مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قیاس کا حکم قران و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

قیاس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

قیاس اور اجتہاد احکام شرعیہ کا چوتھا ماخذ ہے، اگر کسی مسئلہ کی صراحت قرآن، حدیث یا اجماع میں نہ ہو، تو اجتہاد کیا جائے گا۔ اجتہاد اہل حق علما کا وظیفہ ہے، جو شرعی نصوص کو مدنظر رکھ کر کسی مسئلہ کا شرعی حکم پیش کرتے ہیں۔ عقیدہ مثلاً اسماء و صفات میں قیاس نہیں، یہ توقیفی ہیں۔ البتہ شرعی احکام و مسائل میں سے جو مسائل غیر منصوص ہیں، ان میں اجتہاد اور قیاس کیا جائے گا۔ قیاس کا ثبوت قرآن، حدیث اور اجماع امت میں ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ
(سورة النساء: 83)
جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے، تو وہ اس کا چرچا کر دیتے ہیں، اگر وہ اسے رسول اور اپنے میں سے اصحاب امر کے سپرد کر دیتے، تو ان میں سے وہ لوگ جو باتوں کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں، اس (حقیقت) کو ضرور جان لیتے۔
اس آیت میں کسی بھی بات کی حقیقت جاننے کے لیے اہل علم کی طرف رجوع کا حکم ہے۔ اس لیے کہ اجتہاد ہر کس و ناکس کا کام نہیں، عامی کو چاہیے کہ علما کی پیروی میں کتاب و سنت کا اتباع کرے، ائمہ مجتہدین سے پوچھ کر عمل کرنا تقلید نہیں۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف بين فقهاء الأمصار وسائر أهل السنة، وهم أهل الفقه والحديث فى نفي القياس فى التوحيد وإثباته فى الأحكام
تمام علاقوں کے فقہا اور تمام اہل سنت، جو فقہا اور محدثین ہیں، کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ عقیدہ توحید (کی تمام اقسام) میں قیاس جائز نہیں، البتہ احکام شرعیہ میں قیاس جائز ہے۔
(جامع بيان العلم وفضله: 887/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔