قضائے عمری کی حقیقت بدعت، من گھڑت حدیث اور ائمہ کے دلائل کے ساتھ جامع تحقیق

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب غیر مسنون نفلی نمازیں سے ماخوذ ہے۔

قضائے عمری:

رمضان میں جمعۃ الوداع کے موقع پر ایک بدعت تراش لی گئی ہے، اسے قضائے عمری کہتے ہیں۔ یہ ستم فقہائے احناف نے ڈھایا۔ نماز ایجاد کر کے اس کے ثبوت میں ایک حدیث بھی گھڑ ڈالی۔ ائمہ محدثین کے عقیدہ و عمل کے خلاف اپنا مذ ہب ایجاد کیا۔ علمائے امت کے متفقہ فہم اور اجماع کے مقابلہ میں فرد واحد کا فہم دین قرار دینے والوں نے اسلام میں رخنہ اندازی کی قبیح مثال قائم کی۔
❀ علامہ طیبی رحمہ اللہ (743 ھ )فرماتے ہیں:
قوله الزائد في كتاب الله يجوز أن يراد به من يدخل في كتاب الله ما ليس منه أو أن يؤول بما يأبى عنه اللفظ ويخالف المحكم كما فعلت اليهود بالتوراة من التبديل والتحريف والزيادة في كتاب الله كفر وتأويله بما يخالف الكتاب والسنة بدعة
کتاب اللہ میں زیادتی سے مرادان چیزوں کا اضافہ ہے، جو کتاب اللہ میں نہیں تھیں یا یہود ونصاری کی طرح تحریف و تبدل پر مبنی ایسی تاویل کرنا، جو ظاہر نص اور محکم کے مخالف ہو۔ کتاب اللہ میں زیادتی کفر ہے اور اس کی قرآن وسنت کے مخالف تاویل بدعت ہے۔
(شرح المشكوة : 772/2)
❀ علامہ فخر رازی رحمہ اللہ (606 ھ ) اپنے استاذ سے نقل کرتے ہیں:
قد شاهدت جماعة من مقلدة الفقهاء قرأت عليهم آيات كثيرة من كتاب الله تعالى في بعض المسائل وكانت مذاهبهم بخلاف تلك الآيات فلم يقبلوا تلك الآيات ولم يلتفتوا إليها وبقوا ينظرون إلي كالمتعجب يعني كيف يمكن العمل بظواهر هذه الآيات مع أن الرواية عن سلفنا وردت على خلافها ولو تأملت حق التأمل وجدت هذا الداء ساريا في عروق الأكثرين من أهل الدنيا
میں مقلدین فقہا کی ایک جماعت کے سامنے بعض ایسے مسائل پر آیات سے استدلال کرتا ، جو مذہب امام کے خلاف ہوتے ، تو ان آیات کو قبول کرنے کی بجائے تعجب سے میری طرف دیکھنے لگتے، یعنی ان آیات پر عمل کیسے ممکن ہے ، ہمارے اسلاف کا مذہب جن کے مخالف ہو؟ اگر آپ تدبر کریں، تو نظر آئے گا کہ یہ بیماری اکثر اہل دنیا کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے ۔
(تفسير الرازي : 1631)
قضائے عمری کا اسلام میں وجود نہیں ، معلوم نہیں کہ کس نے گھڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردی؟
❀ علامه ملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) فرماتے ہیں:
حديث من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان كان ذلك جابرا لكل صلاة فائتة في عمره إلى سبعين سنة باطل قطعا لأنه منافض للإجماع على أن شيئا من العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات ثم لا عبرة بنقل النهاية ولا ببقية شراح الهداية فإنهم ليسوا من المحدثين ولا أسندوا الحديث إلى أحد من المخرجين
حدیث جس نے رمضان کے آخری جمعہ کو قضا نماز پڑھی ، یہ اس کی عمر کے ستر برس تک فوت ہونے والی تمام نمازوں کا کفارہ ہوگی ، قطعی باطل ہے، کیوں کہ اجماع سے ثابت ہے کہ فوت شدہ عبادات کی کمی پوری نہیں ہوسکتی اور یہ اس اجماع کے مخالف ہے ، دوسرے یہ کہ صاحب نہایہ اور شارحین ہدایہ کی نقل غیر معتبر ہے، یہ لوگ نہ تو خود محدث تھے، نہ انہوں نے روایت کی نسبت کسی محدث کی طرف کی ہے۔
(الأسرار المرفوعة، ص 356، ح : 519)
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ ) فرماتے ہیں :
هذا موضوع لا إشكال فيه ولم أجده في شيء من الكتب التي جمع مصنفوها فيها الأحاديث الموضوعة ولكنه اشتهر عند جماعة من المتفقهة بمدينة صنعاء في عصرنا هذا وصار كثير منهم يفعلون ذلك ولا أدري من وضعه لهم فقبح الله الكتابين
اس کے من گھڑت ہونے میں کوئی دوسری رائے ہی نہیں۔ یہ تو موضوعات پر لکھی کتابوں میں بھی نہیں پائی جاتی ، اس دور میں فقیہان صنعاء کے ہاں مشہور ہو چکی ہے۔ وہ کثیر تعداد میں اس پر عامل ہیں، میں نہیں جانتا اسے کس نے گھڑا؟ بہر کیف اللہ جھوٹوں کو برباد کرے۔
(الفوائد المجموعة ، ص 54 ، ح : 115)
الحاصل :
فوت شدہ نمازوں پر تو بہ ہے۔ قضائے عمری نامی کسی نماز کا اسلام میں وجود نہیں ، لہذا اس بدعت سے خود بھی بچیں اور لوگوں کو بھی آگاہ کریں ۔