قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ — قرآن کا چیلنج اور تقلید کی نفی

مرتب کردہ: محمد ندیم ظہیر بلوچ

قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

ترجمہ
ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو
سورۃ البقرہ ایت نمبر 111

اس ایت کی تفسیر میں مختلف محدثین کا اقوال

امام ابن حزم رحمہ اللہ اپنی کتاب احکام الاصول الاحکام
باب قائم کرتے ہیں
((ما قال اللہ تعالی فی ابطال تقليد))
قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين
قال ابو محمد رحمه الله فمن لم يأت بكتاب الله تعالى شاهدا لقوله،او برهان على صدق قوله،والا فليس صادقا،ولكنه كاذب افك،
ترجمہ
ابو محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں
جو شخص اپنی بات پر کتاب اللہ سے کوئی گواہ پیش نہ کرے یا اپنی بات پر کوئی دلیل پیش نہ کرے اس کے سچے ہونے پر
تو وہ شخص سچا نہیں ہے وہ کذاب ہے بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا ہے

حوالہ

احکام الاصول الاحکام
ابن حزم رحمہ اللہ

قال غزالی رحمہ اللہ
فی قولہ تعالی ((قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين))
هذا كله نهي عن التقليد
ترجمہ
اللہ تعالی نے فرمایا تم سچے ہو تو دلیل لاؤ
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس ایت ميں تقلید منع کیا گیا ہے

حوالہ

المستصفی 2/384

قال امام السيوطي رحمه الله في قوله تعالى قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين

هذا كله نهي عن التقليد

ترجمہ
امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں اگر تم سچے ہو تو دلیل لاؤ
اس ایت میں تقلید سے منع کیا گیا ہے

حوالہ

كتاب الرد على من اخلد على الارض وجهل ان الاجتهاد فى كل عصر فرض1/130

ذكره الشيخ زبير على زئى في بيان المفصل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️