مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون جہنم اور اہلِ جہنم کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس میں قرآنِ مجید کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں جہنم سے پناہ مانگنے کی اہمیت، جہنم سے ڈرانے کی حکمت، جنت و جہنم کے باہمی مکالمے، اور چند ایسے اعمال کا ذکر کیا جائے گا جو انسان کو جہنم کے قریب لے جاتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہم عذابِ جہنم سے ڈریں، اللہ کی اطاعت اختیار کریں، اور اپنی اصلاح کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں آگ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
جہنم اور اہلِ جہنم: قرآن و سنت کی روشنی میں
1) جہنم سے پناہ طلب کرنا
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی صفات میں ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ جہنم کے عذاب سے ہمیشہ پناہ مانگتے ہیں:
﴿وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ إِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا. إِنَّہَا سَآئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا﴾ (الفرقان25:66-65)
ترجمہ: “اور (اللہ کے نیک بندے) وہ ہیں جو دعا کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہم سے جہنم کا عذاب دور ہی دور رکھ، یقیناً اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔ بے شک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔”
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جہنم سے پناہ کی دعا اس اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھائی جاتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
(( اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ،وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ،وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ)) (صحیح مسلم:590)
ترجمہ: “اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور زندگی و موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔”
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے:
﴿رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (صحیح البخاری:6389)
ترجمہ: “اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔”
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ سَأَلَ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، قَالَتِ الْجَنَّۃُ : اَللّٰہُمَّ أَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ،قَالَتِ النَّارُ : اَللّٰہُمَّ أَجِرْہُ مِنَ النَّارِ )) (صحیح الجامع:6275)
ترجمہ: “جو شخص اللہ سے تین بار جنت مانگے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما دے۔ اور جو شخص تین بار آگ سے پناہ مانگے تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اسے آگ سے پناہ دے دے۔”
یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ جہنم سے پناہ مانگنا محض ایک نفلی عمل نہیں، بلکہ اہلِ ایمان کی نمایاں صفت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل تعلیم ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اس عادت کو اپنانا چاہیے۔
2) جہنم سے ڈرانا
قرآن و سنت میں جہنم کے تذکرے کا مقصد یہ ہے کہ بندہ غفلت سے نکلے، گناہوں سے بچے، اور صراطِ مستقیم پر قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْہُہُمْ فِیْ النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یَا لَیْتَنَا أَطَعْنَا اللّٰہَ وَأَطَعْنَا الرَّسُوْلاَ ﴾ (الأحزاب33:66)
ترجمہ: “جس دن ان کے چہرے آگ میں پلٹے جائیں گے تو وہ کہیں گے: کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور رسول کی بات مانی ہوتی!”
یہ حسرت وہاں کوئی فائدہ نہیں دے گی، اس لیے نجات کا راستہ یہی ہے کہ دنیا میں ہی اطاعت اختیار کر لی جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِیْ النَّارِ عَلیٰ وُجُوْہِہِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ﴾ (القمر54:48)
ترجمہ: “جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے (تو کہا جائے گا): جہنم کی لپٹ کی تپش اور عذاب کا مزہ چکھو!”
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا، اس سے ڈرتے ہوئے چہرہ پھیر لیا، پھر فرمایا:
(( اِتَّقُوْا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ ، فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ )) (صحیح البخاری:6563، صحیح مسلم:1016)
ترجمہ: “آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا آدھا حصہ صدقہ کر کے ہی۔ اور جس کے پاس یہ بھی نہ ہو وہ کوئی اچھی بات کہہ کر ہی (اپنے لیے نجات کا سبب بنا لے)۔”
اسی طرح جب یہ آیت نازل ہوئی:
﴿وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ﴾
ترجمہ: “اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔”
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جمع کر کے واضح الفاظ میں ہر خاص و عام کو پکارا کہ اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، حتیٰ کہ اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی فرمایا:
( یَا فَاطِمَۃُ! أَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ،فَإِنِّیْ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ) (صحیح البخاری:2753،4771، صحیح مسلم:204 واللفظ لمسلم)
ترجمہ: “اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا۔”
اور قیامت کے دن جہنم کی ہیبت کا نقشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا:
(( یُؤْتٰی بِالنَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،لَہَا سَبْعُوْنَ أَلْفَ زِمَامٍ،مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ یَجُرُّوْنَہَا)) (صحیح مسلم:2842)
ترجمہ: “قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔”
3) جنت اور جہنم کے درمیان تکرار
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت اور جہنم کے درمیان تکرار ہوئی۔ جنت نے کہا کہ اس میں کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے، اور جہنم نے کہا اس میں ظالم اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جہنم کو اپنے عذاب کا ذریعہ اور جنت کو اپنی رحمت کا ذریعہ قرار دیا، اور فرمایا کہ دونوں کو بھرنا لازم ہے۔ (صحیح البخاری:7449، صحیح مسلم:2846)
اس حدیث سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ ہمیں خصوصاً دو چیزوں سے بچنا ہے:
◈ ظلم
◈ تکبر
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اِتَّقُوْا الظُّلْمَ ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )) (أحمد، طبرانی وغیرہ۔ صحیح الجامع الصغیر للألبانی:101)
ترجمہ: “ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔”
اور فرمایا:
(( لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ )) (صحیح مسلم:91)
ترجمہ: “وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں ذرّہ برابر تکبر ہوگا۔”
4) جہنمی گروہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا، ان کی اولاد سامنے آئے گی، پھر حکم ہوگا کہ اپنی اولاد میں سے جہنمی گروہ کو الگ کرو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میں سے ننانوے نکالو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھبرا گئے کہ پھر باقی کون بچے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت پچھلی امتوں کے مقابلے میں ایسے ہوگی جیسے سیاہ بیل میں ایک سفید بال۔ (صحیح البخاری:6529)
ترجمہ (خلاصۂ مفہوم): یعنی امتِ محمدیہ کی تعداد دوسری امتوں کے مقابلے میں کم ہو گی، مگر ایمان والوں کیلئے امید اور بشارت موجود ہے—شرط یہ ہے کہ بندہ ہدایت پر قائم رہے۔
5) سب سے پہلے جہنم کی آگ کن لوگوں سے بھڑکائی جائے گی؟
جہنم کے عذاب سے ڈرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ بظاہر بڑے بڑے نیک کام کرتے ہیں، مگر اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے وہ اعمال ان کے لیے نجات کے بجائے ہلاکت بن جاتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک شہید ہوگا… اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا… پھر پوچھے گا: تم نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں تیرے راستے میں لڑ کر شہید ہوا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے اس لیے قتال کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے… پھر اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
پھر ایک عالم/قاری لایا جائے گا… وہ کہے گا: میں نے علم حاصل کیا، لوگوں کو سکھایا، قرآن پڑھا… اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے اس لیے کیا کہ تجھے عالم اور قاری کہا جائے… پھر اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
پھر ایک مالدار لایا جائے گا… وہ کہے گا: میں نے تیری رضا کے لیے خرچ کیا… اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے اس لیے خرچ کیا کہ تجھے سخی کہا جائے… پھر اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، الإمارۃ باب من قاتل للریاء والسمعۃ:1905)
پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا:
(( یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ !أُولٰئِکَ الثَّلاثَۃُ أَوَّلُ خَلْقِ اللّٰہِ تُسَعَّرُ بِہِمُ النَّارَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (سنن الترمذی:2382۔ وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “اے ابو ہریرہ! یہی تین لوگ اللہ کی مخلوق میں سے وہ پہلے افراد ہیں جن کے ذریعے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی۔”
یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ ریاکاری نیکیوں کو بھی ضائع کر دیتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ أَخْوَفَ مَا أخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ الْأصْغَرُ… قَالَ: الرِّیَائُ… )) (أحمد:429/5، مجمع الزوائد:102/1، الصحیحۃ للألبانی:951)
ترجمہ: “مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے… (صحابہ نے پوچھا) شرکِ اصغر کیا ہے؟ فرمایا: ریاکاری… اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: جن کے لیے تم دنیا میں دکھاوا کرتے تھے، ان کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا وہاں سے کوئی بدلہ ملتا ہے؟”
اسی سلسلے میں ایک اور سخت وعید والی روایت میں آیا کہ “غم والے کنویں” سے پناہ مانگو۔ پھر فرمایا:
(( وَادٍ فِیْ جَہَنَّمَ یَتَعَوَّذُ مِنْہُ جَہَنَّمُ کُلَّ یَوْمِ أَرْبَعَمِائَۃِ مَرَّۃ ))
ترجمہ: “یہ جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم خود روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔”
پھر فرمایا:
(( أُعِدَّ لِلْقُرَّائِ الْمُرَائِیْنَ بِأَعْمَالِہِمْ… )) (سنن الترمذی:2383، سنن ابن ماجہ:256 واللفظ لہ)
ترجمہ: “یہ ان قراء کے لیے تیار کی گئی ہے جو اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کرتے ہیں… اور اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ قراء وہ ہیں جو (ظالم) حکمرانوں کے پاس آتے جاتے ہیں۔”
6) جہنم کی گرمی اور شدت
اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ کی شدت کو مختلف انداز سے بیان فرمایا ہے:
﴿ فَأَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی﴾ (اللیل92:14)
ترجمہ: “میں نے تمہیں ایک دہکتی آگ سے ڈرا دیا ہے۔”
﴿سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ﴾ (المسد111:3)
ترجمہ: “وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا۔”
﴿ إِنَّہَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ﴾ (المرسلات77:32)
ترجمہ: “وہ (جہنم) محل کی مانند بڑے بڑے انگارے پھینکے گی۔”
اور فرمایا:
﴿کَلاَّ إِنَّہَا لَظیٰ. نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی. تَدْعُوْ مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلّٰی. وَجَمَعَ فَأَوْعٰی﴾ (المعارج70:18-15)
ترجمہ: “ہرگز نہیں! وہ شعلہ زن آگ ہوگی، کھال ادھیڑ دینے والی، وہ اسے پکارے گی جو حق سے منہ موڑے اور پیٹھ پھیر لے، اور مال جمع کرے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھے۔”
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی آگ اور جہنم کی آگ کا فرق یوں بیان فرمایا:
(( نَارُکُمْ ہٰذِہِ… جُزْئٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْئًا مِنْ نَّارِ جَہَنَّمَ… ))
پھر فرمایا: (( فَإِنَّہَا فُضِّلَتْ عَلَیْہَا بِتِسْعَۃٍ وَّسِتِّیْنَ جُزْئًا کُلُّہَا مِثْلُ حَرِّہَا )) (صحیح البخاری:3265، صحیح مسلم:2843)
ترجمہ: “تمہاری دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے… اور جہنم کی آگ اس پر انہتر درجے زیادہ شدید ہے، اور ہر درجہ کی گرمی (دنیا کی آگ کے برابر) ہے۔”
7) جہنم کی گہرائی
جہنم کی وسعت اور گہرائی ایسی ہولناک ہے کہ عقل دنگ رہ جائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے۔ اچانک کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کیا تم جانتے ہو یہ کس چیز کی آواز تھی؟‘‘
ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( ہٰذَا حَجَرٌ رُمِیَ بِہٖ فِی النَّارِ مُنْذُ سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا ، فَہُوَ یَہْوِیْ فِی النَّارِ الْآنَ،حَتَّی انْتَہٰی إِلٰی قَعْرِہَا )) (صحیح مسلم:2844)
ترجمہ: “یہ ایک پتھر کے گرنے کی آواز تھی جسے ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا، وہ مسلسل گرتا رہا یہاں تک کہ اب جا کر اس کی تہہ تک پہنچا ہے۔”
اسی طرح فرمایا:
(( لَوْ أَنَّ حَجَرًا مِثْلَ سَبْعِ خَلِفَاتٍ أُلْقِیَ عَنْ شَفِیْرِ جَہَنَّمَ،ہَوٰی فِیْہَا سَبْعِیْنَ خَرِیْفًا،لاَ یَبْلُغُ قَعْرَہَا )) (صحیح الجامع:5248، الصحیحۃ:2865)
ترجمہ: “اگر سات موٹی اونٹنیوں کے برابر ایک پتھر جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے تو وہ ستر سال تک گرتا رہے، پھر بھی اس کی تہہ تک نہ پہنچے۔”
یہ احادیث جہنم کی خوفناک گہرائی کو واضح کرتی ہیں۔
8) جہنم کی گردن، آنکھیں اور زبان
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( تَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،لَہَا عَیْنَانِ تُبْصِرَانِ،وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ ،وَلِسَانٌ یَنْطِقُ،یَقُوْلُ: إِنِّیْ وُکِّلْتُ بِثَلَاثَۃٍ:بِکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ،وَبِکُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللّٰہِ إِلٰہًا آخَرَ، وَبِالْمُصَوِّرِیْنَ )) (أحمد، الترمذی:2574، صحیح الجامع:8051)
ترجمہ: “قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گی، دو کان ہوں گے جن سے سنے گی، اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ کہے گی: مجھے تین قسم کے لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے: ہر سرکش ظالم، ہر وہ شخص جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنایا، اور تصویریں بنانے والے۔”
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ظلم، شرک اور جانداروں کی تصاویر بنانا شدید وعید کے کام ہیں۔
9) جہنم کا رنگ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أُوْقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ،ثُمَّ أُوْقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ،ثُمَّ أُوْقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ،فَہِیَ سَوْدَائُ مُظْلِمَۃٌ)) (سنن الترمذی:2591، سنن ابن ماجہ:4320۔ حسن بشواہدہ)
ترجمہ: “جہنم کی آگ کو ایک ہزار سال جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی، پھر مزید ایک ہزار سال جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، پھر مزید ایک ہزار سال جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی، پس وہ اب سیاہ اور تاریک ہے۔”
10) جہنم میں کافر کے جسم کی ضخامت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْکَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُوْنَ ذِرَاعًا،وَإِنَّ ضِرْسَہُ مِثْلُ أُحُدٍ، وَإِنَّ مَجْلِسَہُ مِنْ جَہَنَّمَ کَمَا بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ )) (سنن الترمذی:2577، صحیح الجامع:2114)
ترجمہ: “کافر کی کھال کی موٹائی بیالیس ہاتھ ہوگی، اس کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلے کے برابر ہوگی۔”
اور فرمایا:
(( مَابَیْنَ مَنْکِبَیِ الْکَافِرِ فِیْ النَّارِ مَسِیْرَۃُ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ لِلرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ )) (صحیح البخاری:6551، صحیح مسلم:2852)
ترجمہ: “جہنم میں کافر کے دونوں کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا ایک تیز رفتار سوار تین دن میں طے کرتا ہے۔”
11) اہلِ جہنم کا کھانا
اہلِ جہنم کو کھانے کے لیے زقوم کا درخت اور خشک کانٹے دیے جائیں گے۔
﴿ إِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ. طَعَامُ الْأثِیْمِ. کَالْمُہْلِ یَغْلِیْ فِیْ الْبُطُوْنِ. کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ ﴾ (الدخان44:46-43)
ترجمہ: “بے شک زقوم کا درخت گناہ گاروں کا کھانا ہے، وہ پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا، پیٹوں میں اس طرح کھولے گا جیسے کھولتا ہوا پانی کھولتا ہے۔”
اور فرمایا:
﴿ فَلَیْسَ لَہُ الْیَوْمَ ہَاہُنَا حَمِیْمٌ. وَّلاَ طَعَامٌ إِلاَّ مِنْ غِسْلِیْنٍ﴾ (الحاقۃ69:36-35)
ترجمہ: “آج اس کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ سوائے پیپ کے کوئی کھانا ہوگا۔”
اور:
﴿ لَیْسَ لَہُمْ طَعَامٌ إِلاَّ مِنْ ضَرِیْعٍ. لاَّ یُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ﴾ (الغاشیۃ88:7-6)
ترجمہ: “ان کا کھانا سوائے خشک کانٹے کے کچھ نہ ہوگا، جو نہ انہیں موٹا کرے گا اور نہ بھوک مٹائے گا۔”
12) اہلِ جہنم کا مشروب
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَیُسْقٰی مِنْ مَّآئٍ صَدِیْدٍ. یَتَجَرَّعُہُ وَلاَ یَکَادُ یُسِیْغُہُ﴾ (إبراہیم14:16-17)
ترجمہ: “اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا، جسے وہ گھونٹ گھونٹ پیے گا اور بمشکل حلق سے نیچے اتار سکے گا۔”
اور فرمایا:
﴿ یُغَاثُوْا بِمَآئٍ کَالْمُہْلِ یَشْوِیْ الْوُجُوْہَ﴾ (الکہف18:29)
ترجمہ: “انہیں ایسا پانی دیا جائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔”
اور:
﴿ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؤُوْسِہِمُ الْحَمِیْمُ. یُصْہَرُ بِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِہِمْ وَالْجُلُوْدُ ﴾ (الحج22:20-19)
ترجمہ: “ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا، جس سے ان کے پیٹ کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔”
13) جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا شخص
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ أَہْوَنَ أَہْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَہُ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَّارٍ،یَغْلِیْ مِنْہُمَا دِمَاغُہُ کَمَا یَغْلِیْ الْمِرْجَلُ،مَا یَرٰی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْہُ عَذَابًا،وَإِنَّہُ لَأَہْوَنُہُمْ عَذَابًا)) (صحیح مسلم:213)
ترجمہ: “جہنم والوں میں سب سے کم عذاب والا شخص وہ ہوگا جسے آگ کے دو جوتے اور دو تسمے پہنائے جائیں گے، جن سے اس کا دماغ ایسے کھولے گا جیسے ہانڈی کھولتی ہے۔ وہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ عذاب اسی کو دیا جا رہا ہے حالانکہ وہ سب سے کم عذاب میں ہوگا۔”
سوچئے! جب سب سے کم عذاب یہ ہے تو باقیوں کا کیا حال ہوگا؟
14) عذابِ جہنم کے مختلف مراتب
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مِنْہُمْ مَّنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلٰی کَعْبَیْہِ،وَمِنْہُمْ مَّنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلٰی رُکْبَتَیْہِ،وَمِنْہُمْ مَّنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلٰی حُجْزَتِہٖ،وَمِنْہُمْ مَّنْ تَأْخُذُہُ النَّارُ إِلٰی عُنُقِہٖ )) (صحیح مسلم:2845)
ترجمہ: “کچھ لوگوں کو آگ ٹخنوں تک پکڑے گی، کچھ کو گھٹنوں تک، کچھ کو کمر تک اور کچھ کو گردن تک۔”
یہ فرق اعمال کے فرق کی وجہ سے ہوگا۔
15) جہنمیوں کی چیخ و پکار
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَہُمْ نَارُ جَہَنَّمَ لاَ یُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا وَلاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ مِّنْ عَذَابِہَا…﴾ (فاطر35:36-37)
وہ نہ مریں گے اور نہ عذاب کم ہوگا، بلکہ چیخ و پکار کریں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں نکال دے، ہم نیک عمل کریں گے۔ مگر جواب ملے گا: کیا تمہیں دنیا میں مہلت نہیں دی گئی تھی؟
ایک اور جگہ فرمایا:
﴿فَأَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِیْ النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ﴾ (ہود11:106)
“وہاں ان کے لیے چیخیں اور دھاڑیں ہوں گی۔”
حضرت عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جہنم والے اتنا روئیں گے کہ اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیاں چلائی جائیں تو چل سکیں گی۔” (الصحیحۃ:1679)
16) جہنم ہمیشہ رہے گی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿أَلَمْ یَعْلَمُوْا أَنَّہُ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَأَنَّ لَہُ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیْہَا﴾ (التوبہ9:63)
“جو اللہ اور رسول کی مخالفت کرے گا اس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔”
اور فرمایا:
﴿إِنَّہُ مَنْ یَّأْتِ رَبَّہُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَہُ جَہَنَّمَ لاَ یَمُوْتُ فِیْہَا وَلاَ یَحْیٰی﴾ (طہ20:74)
“وہ نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔”
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب اہلِ جنت جنت میں اور اہلِ جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور اعلان ہوگا:
“اے اہلِ جنت! اب کبھی موت نہیں۔ اے اہلِ جہنم! اب کبھی موت نہیں۔” (صحیح بخاری:6548، صحیح مسلم:2850)
17) اپنی دعوت پر عمل نہ کرنے والے کا عذاب
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ایک شخص کو جہنم میں پھینکا جائے گا، اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ چکی کے گدھے کی طرح گھومے گا۔ لوگ پوچھیں گے: کیا تم ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے منع نہیں کرتے تھے؟ وہ کہے گا: میں تمہیں حکم دیتا تھا مگر خود عمل نہ کرتا تھا۔” (صحیح بخاری:3267)
اسی طرح معراج کی رات ایسے خطباء کو دیکھا گیا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے کیونکہ وہ دوسروں کو کہتے تھے مگر خود عمل نہیں کرتے تھے۔
18) بعض مخصوص گناہوں کا عذاب
◈ خودکشی کرنے والا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جس طریقے سے خودکشی کرے گا وہ جہنم میں اسی طریقے سے عذاب پاتا رہے گا۔ (صحیح بخاری:5778، صحیح مسلم:109)
◈ تصویریں بنانے والے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( کُلُّ مُصَوِّرٍ فِی النَّارِ… )) (صحیح مسلم:2110)
“ہر تصویر بنانے والا جہنم میں ہوگا، ہر تصویر کے بدلے ایک جان پیدا کی جائے گی جو اسے عذاب دے گی۔”
19) زمین بھر سونے کے بدلے میں بھی نجات نہیں
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن کافر سے پوچھا جائے گا: اگر تمہارے پاس زمین بھر سونا ہو تو کیا تم اس کے بدلے نجات چاہتے؟ وہ کہے گا ہاں۔ تو جواب دیا جائے گا: تم سے دنیا میں اس سے کہیں آسان چیز مانگی گئی تھی (یعنی ایمان)، مگر تم نے انکار کیا۔ (صحیح بخاری:6538، صحیح مسلم:2805)
نتیجہ
محترم بھائیو!
جہنم کا ذکر ہمیں مایوس کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں سنبھالنے، بیدار کرنے اور توبہ کی طرف لانے کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
﴿إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا﴾ (الزمر39:53)
“اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔”
پس آئیے:
✔ شرک سے بچیں
✔ فرائض کی پابندی کریں
✔ حرام سے بچیں
✔ توبہ کو لازم پکڑیں
✔ اپنے اہلِ خانہ کی اصلاح کریں
اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے، جنت الفردوس نصیب فرمائے اور خاتمہ ایمان پر کرے۔
آمین یا رب العالمین