قیامت کی نشانی :انشقاق القمر (چاند کا پھٹ جانا)

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانیاں :انشقاق القمر (چاند کا پھٹ جانا) :۔

اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ (1) وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ
”قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔ “
(القمر : 1 – 2)
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن أهل مكة سألوا النبي صلى الله عليه وسلم أن يريهم آية فأراهم انشقاق القمر مرتين
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ”اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزے کا مطالبہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں چاند کا دو ٹکڑے ہوتا دکھا دیا اور ایسا دو مرتبہ ہوا۔ “
(بخاری : 3637 ، مسلم : 2800)
عن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصار فرقتين فرقة على هذا الحبل وفرقة على هذا الحبل فقالوا سحرنا محمد صلى الله عليه وسلم فقالوا إن كان سحرنا فإنه لا يستطيع أن يسحر الناس كلهم
حضرت جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور دوسرا ٹکڑا اس (دوسرے) پہاڑ پر (چلا گیا)۔ لوگوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر جادو کر دیا ہے مگر اس کا جادو ساری دنیا کے انسانوں پر نہیں چل سکتا۔ “
(احمد : 116/4 ، ترمذی : 3289)
ایک روایت میں یہ ہے کہ :
”یا اللہ گواہ ہو جائے“
اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ :
”لوگو! گواہ رہنا! “

فوائد :

1۔ چاند کا دو ٹکڑے ہونا ایک امر حقیقی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ لاجواب تھا۔
2۔ انشقاق قمر کو قیامت کی نشانی کہا گیا ہے۔
3۔ کفار نے اسے جادو کہہ کر انکار کر دیا تھا۔
4۔ انشقاق قمر دو مرتبہ ہوا۔
5۔ قیامت کی یہ نشانی واقع ہو چکی ہے۔