قسم توڑنے پر کفارہ ادا کرنے کا حکم: قرآن کی روشنی میں

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

قسم کا کفارہ کیا ہے؟

جواب:

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق دس مساکین کو کھانا کھلانا یا دس مساکین کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہیں تو تین روزے رکھے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ﴾
(المائدة: 89)
”قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا دس مساکین کو کپڑے پہنانا یا ایک گردن آزاد کرنا جس کے پاس یہ تینوں چیزیں نہ ہوں اس کے لیے تین دن کے روزے رکھنا ہے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم حلف اٹھاؤ۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️