مضمون کے اہم نکات
قسم کے احکام
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قسم کو عربی زبان میں یمین کہا جاتا ہے اور اس کی جمع ایمان آتی ہے۔ قسم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام یا اس کی کسی صفت کا ذکر کرتے ہوئے مخصوص انداز سے کسی بات یا کام کو مؤکد کیا جائے۔
قسم کو یمین کہنے کی وجہ یہ ہے کہ عربی لغت میں دائیں ہاتھ کو یمین کہا جاتا ہے۔ جب دو اشخاص قسم اٹھاتے تھے تو وہ ایک دوسرے کے داہنے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارتے تھے، جیسا کہ عہد و پیمان کے وقت کیا جاتا تھا۔
وہ قسم جس کے توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے، وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام یا اس کی کسی صفت کے ساتھ اٹھائی گئی ہو۔
◈ مثال کے طور پر کوئی یوں کہے:
✔ اللہ تعالیٰ کی قسم
✔ اللہ تعالیٰ کی عظمت کی قسم
✔ کبریائی کی قسم
✔ جلال کی قسم
✔ عزت کی قسم
✔ رحمت کی قسم
✔ قرآن کی قسم
غیر اللہ کی قسم اٹھانا حرام اور شرک ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ”
"جو شخص قسم اٹھانا چاہتا ہو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے یا خاموش رہے۔” [صحیح البخاری الشہادات باب کیف یستحف؟ حدیث 2879۔ وصحیح مسلم الایمان باب النھی عن الحلف بغیر اللہ تعالیٰ حدیث 1646۔]
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ”
"جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔” [جامع الترمذی النذرو الایمان باب ماجاء فی ان حلف بغیر اللہ فقد اشرک حدیث 1535 وسنن ابی داؤد الایمان والنذور باب کراھیہ الحلف بالا مامۃ حدیث 3251۔]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے:
"مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا”
"جس نے امانت کی قسم اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔” [سنن ابی داؤد الایمان والنذور باب کراھیہ الحلف بالا مامۃ حدیث 3253۔]
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانا حرام اور شرک ہے۔ مثلاً کوئی یوں کہے:
◈ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم
◈ تیری زندگی کی قسم
◈ کعبہ کی قسم
◈ بچوں کی قسم
ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے میں امت کے اہل علم کا اجماع ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانا شرک اور حرام ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کے نام کی جھوٹی قسم اٹھا لوں تو یہ میرے نزدیک غیر اللہ کے نام کی سچی قسم سے بہتر ہے۔ [مجموع الزوائد4/177۔حدیث 6699والمصنف لا بن ابی شبہ 3/81حدیث 12279۔]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ توحید کی نیکی، سچ بولنے کی نیکی سے بڑھ کر ہے، جیسے جھوٹ بولنے کا گناہ شرک کے گناہ سے بہت کم تر ہے۔ [الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الایمان 5/552۔]
جو شخص اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر اسے توڑ دے، اس پر کفارہ لازم آتا ہے، بشرطیکہ درج ذیل تین شرائط پائی جائیں:
① قسم کا منعقد ہونا
یعنی آدمی کسی ایسے کام پر ارادہ و قصد کے ساتھ قسم اٹھائے جس کا تعلق مستقبل سے ہو اور وہ کام ممکن بھی ہو۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَيْمَانَ”
"اللہ تمھاری لغو قسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن ان قسموں پر فرماتا ہے جو تم مضبوط باندھ لو۔” [المائدہ:5/89۔]
قسم اسی وقت منعقد ہوتی ہے جب اس کا تعلق مستقبل سے ہو، کیونکہ ماضی کے کسی واقعے کے بارے میں قسم پوری کرنا یا توڑنا ممکن نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کسی نے جان بوجھ کر ماضی کے کسی معاملے پر جھوٹی قسم اٹھائی تو یہ یمین غموس ہے۔
غموس کے معنی "غوطہ لگانے” کے ہیں، کیونکہ ایسا شخص گناہ میں اور پھر جہنم میں غوطہ لگاتا ہے۔ اس قسم میں کفارہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہ اتنا بڑا گناہ ہے کہ صرف کفارہ اس کے لیے کافی نہیں، بلکہ یہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
اگر نیت کے بغیر قسم کے الفاظ زبان پر جاری ہو جائیں، مثلاً کسی کی عادت ہو کہ وہ کہتا رہے:
✔ ہاں! اللہ کی قسم
✔ نہیں! اللہ کی قسم
تو چونکہ اس میں حقیقی نیت شامل نہیں ہوتی، اس لیے یہ لغو قسم شمار ہوگی، اور اس میں کفارہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَيْمَانَ”
"اللہ تمھاری لغو قسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن ان قسموں پر فرماتا ہے جو تم مضبوط باندھ لیں۔” [المائدہ:5/89۔]
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لغو قسم کے بارے میں فرمایا:
"هُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، كَلَّا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ”
"یہ آدمی کے گھر میں اس طرح کے کلام کو کہتے ہیں کہ وہ بات بات پر کہے: نہیں، اللہ کی قسم! کیوں نہیں، اللہ کی قسم!” [سنن ابی داؤد الایمان النذور باب لغو الیمین حدیث 3254 بعد حدیث 3324۔]
اسی طرح اگر کسی نے خود کو سچا سمجھتے ہوئے قسم اٹھائی، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ حقیقت اس کے خلاف تھی، تو یہ بھی لغو قسم میں داخل ہے اور اس میں کفارہ نہیں۔
② قسم اپنی مرضی اور اختیار سے اٹھائی گئی ہو
قسم اٹھانے والا اپنی رضا و اختیار سے قسم اٹھائے۔ اگر اسے مجبور کیا گیا ہو تو ایسی قسم منعقد نہیں ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو معاف فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عفي لي عَنْ أُمَّتِي الخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ”
"اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا، بھول چوک، اور جس کام پر انہیں مجبور کر دیا جائے، اسے معاف فرما دیا ہے۔” [سنن ابن ماجہ الطلاق باب الطلاق المکرہ والناسی حدیث 2045 لیکن ابن ماجہ میں(عفي عَنْ أُمَّتِي) کے بجائے (إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي) کے الفاظ ہیں ارواء الغلیل 1/1234۔حدیث 82۔]
③ قسم کو جان بوجھ کر توڑا جائے
قسم توڑنے والا اپنی مرضی سے اور جانتے بوجھتے قسم توڑے۔ اگر اس نے بھول کر قسم توڑ دی، یا کسی نے زبردستی اس سے قسم تڑوا دی، تو اس پر کفارہ نہیں، کیونکہ یہ گناہ نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عفي لي عَنْ أُمَّتِي الخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ”
"اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا، بھول چوک اور جبر و اکراہ سے درگزر فرمایا ہے۔” [دیکھیے سابقہ حوالہ۔]
اگر قسم کے ساتھ کلمۂ استثنا کہا گیا ہو، مثلاً کسی نے کہا:
اللہ کی قسم! میں یہ کام ضرور کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ
تو پھر اس کے لیے اس کام کے نہ کرنے کی صورت میں کفارہ لازم نہ ہوگا، بشرطیکہ ان شاء اللہ قسم اٹھاتے وقت ہی کہا گیا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"من حلف على يمين فقال :إن شاء الله؛ لم يحنث "
"جس نے قسم اٹھائی اور ساتھ ان شاء اللہ کہا تو وہ حانث نہ ہوگا۔” [جامع الترمذی النذور والایمان باب ماجاء فی الاستثناء الیمین حدیث 1531۔ومسند احمد 2/309واللفظ لہ۔]
اگر ان شاء اللہ کہنے سے مقصود استثنا نہ ہو بلکہ صرف برکت حاصل کرنا ہو، یا یہ کلمہ قسم کے ساتھ متصل نہ ہو بلکہ کچھ وقت گزرنے کے بعد کہا گیا ہو، تو اس استثنا کا اعتبار نہیں ہوگا۔
البتہ بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اگر قسم مکمل کرنے کے بعد اس نے ان شاء اللہ کہہ دیا، یا مجلس میں کسی نے اسے کہا کہ ان شاء اللہ کہہ دو اور اس نے کہہ دیا، تو اس سے فائدہ حاصل ہو جائے گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی قول کو درست قرار دیا ہے۔
قسم توڑنے کا حکم
قسم توڑنا کبھی واجب ہوتا ہے، کبھی حرام، اور کبھی مباح۔
◈ ① قسم توڑنا واجب ہوتا ہے
جب کسی نے واجب کام چھوڑنے کی قسم کھائی ہو، تو اس پر قسم توڑنا اور کفارہ ادا کرنا واجب ہے۔ مثلاً کسی نے قسم کھائی کہ وہ صلہ رحمی نہیں کرے گا، یا کسی حرام کام کے ارتکاب کی قسم اٹھائی، جیسے شراب پینے کی قسم، تو اس پر لازم ہے کہ وہ قسم توڑے اور کفارہ دے۔
◈ ② قسم توڑنا حرام ہوتا ہے
اگر کسی نے قسم اٹھائی کہ وہ کوئی حرام کام نہیں کرے گا، یا کوئی فرض ادا کرے گا، تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنی قسم پوری کرے، اور اسے توڑنا جائز نہیں ہوگا۔
◈ ③ قسم توڑنا مباح ہوتا ہے
اگر کسی نے کسی مباح کام کے کرنے یا چھوڑنے کی قسم اٹھائی ہو، تو اسے توڑنا جائز ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي”
"اگر میں کسی کام پر قسم اٹھاؤں، پھر اس کے علاوہ کسی اور کام میں بہتری دیکھوں، تو میں بہتر کام ہی کرتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرتا ہوں۔” [صحیح البخاری الایمان والنذور باب قول اللہ تعالیٰ:(لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ)(المائدہ 5/89۔)حدیث وصحیح مسلم الایمان باب ندب من حلف یمینا فرای غیرھا خیراً منہا۔ حدیث 1649۔]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
"من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير ، وليكفر عن يمينه "
"جس شخص نے کسی کام پر قسم اٹھائی، پھر اس نے دیکھا کہ دوسری صورت زیادہ بہتر ہے، تو وہ بہتر صورت اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔” [صحیح مسلم الایمان باب ندب من حلف یمینا فرای غیرھا خیراً منہا۔ حدیث 1649۔]
اگر کسی شخص نے بیوی کے علاوہ کسی اور مباح چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا، مثلاً کھانے، پینے، یا لباس پہننے کو، جیسے یہ کہہ دے:
اللہ تعالیٰ نے جو چیز میرے لیے حلال کی ہے وہ مجھ پر حرام ہے
یا
فلاں چیز کھانا مجھ پر حرام ہے
تو وہ چیز حقیقت میں حرام نہیں ہوگی۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اس چیز کو استعمال کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ ۖ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١﴾ قَدْ فَرَضَ اللَّـهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ ۚ "
"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے، آپ اسے کیوں حرام کرتے ہیں؟ کیا آپ اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہیں؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اللہ نے تمھارے لیے اپنی قسموں کا کھولنا مقرر کر دیا ہے۔” [التحریم 66۔21۔]
اگر کسی نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دیا، تو شریعت کی اصطلاح میں یہ ظہار ہے۔ اس صورت میں ظہار کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا، اور صرف قسم کا کفارہ کافی نہ ہوگا۔ [ظہار اور اس کے کفارے کی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔]
اس مقام پر یہ تنبیہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے علاوہ کسی اور ملت کی قسم بھی نہیں اٹھانی چاہیے۔ مثلاً کوئی مسلمان یوں کہے:
✔ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں یہودی ہوں گا
✔ یا نصرانی ہوں گا
✔ یا اگر فلاں کام نہ کیا تو میں یہودی یا نصرانی ہوں گا
یہ الفاظ نہایت سخت ناپسندیدہ اور شدید حرام ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ فَهُوَ كَمَا قَالَ”
"جس نے اسلام کے سوا کسی اور ملت پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائی، تو وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے۔” [صحیح البخاری الجنائز باب ماجاء فی قاتل النفس حدیث 1363۔وصحیح مسلم الایمان باب بیان غلظ تحریم الانسان نفسہ حدیث 110۔]
ایک اور روایت میں ہے:
"مَنْ حَلَفَ فَقَالَ : إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا”
"جس نے قسم اٹھائی اور کہا کہ وہ اسلام سے بری ہے، تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہو گیا جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ سچا ہے تو وہ اسلام کی طرف صحیح سالم واپس نہیں لوٹے گا۔” [سنن ابی داود، الایمان والنذور باب ماجاء فی الحلف بالبراءۃ۔ حدیث 3257۔]
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس قسم کی بری باتوں سے محفوظ رکھے، اور ہمارے اقوال، اعمال اور نیتوں کو درست فرمائے۔ وہی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے۔
کفارہ قسم کا بیان
یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فضل و کرم ہے کہ اس نے قسم کے حل کے لیے کفارہ مقرر فرما دیا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ ۚ "
"تحقیق اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کیا ہے۔” [التحریم:2/66۔]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأتِ الَّذِي هُوَ خَيرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ”
"جب تم کسی کام کے کرنے پر قسم اٹھاؤ، پھر تم دیکھو کہ اس کے علاوہ دوسرا کام بہتر ہے، تو بہتر کام ہی کرو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔” [صحیح البخاری الایمان والنذور باب قول اللہ تعالیٰ:(لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ)(المائدہ 5/89۔)حدیث وصحیح مسلم الایمان باب ندب من حلف یمینا فرای غیرھا خیراً منہا۔ حدیث 1649۔ وسنن ابی داؤد الایمان باب الحنث اذا کان خیراً حدیث 3277واللفظ لہ۔]
کفارہ قسم میں اختیار بھی ہے اور ترتیب بھی۔
◈ اختیار یہ ہے کہ آدمی ان تین میں سے کوئی ایک کام کر سکتا ہے:
✔ دس مساکین کو کھانا کھلائے
✔ یا دس مساکین کو کپڑا پہنائے
✔ یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے
کھانا کھلانے کی صورت میں ہر مسکین کو نصف صاع کھانا دیا جائے۔
کپڑا دینے کی صورت میں ہر مسکین کو اتنا لباس دیا جائے جو اس کے لیے نماز ادا کرنے کے لیے کافی ہو۔
غلام یا لونڈی آزاد کرنے کی صورت میں وہ ہر قسم کے عیب سے پاک ہو۔
اگر ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو پھر تین روزے رکھے جائیں۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ کفارہ قسم، اختیار اور ترتیب دونوں کا مجموعہ ہے۔ کھانا کھلانے، لباس پہنانے اور غلام یا لونڈی آزاد کرنے میں اختیار ہے، لیکن ان تینوں اور روزے کے درمیان ترتیب ہے۔ یعنی جب کوئی شخص پہلے تین کاموں سے عاجز ہو تب ہی وہ تین روزے رکھے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
"فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ”
"اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا دینا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے۔ اور جس کو مقدور نہ ہو، اس کے لیے تین دن کے روزے ہیں۔” [المائدہ: 5/89۔]
جمہور اہل علم نے غلام یا لونڈی آزاد کرنے کی صورت میں اس کے مومن ہونے کی شرط بھی لگائی ہے۔ اسی طرح تین روزوں کے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ مسلسل ہونے چاہییں، کیونکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت یوں ہے:
"فصيام ثلاثة أيام متتابعات”
"پے در پے تین روزے رکھے۔” [تفسیر الطبری المائدۃ5/89۔حدیث 9753۔9756۔]
کفارہ قسم کے مسئلے میں اکثر لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کفارے کی ہر صورت یکساں ہے، اس لیے کھانا کھلانے یا لباس دینے کی طاقت ہونے کے باوجود روزے رکھ لیتے ہیں۔ حالانکہ ایسی صورت میں روزے رکھنے سے کفارہ ادا نہ ہوگا، کیونکہ روزے اس وقت مشروع ہیں جب قسم توڑنے والا کھانا اور لباس دینے سے عاجز ہو۔
قسم توڑنے سے پہلے بھی کفارہ دینا جائز ہے اور بعد میں دینا بھی جائز ہے۔ اگر پہلے دے دیا جائے تو اس کی وجہ سے قسم کھل جاتی ہے، اور اگر بعد میں دیا جائے تو وہ قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔
اس پر دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
"وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأتِ الَّذِي هُوَ خَيرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ”
"جب تم کسی کام کے کرنے پر قسم اٹھاؤ اور تم دیکھو کہ اس کے علاوہ دوسرا کام بہتر ہے تو بہتر کام ہی کرو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔” [صحیح البخاری الایمان والنذور باب قول اللہ تعالیٰ:(لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ)(المائدہ 5/89۔)حدیث وصحیح مسلم الایمان باب ندب من حلف یمینا فرای غیرھا خیراً منہا۔ حدیث 1649۔ وسنن ابی داؤد الایمان باب الحنث اذا کان خیراً حدیث 3277واللفظ لہ۔]
یہ حدیث قسم توڑنے کے بعد کفارہ دینے کے جواز پر دلیل ہے۔
دوسری حدیث میں ہے:
"فكفز عن يمينك ثمّ ائت الذي هُوَ خَيْرٌ”
"اپنی قسم کا کفارہ دے، پھر وہ کام کر جو بہتر ہے۔” [وسنن ابی داؤد الایمان باب والنذور الحنث اذا کان خیراً حدیث 3277واللفظ لہ۔]
یہ حدیث قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ ان دونوں طرح کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کفارے کو پہلے یا بعد میں ادا کرنا دونوں صورتوں میں جائز ہے۔
اگر ایک مسلمان دوسرے پر قسم ڈال کر کوئی کام کرنے کو کہے تو اس کا پورا کرنا مسلمان کا مسلمان پر حق ہے۔ چنانچہ براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ: أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ المَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ العَاطِسِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلاَمِ، وَنَصْرِ المَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ المُقْسِمِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الفِضَّةِ، أَوْ قَالَ: آنِيَةِ الفِضَّةِ، وَعَنِ المَيَاثِرِ وَالقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِ "
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مریض کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے جانے، چھینکنے والے کے جواب دینے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے، سلام کو عام کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، اور قسم دلانے والے کی قسم پوری کرنے میں اس کا ساتھ دینے کا حکم دیا۔۔۔” [صحیح البخاری النکاح باب حق اجابۃالولیمہ والدعوۃ حدیث 5175۔وصحیح مسلم اللباس والزینۃ باب تحریم استعمال اناء الذہب والفضۃ علی الرجال والنساء حدیث 2066۔]
اگر کسی نے ایک ہی کام کے بارے میں، کفارہ ادا کرنے سے پہلے متعدد قسمیں اٹھائی ہوں، تو وہ ایک ہی قسم شمار ہوگی اور ایک ہی کفارہ کافی ہوگا۔
اسی طرح اگر کسی نے متعدد چیزوں پر ایک ہی قسم اٹھائی، مثلاً اس نے کہا:
اللہ کی قسم! میں نہ کچھ کھاؤں گا، نہ پیوں گا، اور نہ لباس پہنوں گا
پھر اس نے ان میں سے ایک کام کر لیا، مثلاً کچھ پی لیا، تو اس پر ایک ہی کفارہ ہوگا، اور باقی چیزوں کے بارے میں بھی قسم ختم ہو جائے گی، کیونکہ یہ ایک ہی قسم تھی جو ٹوٹ گئی۔
لیکن اگر کسی نے متعدد کاموں کے بارے میں الگ الگ قسمیں اٹھائیں اور پھر سب توڑ دیں، تو ہر قسم کا الگ کفارہ ہوگا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کفارہ ادا کرنے سے پہلے کئی قسمیں اٹھائیں، اس مسئلے میں کئی روایات منقول ہیں۔ ان میں صحیح بات یہ ہے کہ اگر ایک ہی کام پر قسمیں ہوں تو ایک کفارہ کافی ہے، ورنہ جتنی قسمیں ہوں گی اتنے ہی کفارے ہوں گے۔
اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ فلاں کام نہیں کرے گا، پھر وہی کام بھول کر کر بیٹھا، یا کسی کے مجبور کرنے پر کیا، یا اسے معلوم ہی نہ تھا کہ یہ کام بھی قسم کے دائرے میں آتا ہے، تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی اور اس پر کفارہ لازم نہ ہوگا، کیونکہ جو کام زبردستی کرایا جائے وہ کرنے والے کی طرف منسوب نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ "
"اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہمیں نہ پکڑ۔” [البقرۃ:2/286۔]
اس امت کے افراد کے لیے خطا، نسیان اور اکراہ کے معاملات میں معافی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کفارہ قسم کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
"وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُم”
"اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔” [المائدہ: 5/89۔]
قسموں کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ:
◈ قسم اٹھانے میں جلد بازی نہ کی جائے
◈ قسم توڑنے میں جلدی نہ کی جائے
◈ اگر قسم توڑ دی جائے تو اسے بغیر کفارے کے نہ چھوڑا جائے
آیتِ کریمہ ان تمام صورتوں کو شامل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قسم کا احترام ضروری ہے، اسے معمولی اور بے وقعت نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس امر پر متنبہ کرنا بھی نہایت ضروری ہے کہ بعض لوگ جب قسم اٹھاتے ہیں تو پھر اس سے بچنے کے لیے حیلے بناتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ قسم کی ذمہ داری سے نکل گئے ہیں۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلے پر تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ باطل حیلوں میں سے یہ بھی ہے کہ اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ وہ یہ روٹی نہیں کھائے گا، یا اس سال فلاں گھر میں نہیں رہے گا، یا فلاں کھانا نہیں کھائے گا، پھر وہ وہی روٹی کھا لے مگر ایک لقمہ چھوڑ دے، یا وہ پورا سال اسی گھر میں رہے مگر ایک دن کم کر دے، یا وہ تمام کھانا کھا لے مگر تھوڑا سا چھوڑ دے، تو یہ سب باطل حیلے ہیں۔ جب وہ اصل کام کر چکا تو اس کی قسم ٹوٹ گئی۔ حیلہ سازی کرنے والے کو ایسے کاموں سے بچنا چاہیے۔ [اعلام الموقعین :3/267۔]
بعض لوگ قسم اٹھا لیتے ہیں کہ وہ فلاں کام نہیں کریں گے، پھر کسی دوسرے کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں اور وہی کام اس سے کروا لیتے ہیں۔ یہ بھی مذموم حیلہ سازی ہے۔ البتہ اگر اس نے خاص طور پر یہ قسم کھائی ہو کہ وہ یہ کام خود نہیں کرے گا، تب اس کی قسم اپنی جگہ برقرار رہے گی۔
الغرض ہر حال میں قسم کی بڑی اہمیت ہے۔ اس معاملے میں سستی جائز نہیں، اور نہ ہی قسم کے حکم سے بچنے کے لیے حیلہ سازی کرنی چاہیے۔
نذر کے احکام
نذر کے لغوی معنی لازم کرنے کے ہیں، جبکہ شرعی معنی یہ ہیں کہ کوئی عاقل، بالغ اور مختار شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے اوپر کسی کام کو لازم کر لے۔
نذر عبادات کی اقسام میں سے ایک قسم ہے، اس لیے غیر اللہ کے لیے نذر ماننا جائز نہیں۔ جو شخص غیر اللہ کے لیے، مثلاً کسی قبر، فرشتے، نبی، یا ولی کے لیے نذر مانتا ہے، وہ ایسے شرک کا مرتکب ہوتا ہے جو دین اسلام سے خارج کر دینے والا ہے، کیونکہ اس نے غیر اللہ کی عبادت کی۔
جو لوگ اولیاء اور صالحین کی قبروں کے نام پر کچھ دینے کی نذر مانتے ہیں، وہ شرکِ اکبر کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ توبہ کریں، اس کبیرہ گناہ سے بچیں، اور اپنی قوم کو بھی ڈرائیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور جہنم سے محفوظ رہیں۔
نذر کا اصل حکم یہ ہے کہ وہ مکروہ ہے، بلکہ اہل علم کی ایک جماعت نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ:
"نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَلَكِنَّهُ يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ "
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا ہے، اور فرمایا کہ نذر کسی چیز کو واپس نہیں کرتی، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے کچھ مال نکلوا لیا جاتا ہے۔” [صحیح البخاری القدر باب القاء العبد النذر الی القدر حدیث6608وصحیح مسلم النذر باب النھی عن النذرو انہ لا یرد شینا حدیث 1639۔ 1640۔]
نذر کے مکروہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نذر ماننے والا اپنے اوپر ایسی چیز لازم کر لیتا ہے جو شریعت میں اس پر لازم نہیں تھی۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے، حالانکہ مسلمان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ نیک کام بغیر نذر کے بھی انجام دے۔
لیکن اگر نذر مان لی جائے تو پھر اسے پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَمَا أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ ۗ "
"تم جو کچھ خرچ کرو، یعنی خیرات کرو، اور جو کچھ نذر مانو، بے شک اللہ اسے خوب جانتا ہے۔” [البقرۃ:2/270۔]
اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
"يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا”
"وہ نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیلنے والی ہوگی۔” [الدہر7/76۔]
اور فرمایا:
"وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ "
"اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنی نذریں پوری کریں۔” [الحج 22۔29۔]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلَا يَعْصِهِ”
"جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا تو وہ اطاعت کرے، اور جس نے نذر مانی کہ وہ اس کی نافرمانی کرے گا تو وہ نافرمانی نہ کرے۔” [صحیح البخاری الایمان باب النذر فی الطا عۃ حدیث 6696۔وسنن ابی داؤد الایمان والنذور باب النذر فی المعصیۃ حدیث 3289۔واللفظ لہ۔]
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت والے کام کو اپنے اوپر لازم کرنے کی صرف چار صورتیں ہیں:
① کسی کام کا التزام صرف قسم سے کیا جائے۔
② کسی کام کا التزام صرف نذر کے ذریعے کیا جائے۔
③ قسم کے ذریعے لازم کرے اور نذر سے اسے مؤکد بنائے۔
④ نذر کے ذریعے لازم کرے اور قسم کے ذریعے اسے مزید مضبوط بنائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ”
"اور ان میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور نیکوکاروں میں سے ہو جائیں گے۔” [التوبۃ 9/75۔]
ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنا عہد پورا کرے، ورنہ وہ اس وعید کا مستحق ہوگا:
"فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ "
"چنانچہ اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا۔” [التوبۃ 9/77۔]
فقہائے کرام نے نذر کے منعقد ہونے کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ نذر ماننے والا عاقل، بالغ اور مختار ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثلاثة: عن الصَّبِى حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ”
"تین اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور مجنون سے یہاں تک کہ وہ ہوش میں آ جائے۔” [سنن ابن ماجہ الطلاق باب طلاق المعتوہوالصغیر والنائم حدیث :2041۔]
اگر کسی کافر نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نذر مانی ہو تو وہ نذر درست ہوگی، لیکن اسے پورا کرنا اس وقت لازم ہوگا جب وہ مسلمان ہو جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ بیت اللہ میں ایک رات اعتکاف کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَوْفِ بِنَذْرِكَ”
"اپنی نذر پوری کرو۔” [صحیح البخاری الاعتکاف باب الاعتکاف لیلا حدیث 2032۔]
جائز نذر کی پانچ اقسام
① نذر مطلق
مثلاً کوئی شخص بغیر کسی خاص کام کا نام لیے یہ کہے:
میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے نذر مانی
ایسے شخص پر کفارہ قسم لازم ہوگا، چاہے نذر مشروط ہو یا غیر مشروط۔
چنانچہ عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"كفَّارة النذر إذا لم يُسمِّ كفارة اليمين”
"جب نذر میں کسی کام کا نام نہ لیا جائے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔” [صحیح مسلم النذر باب فی کفارہ النذر حدیث: 1645۔وجامع الترمذی النذور باب فی کفارۃ اذا لم یسم حدیث 1528۔واللفظ لہ۔]
② نذر غضب
مثلاً کوئی شخص کہے:
✔ اگر میں نے تجھ سے کلام کیا
✔ یا مجھے تیرے بارے میں خبر نہ ملی
✔ یا اگر فلاں خبر سچی ثابت ہوئی
✔ یا جھوٹی ثابت ہوئی
تو میں حج کروں گا، یا غلام یا لونڈی آزاد کروں گا
اس قسم کی نذر میں نذر ماننے والے کو اختیار ہے کہ چاہے نذر پوری کرے یا کفارہ ادا کرے۔
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
” لا نذر في غضب ، وكفارته كفارة يمين”
"غصے کی حالت میں مانی ہوئی نذر کو پورا کرنا ضروری نہیں، اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔” [(ضعیف) مسند احمد4/433وارواء الغلیل 8/211۔حدیث 2587۔]
③ نذر مباح
مثلاً کسی نے نذر مانی کہ وہ فلاں کپڑا پہنے گا، یا اپنے فلاں جانور پر سوار ہوگا۔
اس قسم کی نذر میں بھی اسے اختیار ہے کہ چاہے نذر پوری کرے یا کفارہ ادا کرے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ نذر مباح ماننے والے پر کفارہ لازم نہیں آتا۔ اس کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑا دیکھا۔ جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو لوگوں نے عرض کیا:
یہ ابو اسرائیل ہے۔ اس نے نذر مانی ہے کہ دھوپ میں کھڑا رہے گا، بیٹھے گا نہیں، سائے میں نہیں آئے گا، کسی سے بات نہیں کرے گا، اور روزہ رکھے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مروه فليتكلم، وليستظل، وليقعد، وليتم صومه”
"اسے حکم دو کہ بات کرے، سائے میں آ جائے، بیٹھ جائے، اور اپنا روزہ پورا کرے۔” [صحیح البخاری الا یمان باب النذر فیما لایملک وفی معصیۃ حدیث 6704۔]
④ نذر معصیت
وہ نذر جس میں شریعت کے کسی حکم کی مخالفت ہو، مثلاً:
✔ شراب پینے کی نذر
✔ ایامِ حیض میں روزہ رکھنے کی نذر
✔ یوم النحر یعنی عید والے دن روزہ رکھنے کی نذر
اس قسم کی نذر کو پورا کرنا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلا يَعْصِهِ "
"جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔” [صحیح البخاری الایمان باب النذر فی الطا عۃ حدیث 6696۔وسنن ابی داؤد الایمان والنذور باب النذر فی المعصیۃ حدیث 3289۔واللفظ لہ۔]
بعض اہل علم کے نزدیک ایسی نذر کا کفارہ ادا کرنا ہوگا، کیونکہ معصیت کا ارتکاب کسی حال میں جائز نہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت، مثلاً حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی منقول ہے۔
جبکہ اہل علم کی ایک دوسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ معصیت کی نذر منعقد ہی نہیں ہوتی، اس لیے اس میں کفارہ بھی نہیں۔ ائمہ اربعہ کا بھی یہی مذہب ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے، اور فرمایا ہے کہ جس نے کسی قبر یا قبرستان میں، یا پہاڑ پر، یا درخت پر چراغ جلایا، یا اس کے لیے نذر مانی، تو یہ جائز نہیں ہوگا اور نہ اسے پورا کیا جائے گا، بلکہ وہ رقم کسی نیکی کے کام میں خرچ کی جائے گی۔
⑤ نذر تبرر
یعنی ایسی نذر ماننا جس میں جائز کام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی ہو، مثلاً:
✔ نماز کی نذر
✔ روزے کی نذر
✔ حج کی نذر
یہ نذر مطلق بھی ہو سکتی ہے، مثلاً کوئی کہے:
میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نماز پڑھوں گا
یا
میں روزے رکھوں گا
اور شرط کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے، مثلاً کوئی یوں کہے:
اگر اللہ تعالیٰ نے میرے فلاں مریض کو شفا دے دی تو میں اتنی رقم اللہ کے راستے میں دوں گا
یا
اتنی تعداد میں نوافل ادا کروں گا
اگر شرط پوری ہو جائے تو نذر کو پورا کرنا لازم ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ”
"جس نے نذر مانی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا تو وہ اس کی اطاعت کرے۔” [صحیح البخاری الایمان باب النذرفی الطا عۃ حدیث:66۔96۔]
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"يُوفُونَ بِالنَّذْرِ”
"جو نذریں پوری کرتے ہیں۔” [الدھر7۔76۔]
اور فرمایا:
"وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ”
"اور وہ اپنی نذریں پوری کریں۔” [الحج 22۔ 29۔]
واللہ اعلم بالصواب۔