے۔
5۔ یہود و نصاریٰ کے مقابلے میں امت مسلمہ کو وقت قلیل مگر اجر کثیر سے نوازا گیا۔