قیامت کی نشانی : ارض حجاز سے آگ کا روشن ہونا
وعن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى تخرج نار من أرض الحجاز تضيء أعناق الإبل ببصرى
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم ہونے سے پہلے ایک آگ نکلے گی جس سے بصرى (شام کا شہر) میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی۔“
بخاری : کتاب الفتن : باب خروج النار (7118) مسلم (2902)
عن أبى ذر رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ليت شعري متى تخرج نار من اليمن من جبل الورق تضيء منها أعناق الإبل ببصرى تضيء النهار
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کاش مجھے علم ہو کہ یمن کے جبل الورق (مقام) سے آگ کب نکلے گی جس سے بصرى میں اونٹوں کی گردنیں اس طرح روشن ہو جائیں گی جس طرح دن کی روشنی میں ہوں۔“
احمد (189) موارد الظمان (1891)
فوائد :
(1) ارض حجاز سے آگ کا ظاہر ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
(2) 654ھ میں یہ نشانی ظاہر ہو چکی ہے جیسا کہ امام نووی فرماتے ہیں: ہمارے زمانے میں مدینے کے مشرقی جانب مدینہ کے پیچھے سے ایک بہت بڑی آگ روشن ہوئی تھی۔ ملک شام اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کو متواتر اس کا علم ہے۔
شرح نووی علی مسلم
(3) حافظ ابن کثیر، ابن حجر، مفسر قرطبی وغیرہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ 654ھ میں یہ نشانی ظاہر ہو چکی ہے۔
البدایة والنہایة (119/13) النہایة فی الفتن (14/1) التذکرة (ص : 527) فتح الباری (193)
(4) بعض روایات میں ہے کہ ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو حشر کی طرف ہانک لے جائے گی تو یہ مذکورہ آگ کے علاوہ ہوگی جس کا ظہور قیامت سے متصل پہلے بھی ہوگا۔