مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قسم کو تکیہ کلام بنانا – کیا اسلام میں جائز ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جس کو بات بات پر قسم اٹھانے کی عادت ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

قسم جو اس کا تکیہ کلام ہو، اس کی قسم کا اعتبار نہیں، یہ لغو قسم ہے۔ اس پر کفارہ واجب نہیں ہوتا۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ﴾ (البقرة : 225)
”اللہ تعالیٰ لغو قسموں پر تمہارا مواخذہ نہیں کرتا۔“
❀ اس آیت کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”یہ آیت لوگوں کے یوں کہنے کے متعلق اتری ہے: اللہ کی قسم! اللہ کی قسم!“
(یعنی گفتگو کے دوران تکیہ کلام کے طور پر غیر ارادی قسمیں کھانا یمین لغو ہے۔)
(صحيح البخاري : 6663)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔