قسم توڑنے پر کفارہ کا حکم: حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر قسم اس وجہ سے توڑی جائے کہ جس کام پر قسم اٹھائی تھی وہ نا جائز تھا تو کیا اس پر کفارہ لازم ہوگا؟

جواب:

قسم جس وجہ سے بھی توڑی جائے اس پر کفارہ لازم ہو جاتا ہے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا أحلف على يمين فأرى غيرها خيرا منها إلا أتيت الذى هو خير وتحللتها.
”میں کسی کام پر قسم اٹھاتا ہوں بعد ازاں محسوس کرتا ہوں کہ دوسرا کام اس سے بہتر ہے تو میں بہتر کام کرتا ہوں اور قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔“
(صحيح البخاري: 3133، صحیح مسلم: 1649)