مضمون کے اہم نکات
اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان، نہایت رحم والا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى مُحَمَّدٍ رَّسُولِ اللّٰهِ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ، الَّذِي لاَ نَبِيَّ بَعْدَهُ، وَعَلَى جَمِيعِ الأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، وَعَلَى وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ، أَمَّا بَعْدُ:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، اور درود و سلام ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں، جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور تمام انبیاء و مرسلین پر، اور ان کی ازواج، اولاد، تمام صحابہ، اور ان تمام لوگوں پر جو قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلتے رہیں۔
نبی کریم ﷺ کی بشارت: قسطنطنیہ پر پہلا حملہ
قارئین کرام! "قسطنطنیہ” پر سب سے پہلے حملہ کرنے والے "لشکر” کے متعلق نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ایک بشارت درج ذیل ہے:
قال رسول الله ﷺ:«أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ»
ترجمہ: میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا، ان کی مغفرت کر دی جائے گی۔
(📚 صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ما قیل فی قتال الروم: حدیث 2924)
امام مہلب اور یزید کی منقبت
اس بشارت کو سب سے پہلے "امیر یزید (م۶۴ھ)” کی منقبت میں پیش کرنے والے امام مہلب بن احمد الاسدی (م۴۳۵ھ) ہیں۔ ان کے شاگرد امام ابو الحسن علی بن خلف المعروف ابن بطال (م۴۴۹ھ) نے اپنی شرح بخاری میں امام مہلب کا قول نقل کیا:
قال المهلب:«من هذا الحديث فضل لمعاوية، لأنه أول من غزا الروم وابنه يزيد غزا مدينة قيصر»
ترجمہ: اس حدیث سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ وہ رومیوں پر حملہ کرنے والے پہلے شخص تھے، اور ان کے بیٹے یزید نے قیصر کے شہر پر حملہ کیا۔
(📚 شرح صحیح بخاری لابن بطال: جلد 5، صفحہ 107)
اس رائے پر تنقید اور تاریخی اختلاف
امام مہلب کے اس قول پر بعد کے علماء نے اعتراض بھی کیا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی (م۸۵۲ھ) کے مطابق، امام ابن التین (م۶۱۱ھ) اور امام ابن المنیر (م۶۹۵ھ) نے اس تفرد کا تعاقب کیا اور اسے درست قرار نہیں دیا۔
(📚 فتح الباری، جلد 6، صفحہ 102–103)
اس کے باوجود، امام مہلب کے بعد امام ابن تیمیہ (م۷۲۸ھ) اور امام ابن کثیر (م۷۷۴ھ) نے بھی اسی بشارت کو یزید کی مدح میں ذکر کیا۔
بعد کے علما کا رویہ
ان تینوں علماء کے بعد آنے والے شارحین اور محققین نے خاص طور پر امام مہلب کے قول کو نقل کیا ہے۔ بعض نے تو اس قول کو بطور دلیل بھی پیش کیا، جبکہ کچھ علماء نے اس کا رد بھی کیا۔
اہم نکتہ:
لیکن کسی نے بھی اس بات کی کوئی مستند دلیل پیش نہیں کی کہ "امیر یزید (م۶۴ھ)” ہی اس پہلے لشکر کے امیر تھے، جن کی مغفرت کی بشارت دی گئی۔
معاصر محققین نے یزید کے "پہلے لشکر” ہونے کو ثابت کرنے کی کوششیں کیں، مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ بلکہ محدثین و مؤرخین کے مطابق، امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود کئی بار قسطنطنیہ پر حملے کیے، اور مختلف لشکر بھیجے۔
متقدمین و متاخرین کا سکوت
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ متقدمین محدثین، فقہاء اور مؤرخین جیسے امام غزالی (م۵۰۵ھ)، امام عبدالغنی المقدسی (م۶۰۰ھ)، امام ابن العربی (م۵۴۳ھ)، امام عبد المغیث (م۵۸۳ھ) وغیرہ نے اگرچہ یزید کے بارے میں دفاعی کلمات کہے ہیں، مگر ان میں سے کسی نے بھی اس بشارت کو یزید کی مدح میں پیش نہیں کیا۔
اگر کسی نے کیا ہو تو برائے مہربانی مطلع فرمائیں۔
⚔️ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ: کون سا لشکر تھا؟
قارئین کرام! "ارض روم” یعنی "قسطنطنیہ” پر حملہ کرنے والا پہلا لشکر کون سا تھا؟ اس مسئلے میں سلف صالحین رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ملتے ہیں۔
محدثین و مؤرخین نے امیر المؤمنین معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے کئی حملوں کا ذکر کیا ہے اور ان کی طرف سے بھیجے گئے متعدد لشکروں کا بھی تذکرہ ہے، جن میں بعض کی اسناد ضعیف یا موضوع ہیں، اور بعض تو بغیر سند کے نقل کیے گئے ہیں۔
لہٰذا ہم صرف ان روایات کو ذکر کریں گے جن کی اسناد صحیح یا حسن درجے کی ہیں، اور ان کی روشنی میں یہ طے کرنے کی کوشش کریں گے کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کس لشکر نے کیا۔
نوٹ: ہمارا مقصد یہ ہے کہ اہل حدیث کے درمیان یزید کے بارے میں جاری تنازع کو دلائل کی بنیاد پر واضح کیا جائے۔ کیونکہ عوام الناس تک بھی یہ مسئلہ پہنچ چکا ہے، اور اس کی بنیاد پر ایک دوسرے کو رافضی یا ناصبی جیسے القابات دیے جا رہے ہیں، جبکہ کتاب "”یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ”” از کفایت اللہ سنابلی اس بحث کو مزید ہوا دے رہی ہے۔
کاش سنابلی صاحب دلائل کی روشنی میں یزید کے متعلق حقیقت واضح کرتے، مگر وہ دفاع یزید میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ پر اعتراضات نقل کرتے نظر آتے ہیں۔
ان شاء اللہ، سنابلی صاحب کے جواب میں ہماری کتاب جلد منظر عام پر آئے گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حق پر عمل کرنے، اُسے ماننے، اُسے پھیلانے، اور اپنے غلط موقف سے رجوع کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 قسطنطنیہ پر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ادوار میں روانہ ہونے والے لشکر
(1) سیدنا معن بن یزید بن الاخنس رضی اللہ عنہم کا لشکر
امام ابو داود (م۲۷۵ھ) نے بیان کیا:
عن أبي الجويرية الجرمي، قال:«أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ، وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ…»
ترجمہ: ابو جویریہ الجرمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں روم کی سرزمین پر ہمیں ایک سرخ گھڑا ملا جس میں دینار تھے۔ اس وقت ہمارے امیر نبی کریم ﷺ کے صحابی سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔
(📚 سنن ابو داود: کتاب الجہاد، حدیث 2753-2754)
فائدہ:
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لشکر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں روانہ ہوا۔
اگرچہ اس روایت میں سنِ واقعہ مذکور نہیں، لیکن واضح ہے کہ اس کے امیر سیدنا معن بن یزید تھے۔
نوٹ:
سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ کو چونسٹھ (64) ہجری میں قتل کر دیا گیا، کیونکہ انہوں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کی تھی۔
(2) سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ کا لشکر
امام احمد بن حنبل (م۲۴۱ھ) نے روایت کیا:
قال أبو ثعلبة الخشني:«وَهُوَ بِالْفُسْطَاطِ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَغْزَى النَّاسَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، فَقَالَ: وَاللّٰهِ لَا تَعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ…»
ترجمہ: ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں فسطاط شہر میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں تھا، اور معاویہ نے لوگوں کو قسطنطنیہ پر حملے کے لیے بھیجا۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! یہ امت نصف دن کے لیے بھی عاجز نہیں ہوگی…
(📚 مسند احمد: حدیث 17886 / 17734 – اسناد علی شرط مسلم)
نوٹ:
اس روایت میں سنِ غزوہ اور امیر کا نام نہیں آیا، لیکن بعد کے بعض علماء نے وضاحت کی ہے۔
جیسے امام ابو زرعہ الدمشقی (م۲۸۱ھ) فرماتے ہیں:
«أغزاهم معاوية ابنه يزيد بن معاوية هذه الغزاة سنة خمس وخمسين، وحضرها أبو ثعلبة الخشني».
ترجمہ: معاویہ نے اس غزوہ میں اپنے بیٹے یزید کو امیر بنا کر روانہ کیا، یہ غزوہ 55 ہجری میں ہوا اور ابو ثعلبہ الخشنی اس میں شریک تھے۔
(📚 تاریخ ابو زرعہ: حدیث 2119)
نتیجہ:
اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو ثعلبہ کا لشکر وہی تھا جو یزید کی امارت میں روانہ ہوا۔
🛡️ یزید بن معاویہ کا لشکر اور ابو ایوب انصاریؓ کی شرکت
(3) امیر یزید (م۶۴ھ) کا لشکر
امام محمد بن اسماعیل البخاری (م۲۵۶ھ) نے ایک روایت ذکر کی جس سے واضح ہوتا ہے کہ یزید بن معاویہ ایک لشکر کے امیر تھے جو ارض روم (قسطنطنیہ) پر حملہ آور ہوا۔ اس لشکر میں صحابی رسول ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے۔
عن محمود بن الربيع الأنصاري قال:
«فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا، وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّومِ… فَتَأَكَّدَتِ الرِّوَايَةُ»
ترجمہ: محمود بن الربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک حدیث بیان کی، جس وقت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کے اس جہاد میں موجود تھے، جس میں ان کی وفات ہوئی اور اس وقت یزید بن معاویہ ان پر امیر تھے۔
(📚 صحیح بخاری: کتاب التہجد، باب صلاۃ النوافل جماعۃ، حدیث 1186)
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات کی تاریخ
امام ابن عساکر (م۵۷۱ھ) نے محمود بن الربیع کی روایت بیان کی جس میں ان کی زبانی یہ بات بھی موجود ہے:
«توفي أبو أيوب في غزوة عمورية ويزيد بن معاوية عليهم في أرض الروم، ومات أبو أيوب في سنة ثنتين وخمسين بالقسطنطينية»
ترجمہ: ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ غزوہ عموریہ میں شہید ہوئے جب یزید بن معاویہ ان پر امیر تھے، اور ان کی وفات 52 ہجری میں قسطنطنیہ میں ہوئی۔
(📚 تاریخ دمشق لابن عساکر: ج۵ ص۴۴۴ / ج۱۶ ص۶۱، ت۱۸۷۶)
روایت کی سند کا تحقیقی جائزہ
اس روایت کی سند کے راوی درج ذیل معتبر شخصیات ہیں:
-
أم البهاء فاطمة بنت محمد الأصبهانیہ (م۵۳۹ھ) – شیخہ، عالمہ، صالحہ
-
أبو طاہر بن محمود الأصبهانی (م۴۵۵ھ) – ثقہ، محدث
-
محمد بن إبراهيم المعروف بابن المقرئ (م۳۸۱ھ) – ثقہ، صاحبِ اصول
-
محمد بن جعفر بن إسحاق المنبجی – صالح، فاضل
-
عبید اللّٰه بن سعد الزهری (م۲۶۰ھ) – قاضی، ثقہ
-
یعقوب بن إبراهيم بن سعد (م۲۰۸ھ) – فاضل، ثقہ
-
إبراهيم بن سعد (م۱۸۵ھ) – ثقة حجة
-
ابن شهاب الزهری (م۱۲۵ھ) – متفق علی جلالته وإتقانه
لہٰذا یہ روایت صحیح الاسناد ہے۔
نتیجہ
یہ روایت نہ صرف اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یزید بن معاویہ نے 52 ہجری میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اسی لشکر میں شریک تھے اور اسی جہاد میں ان کی وفات ہوئی۔
📅 مختلف اقوال: ابو ایوب انصاریؓ کی وفات کس سن میں؟
بعض مؤرخین نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات انچاس (49ھ)، پچاس (50ھ)، اکاون (51ھ)، ترپن (53ھ) اور پچپن (55ھ) ہجری بتائی ہے۔
مگر صحیح سند سے محمود بن الربیع کا قول جو خود اس غزوہ میں شریک تھے، 52 ہجری کی تصریح کرتا ہے، اور اکثر علماء کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
جیسا کہ:
امام ابن عبد البر (م۴۶۳ھ) فرماتے ہیں:
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ قسطنطنیہ میں 50، 51 یا 52 ہجری میں وفات پا گئے، اور یہ غزوہ یزید کی قیادت میں تھا۔ 52 ہجری کا قول زیادہ مشہور ہے۔
(📚 الاستیعاب، جلد 2، صفحہ 1425)
امام ابن الاثیر (م۶۳۰ھ) لکھتے ہیں:
ابو ایوب نے 50، 51 یا 52 ہجری میں وفات پائی، جو یزید بن معاویہ کے لشکر میں شریک تھے۔
(📚 اسد الغابہ، جلد 1، صفحہ 573)👥 یزید کے ساتھ دیگر صحابہ کرام کی شرکت: حقیقت یا مبالغہ؟
سوال:
کیا سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام بھی اس لشکر میں شریک تھے جس کے امیر یزید بن معاویہ تھے؟
بعض مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا ابو شیبہ الخدری، سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی، سیدنا عوف بن مالک، سیدنا حسین بن علی، سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس، سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر، سیدنا عبد اللّٰہ بن زبیر اور سیدنا عبد اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم اس لشکر میں شریک تھے۔
آئیے ہر ایک دعوے کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں:
✅ سیدنا ابو شیبہ الخدری رضی اللہ عنہ
متعدد علماء نے کہا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ارض روم میں وفات پا گئے، جس سے ان کے شریک ہونے کا قوی امکان پیدا ہوتا ہے:
ابن ابی عاصم (م۲۸۷ھ):
"فمات أبو شيبة رضي الله عنه بأرض الروم فدفناه”ابن عبد البر (م۴۶۳ھ):
"مات بأرض الروم في حصار القسطنطينية، ودفن هناك”ابن عساکر (م۵۷۱ھ):
"وكان فيمن غزا القسطنطينية مع يزيد بن معاوية”ابن الصلاح (م۶۴۳ھ):
"مات في حصار القسطنطينية، ودفن هناك مكانه”(تفصیل: 📚 الاحاد والمثاني، 📚 الاستغناء، 📚 تاریخ دمشق، 📚 مقدمہ ابن الصلاح)
📌 نتیجہ:
ان اقوال سے ابو شیبہ الخدری رضی اللہ عنہ کے شریک ہونے کا قوی امکان موجود ہے، لیکن باسند صحیح یا حسن تصریح نہیں مل سکی۔⚠️ سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ
دعویٰ:
ابو زرعہ الدمشقی (م۲۸۱ھ) اور ابن العدیم (م۶۶۰ھ) نے کہا کہ وہ یزید کے ساتھ 55 ہجری میں شریک تھے۔أغزاهم معاوية ابنه يزيد سنة خمس وخمسين، وحضرها أبو ثعلبة الخشني
(📚 تاریخ ابو زرعہ: حدیث 2119)تنبیہ:
مگر یہ بات صحیح سند سے ثابت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات 52 ہجری میں اسی لشکر میں ہوئی تھی، لہٰذا 55 ہجری کا قول درست نہیں۔📌 نتیجہ:
ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا شریک ہونا ثابت نہیں۔ واللہ أعلم۔❌ سیدنا عوف بن مالک الشجعی رضی اللہ عنہ
روایت 1:
"أن عوف بن مالك غزا مع يزيد بن معاوية قسطنطينية…”
(📚 تاریخ الصغیر للبخاری: ج۱ ص۱۵۲)
🛑 ضعف کا سبب:
اسماعیل بن رافع راوی متروک ہے۔(📚 تہذیب الکمال: ج۳ ص۸۵–۹۰)
روایت 2:
"غزونا مع عوف بن مالك في خلافة يزيد…”
(📚 تاریخ الرقة)
🛑 ضعف کا سبب:
راوی موسیٰ بن عیسیٰ بن بحر مجہول ہے۔
روایت 3 (نسبتاً بہتر):
"سرنا في حصن دون القسطنطينية، وعلينا عوف بن مالك…”
(📚 تاریخ الرقة)
📌 نتیجہ:
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ قسطنطنیہ کے قریب کسی قلعے میں تھے، مگر یزید کے ساتھ لشکر میں شرکت ثابت نہیں۔
❌ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما
دعویٰ:
بعض مؤرخین نے ذکر کیا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ یزید کے ساتھ قسطنطنیہ کے غزوہ میں شریک تھے۔ابن عساکر:
"وفد على معاوية وتوجه غازيا إلى القسطنطينية…”🛑 مسئلہ:
ابن عساکر نے خود اسی صفحہ پر ایک اور روایت کو نقل کر کے فرمایا:"هذا حديث منكر ولا أرى إسناده متصلاً إلى الحسين”
ترجمہ: یہ حدیث منکر ہے اور میں اسے حسین رضی اللہ عنہ سے متصل نہیں سمجھتا۔
(📚 تاریخ دمشق: ج۵ ص۱۳)📌 نتیجہ:
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا یزید کے لشکر میں شریک ہونا ثابت نہیں ہے۔📚 یزید کے ساتھ دیگر صحابہ کی شرکت: طبری و دیگر مؤرخین کا حوالہ اور علمی جائزہ
❌ سیدنا عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن زبیر، اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم
بعض مؤرخین نے ان جلیل القدر صحابہ کی قسطنطنیہ کے غزوے میں شرکت کا ذکر کیا ہے:
📖 امام طبری (م۳۱۰ھ)
وفیها كانت غزوة يزيد بن معاوية الروم حتى بلغ قسطنطينية، ومعه ابن عباس، وابن عمر، وابن الزبیر، وأبو أيوب الأنصاري.
ترجمہ: اسی سال یزید بن معاویہ نے رومیوں کے خلاف قسطنطنیہ تک غزوہ کیا۔ ان کے ساتھ ابن عباس، ابن عمر، ابن زبیر اور ابو ایوب انصاری بھی تھے۔
(📚 تاریخ الطبری: ج۵ ص۲۳۲)
🛑 نوٹ:
شیخ محمد بن طاہر البرزنجی نے اس روایت کو ضعیف اقوال میں شمار کیا ہے:
(📚 الضعیف و المسكوت عنه في تاريخ الطبري: ج۹ ص۶۶)📖 امام ابن الجوزی (م۵۹۷ھ)
"غزا يزيد بأرض الروم حتى بلغ القسطنطينية ومعه ابن عباس، وابن عمر، وابن الزبير، وأبو أيوب الأنصاري…”
(📚 المنتظم: ج۵ ص۲۲۴)
📖 امام ابن الاثیر (م۶۳۰ھ)
ابن الاثیر تفصیل سے لکھتے ہیں کہ یزید نے پہلے جانے سے انکار کیا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اصرار پر بھیجا گیا:
"وكان في هذا الجيش ابن عباس، وابن عمر، وابن الزبیر، وأبو أيوب الأنصاري…”
(📚 الكامل في التاريخ: ج۳ ص۵۶)
📖 دیگر مؤرخین:
سبط ابن الجوزی (م۶۵۴ھ)
(📚 مرآة الزمان: ج۷ ص۱۰۵)ابن الوردی (م۷۴۹ھ)
(📚 تاریخ ابن الوردی: ج۱ ص۱۶۹)ابن کثیر (م۷۷۴ھ)
(📚 البدایہ والنہایہ: ج۸ ص۳۲)ابن خلدون (م۸۰۸ھ)
(📚 تاریخ ابن خلدون: ص۶۰۲)بدر الدین عینی (م۸۵۵ھ)
(📚 عمدۃ القاری: ج۱۴ ص۱۹۸)ابن تغری بردی (م۸۷۴ھ)
(📚 النجوم الزاھرۃ: ج۱ ص۱۷۶)قسطلانی (م۹۲۳ھ)
(📚 إرشاد الساری: ج۵ ص۸۴)عبدالملک العصامی (م۱۱۱۱ھ)
(📚 سمط النجوم: ج۳ ص۱۱۶)نواب صدیق حسن خان بھوپالی (م۱۳۰۷ھ)
(📚 عون الباری: ج۳ ص۵۲۰)⚠️ تحقیقی تنبیہ
📌 ان تمام مؤرخین نے اگرچہ متعدد صحابہ کی شرکت کا ذکر کیا ہے، لیکن:
کسی بھی روایت کے ساتھ سند نہیں دی گئی۔
اکثر نے پہلے مؤرخین کی بات کو نقل کیا، تحقیق کے بغیر۔
بعض نے یزید کو بطور سزا بھیجے جانے کا بھی ذکر کیا جو سنداً ثابت نہیں۔
✅ تحقیق کا خلاصہ
📌 صحیح سند کے ساتھ صرف دو صحابہ کی شرکت ثابت ہے:
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
محمود بن الربیع (صغیر صحابی) رضی اللہ عنہ
📌 ابو شیبہ الخدری رضی اللہ عنہ کے شریک ہونے کا قوی امکان ہے لیکن سند ندارد۔
📌 باقی صحابہ کی شرکت صحیح یا حسن سند سے ہرگز ثابت نہیں۔
📢 حتمی نتیجہ:
ان تمام دلائل اور حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
"امیر یزید (م۶۴ھ)” کی قیادت میں قسطنطنیہ پر جو حملہ ہوا، وہ امتِ مسلمہ کا پہلا حملہ تھا — یہ بات ثابت نہیں۔
لیکن اس لشکر میں صرف چند صحابہ کی شرکت صحیح سند سے ثابت ہے۔
باقی تمام اقوال ضعیف، بلا سند یا محتمل ہیں، جنہیں عقیدہ یا تاریخ کا قطعی حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
📜 سیدنا عبد الرحمٰن بن خالد بن ولیدؓ کی وفات
🕯️ متفقہ تاریخ وفات: سن 46 ہجری
ائمہ محدثین و مؤرخین کی اکثریت کے نزدیک سیدنا عبد الرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی وفات سنہ 46 ہجری میں ہوئی۔ درج ذیل اقوال اس پر شاہد ہیں:
✅ پہلی جماعتِ محدثین کی گواہی
1. امام ابو عبید القاسم بن سلام (م 224ھ)
📚 «سنة ست وأربعين توفي فيها عبد الرحمن بن خالد بن الوليد»
— [تاریخ دمشق: ج9 ص931، ج34 ص333]
2. امام خلیفہ بن خیاط (م 240ھ)
📚 «مات سنة ست وأربعين»
— [الاصابة: ج5 ص28، ج8 ص49]
3. امام یعقوب بن سفیان الفسوی (م 277ھ)
📚 «مات سنة ست وأربعين»
— [المعرفة والتاريخ: ج3 ص414]
4. امام طبری (م 310ھ)
📚 «فدس ابن أثال النصراني إليه شربة مسمومة… فقتلته»
— [تاریخ طبری: ج5 ص227]
⚠️ تنبیہ: ابن کثیرؒ نے اس واقعے کو ضعیف کہا:
📚 «ولا يصح»[البداية والنهاية: ج8 ص31]
5. امام ابن حبان (م 354ھ)
📚 «مات بحمص سنة ست وأربعين»
[الثقات: ج3 ص250]
📚 «مات سنة ست وأربعين»
[مشاهير علماء الأمصار: ص67]
6. امام حاکم کبیر نیشاپوری (م 378ھ)
📚 «فمات بحمص سنة ست وأربعين»
[تاریخ دمشق: ج9 ص925]
7. امام ابو سلیمان محمد بن عبداللہ الربعی (م 379ھ)
📚 «سنة ست وأربعين فيها: مات عبد الرحمن بن خالد…»
[تاریخ دمشق: ج9 ص931]
8. امام ابو القاسم ابن مندہ (م 470ھ)
📚 «وفيها مات عبد الرحمن بن خالد… وقيل: سُمَّ»
[المستخرج: ج2 ص608]
🟩 اجماعی شہادت: امام ابن زبر کا اقرار
📚 «وَمَا اتَّفقُوا عَلَيْهِ فَلَا أذكر فِيهِ إِسْنَادًا…»
📌 مطلب: جن وفیات پر علماء کا اجماع ہے ان میں سند ذکر نہیں کرتا
[تاریخ مولد العلماء: ج1 ص61]📚 «فيها مات عبد الرحمن بن خالد… قتله ابن أثال»
[تاریخ مولد العلماء: ج1 ص145]
🟢 نتیجہ: امام ابن زبرؒ کے مطابق "سن 46ھ” پر اجماع ہو چکا تھا۔
✅ تسلسل سے 46ھ کا ذکر کرنے والے مؤرخین و محدثین
9. امام ابن عساکر (م 571ھ)
📚 «مات سنة ست وأربعين في خلافة معاوية»
[تاریخ دمشق: ج1 ص458]
10. امام ابن الجوزی (م 597ھ)
📚 «فدس إليه عدي بن أثال شربة مسمومة فقتله بها، فمات بحمص»
[المنتظم: ج5 ص217]
11. امام عماد الدین الاصبہانی (م 597ھ)
📚 «وفاة عبد الرحمن بن الوليد»
[البستان: ص108]
🔹 محقق حاشیہ: «هو عبد الرحمن بن خالد بن الوليد»
12. امام ابن الاثیر (م 630ھ)
📚 «انصرف عبد الرحمن… ومات»
[الكامل في التاريخ: ج3 ص51]
📚 «ثم مرض… فمات… وذلك سنة سبع وأربعين»
[أسد الغابة: ج3 ص336]
⚠️ تنبیہ: ابن کثیرؒ نے اس قصے کو باطل قرار دیا:
📚 «ولا يصح» [البداية والنهاية: ج8 ص31]
📚 معتبر مؤرخین کی تائید
13. سبط ابن الجوزی (م 654ھ)
📚 «فسقاه ابن أثال النصراني شربةً مسمومةً، فمات»
[مرآة الزمان: ج7 ص92]
14. ابن العدیم (م 660ھ)
📚 «فمات بحمص سنة ست وأربعين»
[زبدة الحلب: ج1 ص56]
15. ابو الفداء (م 732ھ)
📚 «سنة خمس وأربعين توفي عبد الرحمن…»
[تاریخ أبو الفداء: ج1 ص186]
16. امام ذہبی (م 748ھ)
📚 «فيها توفي عبد الرحمن… على الأصح»
[تاريخ الإسلام: ج2 ص389]
📚 «وقيل في سنة تسع وأربعين…»
[العبر: ج1 ص38]
🔴 تنبیہ: یہ قول صرف ذہبی نے ذکر کیا، جو تسامح پر مبنی ہو سکتا ہے۔
❌ واقدی کا شاذ و مردود قول
✖️ واقدی (م 207ھ)
📚 «أن عبد الرحمن مات سنة سبع وأربعين»
[تاریخ دمشق: ج9 ص931]
🔴 تبصرہ:
واقدی کذاب اور متروک الحدیث ہے، اس کا قول جمہور کے خلاف ہے، لہٰذا مردود ہے۔
📘 متفقہ طور پر 46 ہجری کا اثبات کرنے والے مزید ائمہ
17. امام زین الدین ابن الوردی (م 749ھ)
📚 «وفيها توفي عبد الرحمن بن خالد…»
[تاريخ ابن الوردي: ج1 ص169]
18. امام الیافعی (م 768ھ)
📚 «وفيها توفي عبد الرحمن بن خالد…»
[مرآة الجنان: ج1 ص99]
19. امام ابن کثیر (م 774ھ)
📚 «ومات وهو مسموم، رحمه الله»
[البداية والنهاية: ج8 ص31]
⚠️ نیز ایک مشہور واقعہ ذکر کیا جسے خود باطل کہا:
📚 «ولا يصح» — [ایضاً]
20. حافظ ابن حجر عسقلانی (م 852ھ)
📚 «سنة ست وأربعين… زاد أبو سليمان: قتله ابن أثال بالسم بحمص»
[الإصابة: ج5 ص28، ج8 ص49]
📚 بعد کے مؤرخین و محققین کی تائید
21. امام ابن تغری بردی (م 874ھ)
📚 «وفيها توفي عبد الرحمن… وقيل سنة تسع وأربعين»
[النجوم الزاهرة: ج1 ص172]
22. امام مجیر الدین العلیمی (م 928ھ)
📚 «توفي مسموماً سنة خمس وأربعين من الهجرة»
[التاريخ المعتبر: ج3 ص373]
23. امام الطیب الحضرمی (م 947ھ)
📚 «توفي سنة ست وأربعين، رضي الله عنه»
📚 «وفيها: توفي عبد الرحمن…»
[قلادة النحر: ج1 ص353، ص386]
24. امام ابن العماد الحنبلی (م 1089ھ)
📚 «توفي عبد الرحمن… مسموماً على ما قيل»
[شذرات الذهب: ج1 ص239]
25. محقق محدث احمد شاکر (م 1377ھ)
📚 «يدل على أن الغزوة كانت سنة 46 لأن عبد الرحمن مات تلك السنة»
[تفسير الطبری: ج3 ص592]
✅ اجماع کا مدلل ثبوت
📌 امام ابو سلیمان ابن زبر (م 379ھ):
📚 «فلا أذكر فيه إسنادًا… إلا فیما اختلفوا فیه»
➤ اور انہوں نے 46ھ میں وفات کا ذکر سند کے بغیر کیا
— [تاريخ مولد العلماء: ج1 ص145]
🔹 مفہوم: چونکہ اختلاف نہیں تھا، اس لیے سند نہیں دی گئی — یعنی اجماع پایا جاتا ہے۔
🧾 خلاصۂ کلام
-
بیس (20) سے زائد ائمہ، محدثین، مؤرخین اور محققین نے تصریح کی کہ:
سیدنا عبد الرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کی وفات 46 ہجری میں ہوئی۔ -
امام ذہبیؒ نے فیصلہ کن الفاظ میں کہا:
📚 «على الأصح» -
➤ یعنی سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے
[تاريخ الإسلام: ج2 ص389]
-
امام ابن زبرؒ کی تصریح:
➤ «جن کی وفات میں اتفاق ہے، ان کی سند ذکر نہیں کی»
➤ اور عبد الرحمن بن خالدؓ کا ذکر بغیر سند کے کیا — [تاريخ مولد العلماء: ج1 ص145]
➤ پس یہ "اجماع” کی صریح دلیل ہے۔
🚫 گمراہ کن اقوال کا رد
✖️ واقدی کا شاذ قول: 47 ہجری
📚 «ذكر الواقدي… أن عبد الرحمن مات سنة سبع وأربعين»
[تاریخ دمشق]
⚠️ تبصرہ:
-
واقدی "کذاب” و "متروک” راوی ہے
-
جمہور کے اجماعی قول کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود و باطل ہے
-
امام ابن کثیرؒ نے ایسے واقعات کو ضعیف قرار دیا:
📚 «ولا يصح» — [البداية والنهاية]
📛 سنابلی صاحب کی غلطی
-
سنابلی صاحب نے 47ھ کو ترجیح دینے کے لیے واقدی جیسے کذاب کا قول بطورِ دلیل پیش کیا
➤ حوالہ: - 📚 "یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ”: ص594
- 📚 "قسطنطنیہ پر پہلا حملہ…”: ص57
🔴 اعتراض:
-
یہ طرز استدلال اہلِ علم کے ہاں مردود ہے
-
اجماع کے خلاف کذاب کا قول پیش کرنا علمی خیانت ہے
📘 اضافی فائدہ
دکتور محمد بن عبد الہادی الشیبانی حفظہ اللہ:
📚 «وتوفي قبل الخمسين من الهجرة»
"آپ کی وفات 50ھ سے قبل ہی ہو چکی تھی”
[مواقف المعارضة فی عهد یزید: ص80]
"یزید کے دور حکومت میں…”: ص45
🏁 حتمی نتیجہ
-
✨ "وفات سن 46ھ” پر محدثین و مؤرخین کا اجماع و اتفاق ثابت ہے
-
❌ 47ھ کا قول نہ صرف شاذ ہے، بلکہ کذاب راوی (واقدی) سے مروی ہے
-
🔒 لہٰذا: کوئی احتمال، تاویل یا تاخیر اس اجماع کو باطل نہیں کر سکتی
❗ سنابلی صاحب کے شبہات کا تحقیقی جائزہ
پہلا شبہ – "عبدالرحمٰن بن خالد کا حملہ یزید کے لشکر سے پہلے تھا”
📌 سنابلی صاحب کا دعویٰ:
سنابلی صاحب فرماتے ہیں:
“عبدالرحمن بن خالد کے مختلف حملے 44، 45، 46 ہجری میں ہوئے، اور 46 ہجری میں ان کو زہر دیا گیا۔ چونکہ ابو ایوب انصاریؓ کی وفات 52 ہجری میں ہوئی، لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ عبدالرحمٰن کا حملہ یزید کے قسطنطنیہ والے لشکر سے پہلے تھا۔”
”
🧭 تحقیقی جواب و ازالہ:
✅ حقیقت یہ ہے کہ:
44ھ، 45ھ، اور 46ھ کے حملے مختلف صیفی اور شتائی حملے تھے۔
ان کا تعلق ابو داؤد کی حدیث والے لشکر قسطنطنیہ سے نہیں ہے۔
📚 مؤرخین کے بیانات:
44ھ – صرف قلونیہ تک پہنچے:
"غزا عبد الرحمن حتى بلغ قلونية”— [تاريخ اليعقوبي: ص205]
45ھ – انطاکیہ تک رسائی:
"وشتا بأرض الروم وبلغ أنطاكية”— [تاريخ اليعقوبي: ص205]
46ھ – شتائی حملہ، قسطنطنیہ کا ذکر نہیں:
"شتى المسلمون ببلاد الروم…”— [البداية والنهاية: ج8 ص30]
➤ امام طبری نے اس حملہ میں امیر کی تعیین میں اختلاف بھی نقل کیا۔
— [تاريخ الطبري: ج5 ص227]⚠️ تنبیہ:
سنابلی صاحب نے ان حملوں کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔
یعقوبی (م278-292ھ) کا قول بے سند اور منقطع ہے۔
ابن کثیر اور طبری کے اقوال بھی بلا سند نقل ہوئے۔
🔴 جبکہ سنابلی صاحب خود اصول بیان کرتے ہیں:
"مرسل و منقطع روایت ضعیف و غیر ثابت ہے”
— [ص25، ص572، الزامات کا تحقیقی جائزہ]📌 نتیجہ:
مذکورہ حملے قسطنطنیہ پر نہیں ہوئے۔
ان کو ابو داؤد کی حدیث کے ساتھ جوڑنا علمی خیانت اور بدفہمی ہے۔
❗ دوسراشبہ: "زہر والی روایت 57ھ کی دلیل ہے”
📌 سنابلی صاحب فرماتے ہیں:
"اگر مان لیں کہ عبد الرحمٰن کو زہر دیا گیا، تو یہی ثابت کرے گا کہ ان کی وفات 57 ہجری میں ہوئی، کیونکہ زہر کا قصہ ولی عہدی کے مشورے کے وقت (57ھ) بیان کیا گیا ہے۔”
❌ تحقیقی ازالہ:
1. 📚 زہر والی روایت کی حقیقت:
"أخبرني عمي… عن المدائني… عن أبي سهيل… أن معاوية لما أراد أن يستخلف يزيد… فسكت وأضمرها ودس ابن أثال فسقاه سما فمات”
[📘 الأغاني لأبي الفرج الأصبهاني: ج16 ص209]
🔴 اسناد کی خرابی:
راوی نامعلوم
مصدر مدائنی سے نیچے مظلم و مجہول
یہ روایت واہیات، باطل اور سبائیوں کی گھڑی ہوئی کہانی ہے
2. 📌 زہر کا وقت؟ 57 ہجری؟ ❌
📚 مؤرخین کے مطابق:
"زہر والا واقعہ 46 یا بعض کے نزدیک 47 ہجری کا ہے”
[طبری، ابن کثیر، ابن عساکر]✔️ امام ابن کثیر فرماتے ہیں:
«ولا يصح»
[البداية والنهاية: ج8 ص31]
3. 📌 سنابلی صاحب کا تضاد:
ایک طرف کہتے ہیں:
"زہر والی بات گپ ہے، سبائیوں کی بنائی کہانی ہے”
پھر اسی پر استدلال کرتے ہیں کہ:
"زہر کی روایت سے ثابت ہوتا ہے وفات 57 ہجری میں ہوئی” ❗
🛑 اگر واقعہ ہی موضوع اور جھوٹا ہے، تو پھر اس سے تاریخ وفات کیوں اخذ کی جاتی ہے؟
🧭 صحیح مؤقف:
زہر دینے والی روایت ضعیف، منقطع اور مردود ہے
جمہور مؤرخین نے 46 ہجری کی وفات صراحت اور تحقیق کے ساتھ نقل کی
امام ذہبیؒ نے فرمایا:
«على الأصح»
[تاريخ الإسلام: ج2 ص389]
تیسراشبہ: "عبد الرحمٰن بن خالد کا غزوہ 47ھ میں ہوا”
📌 سنابلی صاحب کا استدلال:
ابن عساکر نے روایت نقل کی کہ 47ھ میں "عبد الرحمٰن بن خالد” اور "عقبہ بن عامر” نے قبرص یا رودس پر غزوہ کیا تھا
➤ [📘 تاريخ دمشق: ج34 ص328-329]🔍 تحقیقی ازالہ:
1. 📚 یہ روایت امام لیث بن سعد (م 175ھ) کا قول ہے:
"قال الليث: غزوة عبد الرحمن بن خالد إلى قبرس”
"وقال: إلى رودس”
[تاریخ دمشق: ج34 ص328-329، ج40 ص501]
2. ⚠️ روایت میں تضاد:
ایک مقام پر "قبرص” کا ذکر
دوسرے پر "رودس” کا
دونوں مقامات جغرافیائی طور پر الگ الگ ہیں
➤ لہٰذا قول مضطرب ہے🚫 روایت کا ضعف – سنابلی صاحب ہی کے اصول سے:
لیث بن سعد کی پیدائش: 94ھ
عبد الرحمن کی وفات: 46ھ
➤ یعنی 48 سال بعد پیدا ہوئے، لہٰذا ان کا قول:مرسل و منقطع
ضعیف و غیر ثابت🧾 سنابلی صاحب کا اپنا اصول:
"اگر کسی راوی نے کسی دور کا زمانہ نہیں پایا تو روایت منقطع ہوگی”
➤ [ص572، الزامات کا تحقیقی جائزہ]📌 خلاصہ:
امام لیث بن سعد کا قول ضعیف، متاخر، اور غیر مستند ہے
47ھ کے غزوے کا استدلال اسی ضعیف بنیاد پر ہے
محدثین کا متفقہ قول: وفات 46ھ میں ہی ہوئی
❗ چوتھا شبہ: "سفیان بن عوف کے بعد عبد الرحمٰن کو ذمہ داری ملی، اس کا مطلب وہ 52ھ تک زندہ تھے”
📌 سنابلی صاحب کا استدلال:
ابن عساکر کے مطابق سفیان بن عوف کی وفات کے بعد عبد الرحمن بن خالد کو صیفی جہاد کی ذمہ داری دی گئی
➤ اور چونکہ سفیان 52ھ میں فوت ہوئے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عبد الرحمن 52ھ کے بعد بھی زندہ تھے
— [📘 تاریخ دمشق: ج21 ص348-349]🔍 تحقیقی ازالہ:
1. 📚 یہ قول امام خلیفہ بن خیاط (م 240ھ) سے منسوب ہے:
لیکن سنابلی صاحب نے اس قول کو بغیر اصل کتاب کے صرف ابن عساکر کے ذریعے نقل کیا، جبکہ محقق نے خود حاشیہ میں اصل مصدر کا حوالہ دیا۔
2. ⚠️ سند کی خرابی:
روایت میں موجود راوی "ابو عمران موسیٰ بن زکریا التستری” = سخت ضعیف
اس سے روایت کرنے والا "احمد بن عمران” = مستور (مجہول الحال)
➤ یہ پوری روایت سنداً سخت ضعیف ہے۔
📌 مزید تبصرہ:
امام ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی یہی قول نقل کیا
➤ لیکن عبد الرحمٰن بن خالد کی وفات 46ھ ہی میں مانی
— [الإصابة: ج5 ص28]✅ امام خلیفہ بن خیاط کا واضح قول:
"وفيها مات عبد الرحمن بن خالد بن الوليد”
— [تاریخ خلیفہ: ص131]➤ یعنی امام خلیفہ کے نزدیک بھی وفات 46ھ میں ہوئی
🎯 اصل غلطی:
سنابلی صاحب نے "سفیان کے بعد والی ذمہ داری” کو 52ھ پر منطبق کیا
لیکن صحیح تحقیق کے مطابق:
➤ یہ کسی سابق موقع پر ہوا، نہ کہ 52ھ کے بعدپانچواں شبہ: "عبد الرحمٰن بن خالد 61ھ میں میمونہؓ کی تدفین میں شریک تھے”
📌 سنابلی صاحب کا استدلال:
ابن سعد نے روایت کی کہ عبد اللہ بن عباس، عبد الرحمٰن بن خالد، اور دیگر صحابہ نے میمونہؓ کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی، اور یہ واقعہ 61 ہجری میں ہوا
— [📘 الطبقات الكبرى: ج8 ص140]🔍 تحقیقی ازالہ:
1. ⚠️ سند کی شدید کمزوری:
یہ روایت کذاب واقدی (محمد بن عمر) سے مروی ہے
دوسرا راوی "عبد اللہ بن محرر” = متروک الحدیث
📚 حافظ ابن حجر:
واقدی = کذاب
ابن محرر = متروک
— [لسان الميزان، تهذيب الكمال]🔴 یہ روایت موضوع، منگھڑت، جھوٹی ہے
2. ❌ سنابلی صاحب کا تضاد:
خود فرماتے ہیں کہ:
"واقدی کذاب ہے”
— [📚 الزامات کا تحقیقی جائزہ: ص315، ص515، ص530]مگر اسی واقدی کی روایت سے 61ھ میں وفات کا استدلال کرتے ہیں! ❗
📌 واقدی کا قول:
عبد الرحمٰن 47ھ میں فوت ہوئے
➤ اور پھر خود کہتا ہے: 61ھ میں قبر میں اترے؟
🤦 یہ حد درجہ تضاد اور بدفہمی ہے🛑 روایت کا مکمل بطلان
نہ صرف سند جھوٹی، بلکہ واقعہ ناممکن ہے
واقدی خود اپنے سابق قول (47ھ میں وفات) کی خلاف ورزی کر رہا ہے
🕯️ اہل علم کا مؤقف:
امام ذہبی:
"میمونہؓ کی وفات 51ھ میں ہوئی، 61ھ والا قول باطل ہے”
— [التلخيص المستدرك: ج4 ص32]حافظ ابن حجر:
"سنة إحدى وخمسين على الصحيح”— [تقريب التهذيب: ت8688]
✅ خلاصۂ کلام:
تمام متضاد اقوال: 47، 52، 61ھ = ضعیف، منقطع یا موضوع ہیں
جبکہ 20+ محدثین و مؤرخین نے بالجزم 46ھ کو ترجیح دی
📚 امام ذہبی:
«على الأصح» — [تاريخ الإسلام: ج2 ص389]
📚 امام ابن زبر:
"اس پر اجماع ہے، اس لیے سند ذکر نہیں کی”
— [تاريخ مولد العلماء: ج1 ص145]
📌 خلاصۂ مضمون
1️⃣ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ: یزیدؒ یا کسی اور کے زیرِ قیادت؟
نبی کریم ﷺ کی حدیث:
"أول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم”
➤ اس حدیث کو بعض علماء (مثلاً امام مہلب) نے یزید بن معاویہ کی مدح میں لیا۔
➤ لیکن کسی محدث یا مؤرخ نے باسند صحیح یہ ثابت نہیں کیا کہ یزید ہی پہلا امیر تھا۔✅ صحیح سند سے ثابت ہے کہ:
➤ سیدنا ابو ایوب انصاریؓ 52ھ میں قسطنطنیہ کے غزوہ میں شریک ہوئے
➤ اور اس وقت یزید بن معاویہ لشکر کے امیر تھے
➤ [📚 صحیح بخاری، تاریخ دمشق]❌ دیگر صحابہ (ابن عباس، ابن عمر، حسین بن علی وغیرہ) کی شرکت ضعیف یا بلا سند اقوال سے منقول ہے۔
2️⃣ سیدنا عبد الرحمٰن بن خالد بن ولیدؓ کی وفات: 46 ہجری پر اجماع
✅ بیس سے زائد محدثین و مؤرخین کی تصریحات:
«مات سنة ست وأربعين»
➤ امام ابو عبید، خلیفہ بن خیاط، ابن حبان، ذہبی، ابن عساکر، ابن کثیر، ابن الجوزی، ابن زبر وغیرہ🔐 اجماع کا ثبوت:
➤ امام ابن زبر رحمہ اللہ نے کہا کہ "جن پر اتفاق ہو، ان کی وفات کی سند ذکر نہیں کی جاتی”
➤ اور انہوں نے 46ھ کا ذکر سند کے بغیر کیا۔⚠️ سنابلی صاحب کا انکار اور شبہات:
سنابلی صاحب نے مختلف ضعیف، منقطع یا موضوع روایات سے
عبد الرحمٰن بن خالدؓ کی وفات 47ھ، 52ھ یا 61ھ میں ہونے کا احتمال ظاہر کیا۔❌ ان شبہات کا رد:
تمام اقوال یا تو کذاب راوی (مثلاً واقدی) سے مروی ہیں
یا انقطاع، اضطراب یا بے سند نقل پر مبنی ہیں
سنابلی صاحب کے اصولات کے مطابق بھی یہ روایات قابل قبول نہیں
✅ حتمی نتیجہ:
"قسطنطنیہ” پر یزیدؒ کی قیادت میں حملہ 52ھ میں ہوا
➤ اس میں صرف ابو ایوب انصاریؓ کی شرکت صحیح سند سے ثابت ہے"سیدنا عبد الرحمٰن بن خالد بن ولیدؓ” کی وفات متفقہ طور پر 46ھ میں ہوئی
➤ امام ذہبیؒ نے کہا: «على الأصح»
➤ امام ابن زبرؒ: "اس پر اجماع ہے”