قیامت کی نشانی : امت مسلمہ شرک میں مبتلا ہو جائے گی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : امت مسلمہ شرک میں مبتلا ہو جائے گی

وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تضطرب أليات نساء دوس على ذي الخلصة وذو الخلصة : طاغية دوس التى كانوا يعبدونها فى الجاهلية
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ دوس قبیلے کی عورتوں کے سرین ذوالخلصہ پر حرکت کریں گے۔ ذوالخلصہ دوس قبیلے کا بت تھا جس کی وہ جاہلیت میں عبادت کرتے تھے۔“
[بخاری: کتاب الفتن : "باب تغير الزمان حتى تعبد الأوثان (7116) مسلم (2906) احمد (271/2 – 308) مصنف عبد الرزاق (20795) ابن حبان (2838/15) كتاب السنة لابن ابى عاصم (381)]
عن ثوبان رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين وحتى تعبد قبائل من أمتي الأوثان
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ میری امت کے قبائل مشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں اور جب تک کہ میری امت کے قبائل بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔“
[ احمد 350/5 – 357) ابو دارد و كتاب الفتن و الملاحم باب ذکر الفتن ودلائلھا]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ دن اور رات ختم نہیں ہوں گے حتی کہ لات اور عزیٰ کی پرستش کی جائے گی۔“
❀ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں تو سمجھتی تھی کہ اس آیت کے نزول کے بعد دین مکمل ہو جائے گا (اور شرک کی گنجائش نہیں رہے گی)۔
اس ذات باری تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے تا کہ وہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اگر چہ (یہ بات) مشرکین کو ناگوار گزرے۔ (الصف: 9)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک اللہ چاہے گا دین سر بلند رہے گا پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو گا پھر وہ لوگ رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر نہیں ہو گی اور وہ اپنے (کافر) آباؤ اجداد کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔“
[مسلم: کتاب الفتن : باب لا تقوم الساعة حتى تعبد دوس ذالخلصة (2907)]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کی ایک دعا (لازمی) قبول ہوتی ہے اور ہر نبی نے اپنی دعا (دنیا) میں جلدی کر لی جبکہ میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کے لیے روز قیامت کے لیے محفوظ کر رکھا ہے اور میری دعا انشاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کے حق میں قبول ہو گی جو اس حالت میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا تھا۔“
[مسلم كتاب الايمان باب قول النبى أنا أول الناس يشفع (199)شرح السنة]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
جب یہ آیت نازل ہوئی:
﴿ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ﴾
وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے پاک رکھا تو ان لوگوں کے لیے امن ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔
(الأنعام: 82)
تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا کہ ہم میں سے کون ہے جس نے (کبھی ظلم نہیں کیا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس ظلم کی وضاحت میں یہ آیت نازل فرمائی:
﴿ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ﴾
بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔
(لقمان: 13)
[بخاری: کتاب الایمان : باب ظلم دون ظلم (32)]
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی طرف نکلے تو ایک (بیری کے) درخت کے پاس سے گزر ہوا جسے ذات أنواط کہا جاتا تھا اور مشرکین اس پر اپنا اسلحہ (بطور برکت) لٹکاتے تھے۔ (چند صحابہ جو نو مسلم تھے) انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! جس طرح ان (مشرکوں) کا ذات أنواط ہے اس طرح آپ ہمارے لیے بھی (کسی درخت کو) ذات أنواط مقرر کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بات سن کر) فرمایا: ”اللہ اکبر! یہ تو ایسے ہے جیسے بنی اسرائیل نے کہا تھا: (اے موسیٰ!) ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کر دیں جس طرح ان (مشرکوں) کے معبود ہیں۔ (سنو!) البتہ تم ضرور پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے۔“
[احمد (218/5) ترمذی : کتاب الفتن : "باب ماجاء لتركين سنن من كان قبلكم (2180) ابن حبان (248/9) حمیدی (848) ابو يعلى (30/3) طیالسی (191) عبد عبد الرزاق]
فوائد
(1) امت مسلمہ کا شرک میں مبتلا ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) قیامت سے پہلے ذوالخلصہ، لات اور عزیٰ وغیرہ (بتوں) کی پھر سے عبادت شروع کر دی جائے گی حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ان تمام بتوں کا قلع قمع فرمایا تھا۔
(3) امت مسلمہ کی عورتیں شرک میں زیادہ مبتلا ہوں گی اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ دیا کرو کیونکہ تم (عورتیں) جہنم میں بکثرت دکھائی گئی ہو۔“
(4) جنت میں داخلے کے لیے شرک کی نجاست سے پاک ہونا ضروری اور لازمی شرط ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ﴾
”بے شک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس پر جنت حرام کر دی گئی ہے۔“
(المائدة: 72)
(5) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر گنہگار امتی کی سفارش کریں گے مگر مشرک کی سفارش نہیں کریں گے۔
(6) بعض مسلمان قبائل اور جماعتیں دین اسلام سے کنارہ کشی کرتے ہوئے مشرکین سے جا ملیں گے اور ان کے ساتھ بتوں کی پرستش کریں گے۔
(7) کچھ لوگ ایک حدیث کی بنا پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ امت مسلمہ شرک میں ہرگز مبتلا نہیں ہو سکتی اور وہ حدیث یہ ہے:
”والله ما أتخوف عليكم أن تشركوا بعدي ولكن أخاف عليكم أن تنافسوا فيها“
اللہ کی قسم! مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ نہیں کہ تم شرک کرو گے بلکہ یہ خدشہ (ضرور) ہے کہ تم ایک دوسرے کے مقابلے پر دنیا میں رغبت کرو گے۔
[بخاری : كتاب الحيض : باب ترك الحائض الصوم (304)]
حافظ ابن حجر مذکورہ اعتراض کا یہ جواب دیتے ہیں:
”وان أصحابه لا يشركون بعده فكان ذلك“
بے شبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ شرک نہیں کریں گے۔
[ بخاري : كتاب الجنائز : باب الصلواة على الشهيد(1344)]
اور فی الواقع اسی طرح ہوا کہ کسی صحابی نے بھی شرک نہیں کیا، لہذا حدیث میں صحابہ کرام سے خطاب ہے کہ کوئی صحابی شرک نہیں کرے گا ورنہ دوسرے مسلمانوں کے لیے تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے قبائل مشرکین سے مل جائیں گے اور بتوں کی عبادت کریں گے۔ نیز اس اعتراض کا ایک دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر امت مسلمہ شرک میں گرفتار نہیں ہو گی بلکہ ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہیں گے جو توحید پر قائم رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کو بھی دعوت توحید پیش کرتے رہیں گے اور جب وہ موحدین بھی آخرت سدھار جائیں گے تو بلا تاخیر قیامت بر پا ہو جائے گی۔
[تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری (211/3 – 82/13) ارشاد الساری (440/2)]
علامہ بدر الدین عینی حنفی نے بھی یہی جواب اختیار کیا ہے:
” معناه على مجموعكم لان ذلك قد وقع من البعض والعياذ بالله تعالى“
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مجموعی طور پر امت مسلمہ شرک کی راہ اختیار نہیں کرے گی کیونکہ بعض لوگ تو شرک میں واقع ہو چکے ہیں، اللہ (شرک سے) اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین)
[عمدة القارى (157/8)]
(8) ذوالخلصہ جنوبی طائف میں مقام زہران میں واقع تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق فی الواقع مسلمان اس کی پرستش کے فتنے میں مبتلا ہو چکے تھے کہ دریں اثنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک صالح اور مصلح بندے محمد بن عبد الوہاب کو کھڑا کیا جس نے عبد العزیز بن محمد بن سعود کے تعاون سے دعوت توحید اور طاقت کے ساتھ اس درگاہ کو اکھاڑ پھینکا اور لوگوں کو شرک سے نجات دی۔ ابھی کچھ چنگاریاں باقی تھیں جو از سر نو شرک کی آگ روشن کرنا چاہتی تھیں کہ عبد العزیز بن عبد الرحمان آل سعود نے اس کا بھی قلع قمع فرما دیا۔
[ تفصيل كے ليے ديكهئے الجماعة (253/1)]
(9) دوسرے ممالک کی طرح ملک پاکستان میں بھی شرک کی بیماری طاعون کی طرح ہر طرف پھیل چکی ہے۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں دربار، مزار اور درگاہیں بن چکی ہیں جہاں رکوع و سجود کے ساتھ حج اور طواف تک غیر اللہ کے لیے بجا لائے جاتے ہیں، غیر اللہ کے لیے نذریں، نیازیں پیش کی جاتی ہیں، مرادیں اور دعائیں مانگی جاتی ہیں، آتے جاتے گزرتے ہوئے سلام میں پیش کی جاتی ہیں، اتنا اللہ کا خوف نہیں جتنا ”مردوں“ کا خوف دل میں بٹھایا جاتا ہے اور ستم بر ستم یہ کہ حکومت ان کی سرپرستی کرتی ہے، سیکورٹی کا بندوبست کر کے عبادت کا موقع مہیا کرتی ہے اور بلا محنت ہر سال لاکھوں کروڑوں کی آمدنی (income) وصول کرتی ہے اور اگر کوئی مخلص موحد اس کاروبار شرک کے خلاف حق کی بات کرے تو اسے گستاخ قرار دے کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ (نعوذ باللہ من ذلك)
محترم امیر حمزہ صاحب اپنی ایک کتاب میں سلطان باہو کے مزار کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں:
اجازت پا کر جو میں اندر گیا تو وہاں قبریں ہی قبریں تھیں جنہیں میں نے گنا تو وہ انیس تھیں، ان قبروں میں سے بعض پر لکڑی کے بت رکھے ہوئے تھے، یہ بت بھی خواتین کے تھے، ایک بت کی بیعت یوں تھی کہ عورت نے بچہ اٹھایا ہوا ہے۔ ایک عورت تھی، اس نے لکڑی کا کھلونا پڑا، اسے وہ اپنے جسم پر پھیرنے کے بعد اپنے بچوں کے جسم پر پھیرنے لگی۔
مزید رقم طراز ہیں: اسی طرح دربار کے پیچھے ایک بیری کا درخت ہے، اس درخت کے نیچے مرد اور عورتیں جھولیاں اور دامن پھیلا کر بیٹھے ہوتے ہیں، جس کی جھولی میں پستہ گر جائے وہ سمجھتا ہے مجھے بیٹی مل گئی، جس کے دامن میں پھل لگنے کے موسم میں بیر گر گیا وہ سمجھتا ہے لڑکا مل گیا۔
(10) ہمیں ہر ممکن کوشش کے ساتھ شرک کی آلودگی سے مبرا ہونا چاہیے تا کہ ہم ان بد بخت لوگوں کی فہرست میں داخل ہونے سے محفوظ ہو جائیں جن پر مذکورہ پیش گوئی صادق آتی ہے اور جو روز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بھی محروم ہو کر اوندھے منہ جہنم میں گرائے جائیں گے۔