مضمون کے اہم نکات
قربانی کے ایام: تین دن یا چار؟ مکمل تحقیقی جائزہ
سوال
محترم حافظ صاحب! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور آپ کے رسالہ ’’الحدیث‘‘ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا ہو۔
ماہنامہ ’’الحدیث‘‘ علم و تحقیق کا شاہکار اور اہل حدیث مکتب فکر کا قیمتی سرمایہ ہے۔ رسالہ کی قیمت سالانہ ۲۰۰ روپے ہے، لیکن اگر ایک شمارہ بھی اتنی قیمت میں دستیاب ہو تو یہ سرمایہ ضائع نہیں ہوگا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ تحقیقی رسالہ اکثر اہل حدیث علماء اور طلباء تک نہیں پہنچتا۔ میری درخواست ہے کہ اسے مدارس اور تمام اہل حدیث علماء تک پہنچایا جائے تاکہ نوجوان نسل تحقیق اور علم کی طرف متوجہ ہو، علم اسماء الرجال حاصل کرے اور مسلک اہل حدیث کی بھرپور خدمت کرے۔
محترم الشیخ! اب میں اپنا اصل سوال پیش کرتا ہوں: کیا چوتھے دن قربانی کرنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟ بعض علماء کے مطابق چوتھے دن قربانی کی احادیث ضعیف ہیں، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ قربانی صرف تین دن ہے۔
شیخ عبدالستار حماد کے دلائل: قربانی چار دن
شیخ عبدالستار حماد حفظہ اللہ نے ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ میں درج ذیل دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ قربانی چار دن کی جا سکتی ہے:
❀ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں‘‘
(مسند امام احمد ج۴، ص۸۲)
اگرچہ یہ روایت منقطع ہے، لیکن:
◈ امام ابن حبان اور امام بیہقی نے اسے موصول بیان کیا ہے۔
◈ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
(صحیح الجامع الصغیر: ۴۵۳۷)
❀ فقہاء کی آراء:
◈ بعض فقہاء کے مطابق صرف دو دن قربانی کی اجازت ہے:
’’قربانی یوم الاضحی کے بعد دو دن تک ہے‘‘
(السنن الکبریٰ للبیہقی ج۹، ص۲۹۷)
لیکن یہ قول صحابہ (مثلاً ابن عمر یا عمر رضی اللہ عنہما) کا ہے، نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرفوع فرمان، لہٰذا حجت نہیں۔
❀ علامہ شوکانی کی رائے:
’’تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں اور وہ یوم النحر کے بعد تین دن ہیں‘‘
(نیل الاوطار ج۵، ص۱۲۵)
❀ افضلیت کی ترتیب:
◈ پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔
◈ تاخیر غرباء کے فائدہ کیلئے مفید تو ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے کوئی نص موجود نہیں۔
◈ اگر کسی نے ۱۳ ذوالحجہ کو قربانی کرنی ہو تو غروب آفتاب سے پہلے مکمل کرے۔
روایات کی اسنادی حیثیت: تفصیلی تحقیق
روایت نمبر 1
❀ سند: سلیمان بن موسیٰ عن جبیر بن مطعم
❀ حکم: منقطع روایت ہے۔
❀ وجہ: سلیمان بن موسیٰ نے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔
(السنن الکبریٰ، العلل الکبیر، نصب الرایہ)
روایت نمبر 2
❀ سند: سلیمان بن موسیٰ → عبدالرحمٰن بن ابی حسین → جبیر بن مطعم
❀ حکم:
◈ ابن ابی حسین کی جبیر سے ملاقات نہیں ہوئی۔
◈ عبدالرحمن بن ابی حسین مجہول الحال ہے (صرف ابن حبان نے توثیق کی)۔
روایت نمبر 3
❀ سند: سوید بن عبدالعزیز → سعید بن عبدالعزیز → سلیمان بن موسیٰ → نافع → جبیر بن مطعم
❀ حکم:
◈ سوید بن عبدالعزیز ضعیف راوی ہے۔
◈ جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا۔
(تقریب التہذیب، مجمع الزوائد)
روایت نمبر 4
❀ سند: احمد بن عیسیٰ الخشاب → عمرو بن دینار → جبیر بن مطعم
❀ حکم:
◈ احمد بن عیسیٰ سخت مجروح راوی ہے۔
◈ عمرو بن دینار کی جبیر سے ملاقات ثابت نہیں۔
ایک اور روایت
❀ سند: الولید بن مسلم → حفص بن غیلان → سلیمان بن موسیٰ → محمد بن المنکدر → جبیر بن مطعم
❀ حکم:
◈ ولید بن مسلم کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
◈ اس روایت میں ’’ایام تشریق میں ذبح‘‘ کا ذکر بھی نہیں۔
خلاصہ تحقیق
تمام روایات جو ایام تشریق میں ذبح (یعنی چوتھے دن قربانی) کے حق میں پیش کی جاتی ہیں، سنداً ضعیف ہیں۔ اس لیے ان کو صحیح یا حسن قرار دینا درست نہیں۔
آثار صحابہ: قربانی تین دن
دلائل
➊ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ:
’’الاضحی یومان بعد یوم الاضحی‘‘
(موطا امام مالک، ج۲، ص۴۸۷، ح۱۰۷۱۔ سند صحیح)
➋ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ:
’’النحر یومان بعد یوم النحر و افضلها یوم النحر‘‘
(احکام القرآن للطحاوی، ج۲، ص۲۰۵، ح۱۵۷۱۔ سند حسن)
➌ انس بن مالک رضی اللہ عنہ:
’’الاضحی یومان بعده‘‘
(احکام القرآن، ج۲، ص۶۰۲، ح۱۵۷۶۔ صحیح)
➍ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ:
’’النحر ثلاثة ایام‘‘
(احکام القرآن، ج۲، ص۲۰۵، ح۵۶۹۔ حسن)
آثار تابعین و ائمہ
➊ حسن بصری:
عید کے بعد تین دن قربانی ہے۔
(احکام القرآن، ج۲، ص۲۰۶، ح۱۵۷۷۔ سند صحیح)
➋ عطاء بن ابی رباح:
ایام تشریق کے آخر تک قربانی ہے۔
(احکام القرآن، ج۲، ص۲۰۶، ح۱۵۷۸۔ سند حسن)
➌ عمر بن عبدالعزیز:
’’الاضحی یوم النحر و ثلاثة ایام بعده‘‘
(السنن الکبریٰ، ج۹، ص۲۹۷۔ سند حسن)
➍ ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ:
لوگ قربانی خریدتے اور اسے ۱۳ ذوالحجہ تک ذبح کرتے۔
(السنن الکبریٰ، ج۹، ص۲۹۷-۲۹۸۔ سند صحیح)
راجح قول
❀ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اکثر صحابہ کرام کا قول یہ ہے کہ:
قربانی کے تین دن ہیں: عیدالاضحیٰ اور اس کے بعد دو دن۔
❀ امام مالک، امام شافعی اور جمہور اہل حدیث علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
اضافی نکتہ
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت:
’’الاضحی ثلاثة ایام‘‘
(المحلی لابن حزم، ج۷، ص۳۷۷، مسئلہ: ۹۸۲)
❀ سند حسن ہے، اگرچہ مصنف ابن ابی شیبہ میں مطبوع صورت میں یہ روایت نہیں ملتی۔
فائدہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرمایا تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی صرف تین دن کی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے جمہور کا قول تین دن والا ہی راجح ہے۔
نتیجہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً چار دن کی قربانی کا کوئی صحیح قول ثابت نہیں۔ آثار میں اختلاف موجود ہے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جمہور صحابہ کرام کا موقف یہی ہے کہ قربانی صرف تین دن ہے: یوم النحر (۱۰ ذوالحجہ) اور اس کے بعد کے دو دن (۱۱ اور ۱۲ ذوالحجہ)۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب