مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قسطوں پر گاڑی یا موٹر سائیکل خریدنا شرعی لحاظ سے جائز؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، جلد 2، صفحہ 220

قسطوں پر خریداری کا شرعی حکم

سوال:

کیا قسطوں پر گاڑی یا موٹر سائیکل خریدنا جائز ہے؟ مثلاً جب ہم کسی دکان سے موٹر سائیکل خریدتے ہیں، تو خریداری سے پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ خریدار دکاندار کو 25 ہزار روپے نقد دے گا، اور باقی رقم ماہانہ قسطوں میں دو ہزار روپے کی ادائیگی سے مکمل کرے گا۔ اس حساب سے موٹر سائیکل کی کل قیمت 80 ہزار روپے بنتی ہے۔ لیکن اگر وہی موٹر سائیکل نقد خریدا جائے تو 75 ہزار روپے میں ملتی ہے۔
اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کی خرید و فروخت سود میں شامل تو نہیں ہو جاتی؟ کیونکہ فتاویٰ اسلامیہ، جلد دوم میں اس معاملے کے جائز ہونے کا فتویٰ موجود ہے۔
براہ کرم وضاحت فرمائیں کہ کیا اس طرح قسطوں پر چیز خریدنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ سود میں شامل ہوتا ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نقد اور ادھار قیمت میں فرق ہونے کی صورت میں اس قسم کی بیع کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف معروف ہے۔

شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اور بعض دیگر علماء کے نزدیک اس طرح کی بیع ناجائز ہے۔
راقم الحروف (جواب دینے والے عالم دین) کی تحقیق بھی اسی رائے کی تائید کرتی ہے۔
◈ اس موقف کی تائید میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی موجود ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل حوالہ ملاحظہ فرمائیں:

(تفصیل کے لئے دیکھئے: ماہنامہ شہادت، جلد ۶، ششمارہ ۵، صفحہ ۳۰، مئی ۱۹۹۹ء)

نتیجہ:

اس تحقیق کے مطابق جب قیمت دو مختلف صورتوں میں طے کی جاتی ہے – نقد کی صورت میں کم اور قسطوں کی صورت میں زیادہ – تو یہ معاملہ مشکوک بن جاتا ہے اور سود کے قریب ہو سکتا ہے، لہٰذا احتیاط برتنا لازم ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔