قمری تقویم کی شرعی حیثیت اور رؤیتِ ہلال کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مقصود الحسن فیضی کی کتاب رویت ہلال سے ماخوذ ہے۔

مقدمہ

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾
(یونس: 5)
”وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تا کہ تم لوگ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لیا کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں، وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں۔“
یہ آیت کریمہ اوقات کی معرفت، تاریخ و حساب کے علم اور ماہ و سال کی تعیین کے بارے میں بنیادی اصول اور قاعدہ کی حیثیت رکھتی ہے، اللہ تعالیٰ نے سورج کو روشنی سے نوازا اور اس کے لیے منزلیں متعین فرمائیں تاکہ دنوں اور ہفتوں کا حساب لگایا جا سکے اور چاند کو نور سے نوازا اور اس کے لیے بھی منزلیں متعین فرمائیں تا کہ مہینوں اور سالوں کا حساب آسانی سے کیا جا سکے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہفتوں اور دنوں کا حساب اس قدر آسان رکھا کہ شہری و دیہاتی، عالم و جاہل ہر شخص آسانی سے معلوم کر سکتا ہے یعنی سورج نکلا تو دن شروع ہو گیا اور سورج ڈوبا تو دن ختم ہوا اور رات آ گئی، اس طرح دن و رات کی تعداد سات پوری ہو گئی تو ایک ہفتہ مکمل ہو گیا، اسی طرح جب افق مغرب پر ماہ نو دکھائی دیا تو نیا مہینہ شروع ہو گیا یہاں تک جب انتیس یا تیس کی گنتی پوری کر کے دوبارہ ظاہر ہوا تو ایک مہینہ پورا ہو کر دوسرا مہینہ شروع ہو گیا اور اس طرح جب مہینوں کی تعداد بارہ پوری ہو گئی تو ایک سال مکمل ہو گیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ﴾
(التوبة: 36)
”مہینوں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ ہے، اسی دن سے جب سے آسمان اور زمین کو اس نے پیدا کیا ہے، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، یہی درست دین ہے۔“
اللہ رب العالمین کی مقرر کردہ یہی وہ تقویم و جنتری ہے جسے تمام اقوام کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سے لوگ اپنے دینی و دنیوی معاملات کا حساب کرتے چلے آئے ہیں، لیکن شیطان کی پیروی اور آسان ترین طریق پر عدم قناعت کی وجہ سے اس فطری اور شرعی تقویم کو چھوڑ کر لوگوں نے نسی، کبیسہ اور ملماس کی بدعت ایجاد کر لی تھی۔ (اہل عرب نے مہینہ اور سال کے سلسلے میں دو بدعتیں ایجاد کی تھیں: پہلی بدعت نسی کی تھی، نسی کے معنی ہیں تاخیر کے، ہوتا یہ تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جن چار مہینوں کو حرمت و احترام کے مہینے قرار دیا تھا، ان میں سے تین مہینے پے درپے تھے، ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم، ان مہینوں میں مشرک بھی جنگ و جدال اور غارت گری کو حرام تصور کرتے تھے لیکن چونکہ تین مہینے پے درپے جنگ و جدال اور خون کا انتقام لینے سے رکے رہنا ایک لمبی مدت تھی جو ان کے صبر سے باہر کی بات تھی اس لیے وہ ان مہینوں میں سے کسی ایک مہینے کو حلال سمجھ کر اس میں قتل و غارت گری کر لیا کرتے تھے اور اس کے بدلے کسی حلال مہینے کو حرام قرار دے کر، حرام مہینوں کی تعداد پوری کر لیا کرتے تھے۔ دوسری بدعت ”کبیسہ“ کی تھی، یہ بعینہ وہی چیز ہے جسے ہمارے یہاں کوند اور سلماس کا مہینہ کہتے ہیں یعنی قمری سال کو شمسی سال کے مطابق کرنے کے لیے ہر تیسرے سال قمری سال میں ایک مہینے کا اضافہ کر دیا کرتے تھے تا کہ حج ہمیشہ ایک ہی موسم میں آتا رہے اور وہ حج کے موقعہ پر سردی و گرمی کی الجھنوں سے بچتے رہیں۔)
اہل عرب اور خصوصاً حرم کے پاسبان حضرات بھی اس بدعت سے محفوظ نہ رہ سکے جس سے قمری مہینوں کی وہ ترتیب جو اللہ تعالیٰ نے رکھی تھی، اپنی اصلی حالت پر باقی نہ رہ سکی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جب اس دین حنیف کو مکمل کیا تو مہینوں کی ترتیب کو بھی ان کی اصلی حالت پر لوٹا دیا اور اسی کو درست دین قرار دیا تا کہ واضح ہو جائے کہ مہینوں کی یہی ترتیب اور دنوں اور سالوں کا یہی حساب برحق ہے، اس کو اپنانا چاہیے اور اپنے دینی و دنیوی معاملات کو انہی مہینوں اور سالوں کی بنیاد پر چلانا چاہیے۔
(بعض علماء کا خیال ہے کہ چونکہ ”نسیء وکبیسہ“ کی بدعت کی وجہ سے حج کبھی محرم میں واقع ہوتا تھا کبھی ذی القعدۃ اور کبھی کسی اور مہینے میں، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فریضے کی ادائیگی میں تاخیر سے کام لیا حتی کہ حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کا حج ذی القعدۃ کے مہینے میں واقع ہوا تھا ، اسی لیے جب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع دی کہ اس سال حج اپنے اصلی وقت پر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا عزم فرمایا، یہی وہ ”نسی“ کی بدعت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام و کفر قرار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے خطبے میں یہ اعلان فرما دیا کہ اب مہینوں کی ترتیب اپنی اسی حالت پر آگئی ہے، جس پر اس کی تخلیق ہوئی تھی ۔ چنانچہ اس موقع پر ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہوا: إن الزمان قدستدار كهيئته يوم خلق السماوات والأرض ، السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم ، ثلاث متواليات ، ذو القعدة ، ذو الحجة، والمحرم ورجب مضر الذى بين جمادى وشعبان
(صحيح البخارى : 4662 التفسير وصحيح مسلم : 1679 القسامة بروایت ابو بكرة ، دیکھئے: مجموع الفتاوى ج 25 ص : 145)
زمانہ گھوم کر اپنی اُسی حالت پر آ گیا ہے جس حال پر آسمان کی پیدائش کے وقت اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تھا ، سال بارہ مہینے کا ہے ، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ، تین تو پے درپے ہیں ؛ ذو القعدة و ذوالحجہ ومحرم اور رجب مضر جو جمادی الآخرۃ اور شعبان کے درمیان ہے۔)
اس سہولت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے بندوں کے یومیہ اور ہفتہ واری معاملات خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی، ان کا حساب سورج کے غروب و طلوع پر رکھا ہے۔ نماز سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾
(الإسراء: 78)
”نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی ، یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے۔“
دوسری طرف ماہانہ و سالانہ معاملات کو چاند کے حساب سے منسلک کر دیا ہے۔ حج سے متعلق ارشاد فرمایا:
﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ﴾
(الحج: 189)
”لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ یہ لوگوں کی جنتری اور حج کے لیے ہے۔“
اس مثال پر دوسرے اعمال کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔
حاصل کلام یہ کہ اسلام میں قمری مہینے ہی اصل بنیاد ہیں، انہی کے اعتبار سے مسلمانوں کی عبادات اور معاملات کے ماہ و سال کا تعین کیا جائے گا اور چاند کو بنیاد بنا کر شرعی مہینے اور شرعی سال طے کیے جائیں گے، حتی کہ علماء نے اپنے معاملات وغیرہ میں غیر شرعی مہینوں پر اعتماد کو ناجائز قرار دیا ہے اور تاریخ و جنتری میں غیر قوم سے مشابہت کو منع فرمایا ہے، یہی وجہ ہے کہ امیر المؤمنین خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مشورے سے چاند کے اعتبار سے ہجری سال ایجاد کیا۔
آیت ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اہل علم کا کہنا ہے کہ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی خرید و فروخت، لین دین کی مدت کی تعیین، زکاۃ کی ادائیگی اور دوسرے تمام احکام میں عربی سال کا اعتبار رکھیں، ان کے لیے رومی اور عجمی سالوں کا اعتبار جائز نہ ہوگا۔
تفسير الرازي ج 8 ص 55 نيز احكام القرآن للقرطبي ج 8 ص 85۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: راقم سطور کی کتاب: وفاداری یا بیزاری ص: 314 تا 317۔

شرعی مہینوں کی معرفت کا ذریعہ:

چونکہ مسلمانوں کے تمام دینی و دنیوی معاملات قمری مہینوں سے منسلک ہیں، اس لیے ان کی پہچان اور ان کی ابتدا و انتہا سے متعلق معلومات حاصل کرنا ایک ضروری امر ہے، جس کے لیے شریعت نے بہت ہی آسان طریقہ رکھا ہے۔ لہذا ہر جگہ، ہر زمان اور ہر قسم کے لوگ آسانی سے مہینہ کی ابتدا و انتہا کو معلوم کر سکتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح کہ رات و دن کی آمد ورفت کو ہر شخص آسانی سے معلوم کر لیتا ہے، یہ ایک فطری چیز بھی ہے کہ چونکہ تاریخ ہر شخص کی ضرورت ہے، ہر زمانے اور معاشرے کی ضرورت ہے اور جو چیز تمام لوگوں کی ضرورت ہو، ضروری ہے کہ اس کا حصول اور اس کی معرفت بھی آسان ہو۔ بنابریں مہینے کی ابتدا و انتہا کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ نے بہت ہی آسان رکھا ہے، یعنی 29 دن گزرنے کے بعد رویت ہلال یا تیس کی گنتی کا پورا کر لینا، چنانچہ رمضان سے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾
(البقرة: 185)
”تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو چاہیے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے۔“
اور رمضان ہی سے متعلق ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
إذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا، فإن غم عليكم فاقدروا له.
جب اسے (یعنی چاند) دیکھو تو روزہ رکھنا شروع کرو اور جب اسے دیکھو تو افطار کر دو، پھر اگر تم پر بدلی چھا جائے تو اس کا اندازہ کر لو یعنی تیس کی گنتی پوری کرو۔
صحیح البخاری: 1900 الصوم، صحیح مسلم: 1080 الصيام، بروایت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، الفاظ بخاری شریف کے ہیں۔
اس آیت اور حدیث میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے روزہ جو اسلام کا ایک رکن ہے، کی ابتدا کے لیے چاند دیکھنے کی شرط لگائی ہے کہ اگر شعبان کی انتیس تاریخ کو چاند نظر آ جائے تو اگلے دن جو رمضان المبارک کا پہلا دن ہو گا، روزہ واجب ہو گا، اسی طرح رمضان المبارک کی انتیس تاریخ کی شام کو سورج ڈوبنے کے وقت چاند نظر آ جائے تو اگلے دن جو شوال کی پہلی تاریخ ہو گی اس دن روزہ افطار کرنا واجب ہو گا، لیکن اگر کسی وجہ سے انتیس کا چاند نظر نہیں آیا تو اس مہینے کے تیس دن پورے کرنے ہوں گے، مہینوں کی ابتدا و انتہا کے بارے میں یہ شرعی حکم ہے اور اسی پر عمل کرنا واجب ہو گا، کسی حساب دان یا ماہر علم فلکیات کے قول کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہو گا۔
ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
إنا أمة أمية لا نكتب ولا نحسب والشهر هكذا وهكذا وهكذا، وعقد الإبهام فى الثالثة، والشهر هكذا وهكذا وهكذا يعني تمام الثلاثين.
ہم لوگ امی امت ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب رکھتے ہیں، مہینہ اتنا ہوتا ہے اور اتنا ہوتا ہے اور اتنا ہوتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو کھول کر اشارہ فرمایا اور تیسری بار اپنے ایک ہاتھ کے انگوٹھے کو موڑ لیا گویا کہ 29 دن بتائے۔ پھر فرمایا مہینہ اتنا ہوتا ہے اتنا ہوتا ہے اور اتنا ہوتا ہے یعنی پورے تیس دن۔
صحیح البخاری: 1903 الصوم – صحیح مسلم: 1080 الصوم – مسند احمد ج 3 ص 43 بروایت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما۔ یہ الفاظ صحیح مسلم اور مسند احمد کے ہیں۔
یعنی چاند کے معاملے میں ہم لکھنے پڑھنے اور کسی کتاب وحساب کے محتاج نہیں ہیں، ہمیں اپنے روزے اور عبادات کے معاملہ میں تاروں اور سیاروں کی حرکات جاننے کا مکلف نہیں بنایا گیا بلکہ ایک ایسی واضح چیز کا حکم دیا گیا ہے، جس کو عالم و جاہل سب برابر جان سکتے ہیں اور وہ ہے رؤیت ہلال کا معاملہ کہ انتیس تاریخ کے بعد آنے والی شام اگر چاند دکھائی دیا تو مہینہ انتیس کا شمار ہو گا ورنہ تیس کی گنتی پوری کی جائے گی۔
ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين.
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کر لو۔“
صحیح البخاری: 1909 الصوم – صحیح مسلم: 1081 الصيام، بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، اس کے قریب قریب الفاظ میں یہ حدیث سنن ابن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور معجم الطبرانی الکبیر میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے دیکھئے: کنز العمال ج 8 / ص 489۔
ان حدیثوں سے درج ذیل فائدے حاصل ہوئے:
① مسلمانوں کے معاملات میں، خصوصاً عبادات میں از روئے شرع قمری مہینے ہی معتبر ہیں۔
② ابتدائے ماہ اور انتہائے ماہ کی معلومات کا واحد ذریعہ رؤیت ہلال ہے، اس بارے میں علم فلک اور حساب نجوم پر اعتماد جائز نہ ہو گا۔
③ شرعی مہینے بھی انتیس دن کے ہوتے ہیں اور کبھی تیس دن کے، نہ اس سے کم ہوں گے اور نہ اس سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
الشهر يكون تسعة وعشرين ويكون ثلاثين فإذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فإن غم عليكم فأكملوا العدة.
سنن النسائی: 2138 الصيام ج 3 ص 29 بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، اس مفہوم کی متعدد حدیثیں کتب ستہ میں موجود ہیں، مثال کے طور پر دیکھئے: صحیح مسلم ج 3 ص 148، 149۔
”کبھی مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے سو جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو افطار کرو پھر اگر تم پر بادل چھا جائے تو (تیس کی )گنتی پوری کرو۔“
علمائے فلک کا کہنا ہے کہ قمری سال کے بارہ مہینے کبھی بھی نہ تو سب کے سب انتیس دن کے ہوں گے اور نہ ہی سب کے سب تیس دن کے ہوں گے بلکہ کسی سال چھ مہینے انتیس دن کے اور چھ مہینے تیس دن کے ہوں گے اور کسی سال پانچ مہینے انتیس دن کے ہوں گے، اور سات مہینے تیس دن کے، نہ تو تیس دن والے مہینے سات سے زیادہ ہوں گے اور نہ ہی انتیس دن والے مہینے پانچ ماہ سے کم ہوں گے۔
(دیکھئے: العلم المنشور للسبكي ص 24)
④ شریعت نے ابتدائے ماہ اور انتہائے ماہ کے لیے رویت ہلال کو اس لیے شرط قرار دیا ہے کہ:
الف : یہ عمل بہت ہی آسان اور عام لوگوں کے حالات کے مناسب ہے۔
ب :یہ حساب یقینی ہے اور اس میں خطا کا امکان نہیں ہے۔
ج :اس کے علاوہ علم فلکیات کے حساب و تنجیم کا طریقہ مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں خطا کا امکان موجود ہے، اسی لیے علماء کہتے ہیں کہ رؤیت ہلال کے بارے میں اس امت کو جو امی کہا گیا ہے وہ بطور مدح ہے۔
مجموع فتاوی ج 25 ص 199 ، 200۔
⑤ اگر علم فلک و نجوم کا حساب یہ کہتا ہے کہ چاند ہو گیا لیکن آنکھوں سے چاند نہ دیکھا جا سکا تو حساب کا اعتبار نہ ہو گا اور نہ ہی علم فلکیات کے حساب کی بنیاد پر روزے اور عید کے ایام کا فیصلہ کیا جائے گا، اسی طرح اگر حساب یہ کہتا ہے کہ چاند نہیں ہو سکتا اور لوگوں نے عمل چاند دیکھ لیا بشرطیکہ دیکھنے والے ثقہ اور قابل اعتماد ہوں اور ان کی شہادت پر بھروسہ کیا جا سکے تو اعتبار چاند دیکھنے کا ہو گا نہ کہ علم فلکیات کے حساب کا۔ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ علمائے امت کا اس پر اجماع ہے۔
مجموع فتاوی ابن تیمیہ ج 25 ص 132، العلم المنشور للسبكي ص 20 – مرعاة المفاتيح ج 6 ص 435 – فقه النوازل ج 3 ص 199، 200۔ سعودی عرب کے مقتدر علماء کی کمیٹی نے بھی متفقہ طور پر یہی قرار داد پاس کی ہے، دیکھئے: ابحاث هيئة كبار العلماء ج 3 ص 34
⑥ صرف روزہ اور عید ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے تمام معاملات جیسے زکاۃ، عورتوں کی عدت، ایلاء کی مدت اور قرض کی مدت وغیرہ تمام امور رؤیت ہلال کے مطابق اور شرعی مہینوں کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
مجموع فتاوی ج 25 ص 133، 134 و 143 – فتاوى السبكي ج 1 ص 207۔

شرعی مہینوں کی ابتدا اور انتہا:

پچھلی سطور سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی شرعی مہینہ انتیس دن سے کم اور تیس دن سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور ان کی معرفت کا واحد ذریعہ رویت ہلال ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ شرعی مہینوں کی ابتدا و انتہا رؤیت ہلال یا پھر تیس دن پورا ہونے پر موقوف ہے، یعنی چاند نظر آتے ہی پچھلا مہینہ رخصت ہوا اور نیا مہینہ شروع ہو گیا، لیکن واضح رہے کہ اس سلسلے میں اس رؤیت کا اعتبار ہے جو غروب آفتاب کے بعد یا اس کے بالکل متصل نظر آئے، اس امر میں تمام علماء کا اتفاق ہے، لہذا اگر کبھی آفتاب کے غروب سے قبل چاند نظر آ جائے تو اس کا اعتبار نہیں ہو گا، مثال کے طور پر اگر کبھی تیس رمضان کو غروب آفتاب سے قبل چاند نظر آ جائے تو غروب آفتاب سے پہلے افطار کرنا جائز نہ ہو گا اور نہ ہی ماہ شوال کی ابتدا تسلیم کی جائے گی، کیونکہ شریعت میں اس رؤیت کا اعتبار ہے جو سورج ڈوبنے کے بعد ہو۔
دیکھئے: فتح الباری ج 4 ص 121۔ تفصیل کے لیے علامہ ابن عابدین کا رسالہ تنبيه الغافل والوسنان اور علامہ عبد الحی لکھنوی کا رسالہ الفلك الدوار في رؤية الهلال بالنهار
یہیں سے واضح ہوتا ہے کہ حدیث صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته اپنے ظاہر پر نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس شام کو چاند دکھائی دے، اس کے بعد والے دن کو روزہ رکھا جائے گا یا اس کے بعد والے دن کو افطار کیا جائے گا۔
فتح الباري ج 4 ص 131، مرعاة المفاتيح ج 6 ص 424۔

شرعی دن و ماہ اور علمائے ہیئت کے دن و ماہ میں فرق:

واضح رہے کہ ایک شرعی مہینہ مکمل انتیس دن یا تیس دن کا ہوتا ہے اور ہر مہینے کا ایک دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے، علمائے ہیئت کے برعکس کہ ان کے نزدیک جس وقت سے چاند اپنے (محاق یا نقطہ اقتران علمائے ہیئت کی اصطلاح میں اس وقت کو کہتے ہیں جب چاند سورج اور زمین کے درمیان ایک ہی خط مستقیم پر واقع ہو جاتا ہے۔) یا نقطہ اقتران سے دور ہونا شروع ہوتا ہے تو نیا مہینہ شروع ہو جاتا ہے، گویا ان کے یہاں ابتدائے ماہ کے لیے چاند کی ولادت کا اعتبار ہے خواہ وہ لوگوں کو افق مغرب پر نظر آئے یا نظر نہ آئے، کیونکہ اس وقت چاند انتہائی باریک ہوتا ہے۔
علمائے فلک لکھتے ہیں کہ جب تک اتقائے نیرین یعنی چاند کا اپنے نقطۂ اقتران سے دور ہونا شروع ہوئے کم از کم تیس گھنٹے نہ گزر جائیں، افق مغرب پر ہلال نو کا دکھائی دینا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ یہ صورت چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت پیش آ سکتی ہے، بنابر میں اہل فلک کے نزدیک ماہ نو کی ابتدا شرعی ماہ نو کی ابتدا سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ فلکی مہینہ کی ابتدا کبھی بارہ بجے رات کو ہوتی ہے اور کبھی بارہ بجے دن کو بلکہ رات دن کے کسی بھی حصے سے اس کی ابتدا ہو سکتی ہے، اہل فلک کے نزدیک یہ ضروری نہیں ہے کہ چاند افق مغرب پر نظر آئے، اس لیے علمائے ہیئت کا مہینہ شرعی مہینہ سے چوبیس گھنٹے بلکہ اس سے بھی قبل شروع ہو جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر کسی مہینے کی انتیس تاریخ کو عصر کے قریب چاند اپنے محاق میں داخل ہوا تو اہل فلک کے نزدیک نئے ماہ کی ابتدا ہو گئی، جبکہ شرعی ماہ کی ابتدا میں ابھی چوبیس گھنٹوں سے زیادہ بلکہ بعض ممالک میں اڑتالیس گھنٹوں سے زیادہ وقت باقی ہو گا، اس طرح اہل ہیئت کے مہینے اور شرعی مہینے کے درمیان کا فاصلہ ایک دن بلکہ اس سے بھی زیادہ کا ہو سکتا ہے، اسی طرح اہل ہیئت کے دنوں کی تعداد اور شرعی مہینے کے دنوں کی تعداد میں بھی واضح فرق ہوتا ہے جیسا کہ ابھی گزرا کہ شرعی مہینہ یا تو انتیس دن کا ہو گا یا تیس دن کا یعنی نہ تو انتیس دن سے کم ہو سکتا ہے اور نہ تیس دن سے زیادہ جبکہ اہل ہیئت کے نزدیک ہر ماہ 29 دن بارہ گھنٹے، چوالیس منٹ اور کچھ سیکنڈ کا ہوتا ہے۔
مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: موجود نظریہ کے مطابق یہ امر مسلم ہے۔ سورج، چاند، اور زمین ایک قمری ماہ میں دو بار ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں اور یہ واقعات اس وقت ہوتے ہیں جب چاند زمین کے گرد گردش کرتا ہوا زمین کے مدار کو قطع کرتے ہوئے گزرتا ہے، جب زمین سورج اور چاند کے درمیان واقع ہو تو یہ چودھویں رات کا موقعہ ہوتا ہے اور جب چاند سورج اور زمین کے درمیان واقع ہوتا ہے تو عموماً 28 ویں رات قمری ماہ کا موقعہ ہوتا ہے، تا ہم 27 اور 29 قمری تاریخ کو بھی ہو سکتا ہے، چاند گرہن جب کبھی لگتا ہے تو پہلی صورت یا چودھویں رات کو لگتا ہے اور سورج گرہن دوسری صورت میں لگتا ہے لیکن یہ موقع کبھی کبھار پیش آتا ہے جس کی وجوہ دوسری ہیں۔

نیا چاند :

دوسری صورت میں جب چاند اہل زمین سے مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے تو قمری حساب میں اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ پچھلا قمری مہینہ ختم ہو گیا، اس موقع کو اجتماع نیرین یا اقتران اور انگریزی میں CONJUNCTION کہتے ہیں، جب چاند مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے تو یہ محض ایک لمحہ کا وقت ہوتا ہے اس کے بعد تقویم کیلنڈر کے حساب سے نیا چاند شروع ہو جاتا ہے، ایک قران سے دوسرے قران تک کا درمیانی وقفہ اوسطاً 29 دن 12 گھنٹے 44 منٹ ہے، یہ وقفہ کسی ماہ پانچ چھ گھنٹے تک بڑھ بھی سکتا ہے، اسی طرح کسی ماہ اتنا ہی کم بھی ہو سکتا ہے، لہذا اس کا کوئی معین وقت نہیں، یہ صبح 9 بجے بھی ہو سکتا ہے اور رات کے 11 بجے بھی مگر یہ ضروری نہیں کہ جس دن یہ قران واقع ہوا ہے، اسی رات چاند نظر آ جائے، وجہ یہ ہے کہ ایک تو چاند انتہائی باریک ہوتا ہے، دوسرے مغربی افق پر شفق کی سرخی جو تقریباً پون گھنٹہ تک اثر انداز رہتی ہے، ایسے چاند کے نظر آنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک دن یا پورے چوبیس گھنٹے کی عمر کا چاند کتنا پتلا ہوتا ہے، اس کا اندازہ یوں ہو سکتا ہے کہ آپ ایک خربوزہ لیں، اس پر قاشوں کی صرف آٹھ دس لکیریں ہوتی ہیں، اگر آپ اس خربوزہ کو اسی رخ پر 30 برابر حصوں میں کاٹ دیں تو ایک قاش کی جتنی موٹائی درمیان سے ہو گی وہی ایک دن کے چاند کی موٹائی ہے لیکن لمبائی پورا نصف دائرہ نہیں بلکہ بہت کم ہو گی۔ (الشمس والقمر بحسبان مختصراً، مجله الدعوة جلد 14 شمار 12 ص 40)
تفصیل کے لیے دیکھئے: ابحاث هيئة كبار العلماء ج 3 ص 10 اور اس کے بعد اہل ذوق کے لیے مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ علیہ کی معرکة الآراء کتاب الشمس والقمر بحسبان بھی بہت مفید ہے۔