مضمون کے اہم نکات
سوالات اور ان کے جوابات (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
سوال (1):
جاموس (بھینسا، کٹا) کی قربانی کے بارے میں حدیث نبوی ﷺ میں کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟
جواب:
جاموس (بھینسا یا کٹا) کی قربانی کا ذکر براہ راست کسی حدیث میں نہیں آیا۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں اس جانور کی قربانی کا کوئی صریح ذکر موجود نہیں ہے۔
سوال (2):
"قَرَّبَ دَجَاجَةً” (بخاری شریف، کتاب الجمعہ) کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس سے قربانی پر استدلال کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
حدیث کے الفاظ قَرَّبَ دَجَاجَةً کا مطلب ہے: "ایک مرغی کا تقرب پیش کیا۔”
لیکن اس حدیث سے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ادا کی جانے والی شرعی قربانی پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ عید الاضحی کی قربانی مخصوص شرائط اور مخصوص جانوروں کے ساتھ وابستہ ہے، جیسے کہ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔ مرغی کا تقرب عام صدقہ یا نفل تقرب ہو سکتا ہے، لیکن شرعی قربانی کا درجہ نہیں رکھتا۔
سوال (3):
نبی اکرم ﷺ نے کن کن چوپایوں کی قربانی کی ہے؟
جواب:
رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے جن چوپایوں کی قربانی کا ثبوت ملتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
◈ جنسِ اونٹ
◈ جنسِ گائے
◈ جنسِ بھیڑ
◈ جنسِ بکری
یہ تمام جانور قرآن و حدیث میں قربانی کے لیے جائز اور ثابت شدہ ہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب