قسم کے بعد کوئی دلیل قبول نہیں کی جائے گی ، اور عاقل و بالغ شخص سنجیدگی سے کسی ایسے معاملے کا اقرار کرے جو عقل و عرف میں ناممکن نہ ہو تو وہ اس پر لازم ہو گا خواہ وہ کوئی بھی معاملہ ہو
➊ جیسا کہ ابھی پیچھے حدیث بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شاهداك أو يمينه
”تمہیں دو گواہ پیش کرنے ہوں گے یا پھر اس سے قسم لی جائے گی ۔“
[بخاري: 2669 ، كتاب الشهادات: باب اليمين على المدعى عليه فى الأموال والحدود]
➋ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ کے لیے قسم کا ذکر کیا اور پھر مدعی کے لیے کہا:
ليس لك منه إلا ذلك
”اب تیرے لیے اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔“
[مسلم: 139 ، كتاب الإيمان: باب وعيد من اقتطع حق مسلم بيمين]
حدیث نبوی ہے کہ :
واغـد يـا أنيس إلى امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها
”اے انیس! صبح اس کی بیوی کے پاس جانا ، اگر وہ اعتراف (زنا ) کرے تو اسے رجم کر دینا ۔“
[بخاري: 2695 ، كتاب الصلح: باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود ، مسلم: 1697]
عاقل اور بالغ کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کیونکہ پاگل اور بچہ دونوں مکلّف نہیں ہیں ۔ سنجیدگی کی قید اس لیے کیونکہ ہازل (مذاق کرنے والے ) کے اقرار کا کوئی اعتبار نہیں ۔ اور عقلا و عرفا محال نہ ہو ، کی قید اس لیے ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں ہو گا تو اقرار جھوٹ پر منحصر ہو گا اور جھوٹ کے ساتھ فیصلہ نہیں کیا جائے گا ۔
[الروضة الندية: 572/2]
یہ اقرار ایک مرتبہ ہی کافی ہے خواہ حدود کولازم کرنے والے اسباب سے ہو یا کسی اور سے ، جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا
جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس کے لیے کہا تھا کہ اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اعتراف (زنا ) کر لے تو اسے رجم کر دینا ۔
[بخاري: 2695 ، كتاب الصلح]
اقرار میں تکرار لازم ہے یا نہیں اس کی مزید بحث آئندہ کتاب الحدود میں آئے گی ۔