مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

قربانی کے دن تین ہیں یا چار؟ دلائل کے ساتھ مکمل وضاحت

فونٹ سائز:
ما خوذ: احکام و مسائل، قربانی اور عقیقہ کے مسائل، جلد 1، صفحہ 432

سوال

حافظ صاحب نے اپنی کیسٹ میں یہ بات کہی ہے کہ قربانی کے دن صرف تین ہیں، اور جو علماء یا افراد چار دن کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ چار دنوں کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ براہ کرم اس معاملے کی وضاحت فرمائیں تاکہ ہم بھی دلائل کی بنیاد پر اپنی زندگی گزار سکیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایامِ تشریق ذبح کے دن ہیں

مرفوع حدیث میں یہ بات وارد ہوئی ہے:

"ایام التشریق ذبح کے دن ہیں”
(سلسلة الاحادیث الصحیحۃ للالبانی، الجزء الخامس، حدیث نمبر 2476)

یہ حدیث دارقطنی اور دیگر کتب میں موجود ہے۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایامِ تشریق کو ذبح (قربانی) کے ایام قرار دیا گیا ہے۔

ایامِ تشریق کی تعداد کیا ہے؟

ایامِ تشریق درج ذیل تین دنوں پر مشتمل ہوتے ہیں:

✿ 11 ذوالحجہ

✿ 12 ذوالحجہ

✿ 13 ذوالحجہ

اگر ان دنوں میں یوم النحر یعنی 10 ذوالحجہ کو بھی شامل کر لیا جائے، تو قربانی کے دنوں کی مجموعی تعداد چار بنتی ہے:

✿ 10 ذوالحجہ (یوم النحر)

✿ 11 ذوالحجہ

✿ 12 ذوالحجہ

✿ 13 ذوالحجہ

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قربانی کے دن درحقیقت چار ہیں۔

جو تین دن کے قائل ہیں، ان سے کیا سوال کیا جائے؟

جو حضرات یا علماء قربانی کے صرف تین دن ہونے کے قائل ہیں، ان سے گزارش ہے کہ:

✿ وہ قرآنِ مجید کی کوئی ایسی آیت پیش کریں جو صرف تین دن کی تصریح کرے۔

✿ یا رسول اللہ ﷺ کی کوئی مرفوع حدیث پیش کریں جو یہ واضح کرے کہ قربانی صرف تین دن تک جائز ہے۔

جو بھی آیت یا مرفوع حدیث وہ بطور دلیل پیش کریں گے، اسی سے ان شاء اللہ چار دنوں کا جواز بھی نکل آئے گا، کیونکہ شریعت کے دلائل باہم متعارض نہیں ہوتے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔