قیامت کی نشانی :خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانیاں :خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور :۔

عن أنس بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال بعثت أنا والساعة كهتين وأشار بالسبابة والوسطى
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جس طرح یہ دو (انگلیاں) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیان والی انگلی ملا کر اشارہ فرمایا۔ “
(بخاری : 6504 ، مسلم : 2950 )
عن جابر رضي الله عنه قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله وأثنى عليه بما هو أهله ثم قال أما بعد فإن أصدق الحديث كتاب الله وأن أفضل الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة ثم يرفع صوته وتحمر وجنتاه ويشتد غضبه إذا ذكر الساعة كأنه منذر جيش قال ثم يقول أتتكم الساعة بعثت أنا والساعة هكذا وأشار بإصبعيه السبابة والوسطى صبحتكم الساعة ومستكم من ترك مالا فلأهله ومن ترك دينا أو ضياعا فإلي وعلي
”اما بعد! سب سے سچی بات اللہ کی کتاب (قرآن) ہے، سب سے افضل راستہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راستہ ہے، سب سے بدتر چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر قیامت کا ذکر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز بلند ہو گئی، رخسار مبارک سرخ اور غصہ شدید ہو گیا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (لوگو!) قیامت آیا چاہتی ہے مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت شہادت اور درمیان والی انگلی ملا کر اشارہ کیا بس قیامت صبح کو آئی یا شام کو (یعنی اتنی قریب ہے) جس شخص نے کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے قرض یا مسکین اولاد چھوڑی وہ میرے ذمہ ہے۔ “
(مسلم : 867 ، نسائی : 1577)
عن جبير بن مطعم رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن لي أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا الماحي الذي يمحى الله بي الكفر وأنا العاقب قال معمر قلت للزهري ما العاقب قال الذي ليس بعده نبي
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میرے کچھ نام ہیں ! میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں، احمد بھی ہوں، حاشر بھی ہوں، میرے قدموں پر لوگ جمع کیے جائیں گے۔ میں ماحی ہوں، میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کفر کا خاتمہ فرمائیں گے اور میں عاقب بھی ہوں۔ “
(بخاری : 3896 ، مسلم : 2355)

معمر راوی نے امام زہری سے پوچھا : عاقب کا کیا معنی ہے؟ فرمایا: ”جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ “
بعض روایات میں یہ اضافہ ہے کہ : ”میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ “
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ : ”میری اور قیامت کی مثال ایسے ہے جیسے قریب سبقت (برابر کے) گھوڑے ہوں۔ “ پھر فرمایا: ”میری اور قیامت کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی قوم اپنے کسی آدمی کو جاسوس بنا کر بھیجتی ہے (کہ وہ انہیں اگلے حالات سے مطلع کرے) اور جب وہ (دشمن کی) پیش قدمی کا خطرہ محسوس کرتا ہے تو اپنے کپڑے کو ہلا کر خبردار کرتا ہے کہ تم گھیرے میں ہو، تم خطرے میں ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی اسی کی طرح (تمہیں قیامت کے بارے میں) مطلع کرنے والا ہوں۔ “

فوائد :

1۔ قیامت کا وقوع انتہائی قریب ہے۔
2۔ بعثت محمدی علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے۔
3۔ وقوع قیامت کا حتمی علم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی نہیں تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان علامات سے اندازہ لگایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دی تھیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
”(اے نبی!) آپ کہہ دیں کہ اس قیامت کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے۔ “
(الأعراف : 187)
4۔ ہر شخص کو قیامت کی فکر کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ
”لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آ لگا ہے جبکہ وہ اعراض کیے ہوئے ہیں۔ “
(الأنبياء : 1)
5۔ جس طرح دو انگلیوں (یعنی درمیان والی اور شہادت والی) کے درمیان کوئی تیسری انگلی نہیں اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور یہ مسئلہ قرآن و حدیث کے صریح نصوص سے بھی ثابت ہے۔
مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہے :
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ
”(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ “
(الأحزاب : 40)
مذکورہ آیت میں خاتم النبیین کے لفظ استعمال کیے گئے ہیں۔ خاتم مہر کو کہتے ہیں اور مہر آخری عمل کو ہی کہا جاتا ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت و رسالت کا خاتمہ فرما دیا گیا ہے۔ آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ دجال و کذاب ہو گا نبی ہرگز نہیں۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے پھر انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور قیامت کے قریب انہیں دوبارہ نازل کیا جائے گا تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں بلکہ امتی بن کر آئیں گے لہذا نزول عیسیٰ علیہ السلام عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں۔