قنوت نازلہ کی فضیلت اور طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

قنوت نازلہ کا بیان:

❀ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو امام کو دعائے قنوت کرنی چاہیے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد أن يدعو على أحد أو يدعو لأحد قنت بعد الركوع
بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا کرنا چاہتے، یا کسی کے حق میں دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد قنوت کرتے۔
[بخاری، کتاب التفسير، باب ليس لك من الأمر شيء: 4560۔ مسلم: 675]
❀ قنوت نازلہ پانچوں فرض نمازوں میں کی جا سکتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نمازوں میں ایک ماہ تک قنوت کرتے رہے۔
[ابو داؤد، کتاب الوتر، باب القنوت في الصلاة: 1443۔ حسن]

قنوت نازلہ کا طریقہ:

❀ فرائض کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد دعا کی جائے۔
[بخاری، کتاب التفسير، باب ليس لك من الأمر شيء: 4560۔ مسلم: 675]
❀ قنوت نازلہ ہاتھ اٹھا کر کرنی چاہیے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں دیکھا کہ آپ نے ہاتھ اٹھا کر کفار پر بددعا کی۔
[مسند احمد: 3/137، حدیث: 12429۔ شعیب الأرنؤوط نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونچی آواز سے دعا پڑھتے اور مقتدی آمين کہتے تھے۔
[ابو داؤد، کتاب الوتر، باب القنوت في الصلاة: 1443۔ حسن]
❀ قنوت نازلہ میں جس کے لیے دعا یا بددعا کی جا رہی ہے، اس کا نام لینا جائز ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب يهوى بالتكبير حين سجد: 804]
❀ جب کوئی مصیبت نازل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قنوت نازلہ کیا کرتے تھے، حتی کہ ابو داؤد (1443) میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رعل، ذکوان اور عصیہ قبائل کے خلاف مسلسل ایک ماہ تک پانچوں نمازوں میں قنوت نازلہ کرتے رہے، لیکن آج ہم مصائب میں گھرے ہونے کے باوجود قنوت نازلہ نہیں کرتے۔ عوام تو قنوت نازلہ سے واقف ہی نہیں۔ آج چند مساجد ہی ایسی ہیں جن میں قنوت نازلہ کی جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر امام مسجد کو قنوت نازلہ شروع کرنی چاہیے، تاکہ ایک سنت زندہ ہو سکے اور مسلمانوں کی مشکلات میں کمی آئے۔

قنوت نازلہ کی دعا:

❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَانْصُرْهُمْ عَلَىٰ عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ. اللَّهُمَّ الْعَنْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ. اللَّهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ وَزَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ وَأَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِي لَا تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ.
اے اللہ! ہمیں اور تمام مومن مردوں، مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دے۔ ان کی باہمی اصلاح فرما دے۔ اپنے اور ان کے دشمنوں پر ان کی مدد فرما۔ الہی! اہل کتاب کے کافروں پر اپنی لعنت فرما جو تیری راہ سے روکتے، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں۔ الہی! ان کے درمیان پھوٹ ڈال دے، ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر اپنا وہ عذاب اتار جسے تو مجرم قوم سے نہیں ٹالا کرتا۔
[السنن الكبرى للبيهقي: 210-211/2، حدیث: 3143۔ امام بیہقی نے اسے صحیح کہا ہے]
مزید دعاؤں کے لیے ”قنوت نازلہ کی دعائیں“ کے نام سے دار الاندلس کی طرف سے شائع کردہ پمفلٹ ملاحظہ فرمائیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے