قیامت کی نشانی : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانیاں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات :۔

عن عوف بن مالك رضي الله عنه قال أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو في خدر له فقلت أدخل فقال أدخل قلت أكلي قال كلك فلما جلست قال أمسك ستا تكون قبل الساعة أولهن وفاة نبيكم قال فبكيت
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ میں اجازت لے کر اندر جا بیٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”قیامت سے پہلے چھ (علامتیں) یاد رکھو جن میں سے پہلی تمہارے نبی کی وفات ہے۔ “
(بخاری : کتاب الجزية والموادعة : باب ما يحذر من القدر (3176) ابو داؤد (5000) ابن ماجة (4091) حاكم (466/4) شرح السنة (430/7)
عن واثلة بن الأسقع رضي الله عنه يقول خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أتزعمون أني من آخركم وفاة ألا إني من أولكم وفاة وتتبعوني أفنادا يهلك بعضكم بعضا
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف نکلے اور فرمایا : ”کیا تم یہ خیال رکھتے ہو کہ میں تم سب سے آخر میں وفات پاؤں گا؟ خبردار! میں تو تم سے پہلے ہی وفات پا جاؤں گا پھر تم گروہ در گروہ میرے پیچھے آؤ گے جبکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرو گے۔ “
(احمد : 149/4)

فوائد :

1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات قیامت کی ایک علامت ہے۔
2۔ دنیا دار فانی ہے جس میں دوسرے انسانوں کی طرح انبیاء کی موت بھی برحق ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
”(اے نبی!) ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشگی (کی زندگی) نہیں دی۔ جب آپ فوت ہونے والے ہیں تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے؟ (بلکہ) ہر جان موت کو چکھنے والی ہے۔ “
(الأنبياء : 34 – 35)
3۔ صحابہ کرام بھی یہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو جائیں گے البتہ بعض صحابہ کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کم از کم ہمارے بعد سب سے آخر میں فوت ہوں گے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے ان کی تردید فرمائی بلکہ میں تو تم سے پہلے فوت ہونے والا ہوں۔
4۔ دنیا ایک قید خانہ اور آزمائش کا گھر ہے جس سے گزرنے کے لیے موت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے اور ہر انس و جن کو لامحالہ اس سے گزرنا پڑتا ہے۔
5۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا، جھک کر بوسہ دیا اور روتے ہوئے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کریں گے سوائے اس موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی لہذا آپ وفات پا چکے ہیں پھر آپ باہر تشریف لائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے (کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت نہیں ہوئے) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ مگر عمر رضی اللہ عنہ نہ مانے پھر آپ نے کہا کہ بیٹھ جاؤ مگر عمر رضی اللہ عنہ نہ مانے بالآخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت (خطبہ) پڑھا تو تمام لوگ آپ کی طرف متوجہ ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ آئے۔
آپ نے فرمایا : اما بعد! اگر تم میں سے کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور اگر کوئی اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ باقی رہنے والا ہے اور وہ کبھی مرنے والا نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اللہ کے رسول ہیں، ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں اگر ان کا انتقال ہو جائے یا وہ شہید ہو جائیں تو کیا تم اسلام سے مرتد ہو جاؤ گے؟ اور جو کوئی مرتد ہو جائے تو وہ ہرگز اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ “
(آل عمران : 144)
قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں نازل کی ہے۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت جاری تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! یہ آیات سن کر میرے پاؤں میں سکت نہ رہی اور میں وہیں زمین پر گر گیا۔
(بخاری : كتاب الجنائز : باب الدخول على الميت بعد الموت اذا ادرج في اكفانة (4454 ۔ 1242)