مضمون کے اہم نکات
الحمد لله رب العالمين والصلوٰة والسلام على رسوله الامين ، اما بعد:
اس مختصر و جامع مضمون میں قربانی کے بعض احکام و مسائل با دلائل پیش خدمت ہیں:
قربانی سنت مؤکدہ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج (عید الاضحی) کے دن ہم سب سے پہلے نماز پڑھیں گے، پھر واپس آکر قربانی کریں گے۔( انشاء اللہ )
جس نے ایسا کیا تو ہماری سنت کو پایا اور جس نے (نماز سے) پہلے ذبح کر لیا تو اس کی قربانی نہیں ہے۔“
(صحیح بخاری، باب سنۃ الأضحیۃ، حدیث نمبر 5545)
بعض علماء کے نزدیک قربانی واجب ہے، لیکن اس پر ان کے پاس کوئی صریح دلیل نہیں، جبکہ صحیح مسلم کی حدیث (1977، ترقیم دارالسلام: 5119) سے قربانی کا عدم وجوب ثابت ہے، نیز سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دونوں کے نزدیک قربانی واجب نہیں ہے۔
(دیکھئے معرفۃ السنن والآثار 7/198، وسندہ حسن)
❀ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
”قربانی سنت ہے واجب نہیں ہے اور جو شخص اس کی طاقت رکھے تو مجھے پسند نہیں ہے کہ وہ اسے ترک کر دے۔“
(موطا امام مالک 487/2)
❀ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
”قربانی کرنا سنت ہے (اور) میں اسے ترک کرنا پسند نہیں کرتا۔“ (کتاب الام 221/1)
ثابت ہوا کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر نماز عید کے بعد قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے اور شرعی عذر کے بغیر قربانی نہ کرنا نا پسندیدہ ہے۔
بعض منکرین حدیث نے بہت سے عقائد و مسائل ضروریہ کے انکار کے ساتھ قربانی کے سنت ہونے کا بھی انکار کر دیا ہے، حالانکہ قربانی کا ثبوت احادیث صحیحہ متواترہ بلکہ قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔
(مثلاً دیکھئے سورۃ الصافات: 107، سورۃ الحج: 32، سورۃ الانعام: 162)
قربانی کا اصطلاحی مفہوم
عید الاضحی کی نماز کے بعد پہلے دن یا قربانی کے دنوں میں بهيمة الأنعام (مثلاً بکری، بھیڑ، گائے اور اونٹ) میں سے کسی جانور کو شرعی طریقے پر بطور قربانی و تقرب ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔
تنبیہ: شہر ہو یا گاؤں ہو، نماز عید سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔
قربانی کرنے والے کے لئے اہم شرائط
➊ قربانی کرنے والے کا صحیح العقیدہ مسلمان و متبع کتاب و سنت ہونا اور شرک، کفر و بدعات سے پاک ہونا ضروری ہے اور جس کا عقیدہ خراب ہو، اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے۔ قرآن، حدیث اور اجماع کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر وقت اپنے ایمان و عمل کا خاص خیال رکھیں۔
[تفصیل کے لیے دیکھتے یہی کتاب (ص99) معاذ ]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو اسے اپنے بال اور ناخن تراشنے سے رک جانا چاہئے۔“ (صحیح مسلم: 1977)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کرنے والے شخص کو یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال نہیں کاٹنے چاہئیں اور ناخن نہیں تراشنے چاہئیں۔
اگر کسی کا ناخن ٹوٹ جائے یا ایسی خرابی ہو جائے کہ ناخن تراشنا ضروری ہو تو پھر ایسا کرنا جائز ہے جیسا کہ اجماع سے ثابت ہے۔
➌ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر مجھے صرف مادہ جانور (دودھ دینے والا) قربانی کے لئے ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراش لو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں یہ تمہاری پوری قربانی ہے۔“
(سنن ابی داود: 2789، سندہ حسن)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ اگر یکم ذوالحجہ سے لے کر نماز عید تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے پوری قربانی کا ثواب ملتا ہے۔ سبحان اللہ۔
قربانی کا مقصد
قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ مطہرہ پر خلوص نیت سے عمل کرنا ہے اور ان شاء اللہ اس کا بہت بڑا ثواب ملے گا۔
قربانی کے جانور کی شرائط
کسی قسم کے جانور کی قربانی کرنی چاہئے اور اس کی کیا شرائط ہیں؟ مختلف فقروں اور نمبروں کی صورت میں اس کی تفصیل پیش خدمت ہے:
➊ قربانی صرف منڈھا یعنی دوندے جانور کی ہی جائز ہے اور اگر تنگی کی وجہ سے دوندا نہ مل سکے تو پھر بھیڑ (دنبے) کا جذعہ (ایک سال کے دنبے) کی قربانی جائز ہے۔
(دیکھئے صحیح مسلم: 1963)
تنگی سے مراد صرف یہ ہے کہ مارکیٹ اور منڈی میں پوری کوشش اور تلاش کے باوجود دوندا جانور نہ مل سکے۔
[تفصیل کے لیے دیکھئے یہی کتاب (ص103) معاذ ]
➋ حدیث سے ثابت ہے کہ چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے:
① واضح طور پر کانا جانور
② واضح طور پر بیمار جانور
③ واضح طور پر لنگڑا جانور
④ اور بہت زیادہ کمزور جانور جو کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو۔ (سنن ابی داود: 2802، وسندہ صحیح)
[اس روایت کی صحت پر اعتراض کے جواب کے لیے دیکھتے ہیں کتاب (ص 108) معاذ ]
➌ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
امام سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”ایسا جانور جس کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو۔“
(سنن ترمذی: 1504، وقال: حسن صحیح)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ”(قربانی کے جانور میں) آنکھ اور کان دیکھیں۔“
(سنن ترمذی: 1503، وقال: حسن صحیح)
اس پر اجماع ہے کہ اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔
(المجموع شرح المہذب 404/8)
❀ امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 388ھ) نے فرمایا:
”اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ قربانی (والے جانور) میں معمولی نقص معاف ہے۔“
(معالم السنن 199/2)
عبید بن فیروز (تابعی) نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”مجھے ایسا جانور بھی نا پسند ہے جس کے دانت میں نقص ہو۔“
انہوں نے فرمایا: ”تمہیں جو چیز بری لگے اسے چھوڑ دو اور دوسروں پر اسے حرام نہ کرو۔“
(سنن ابی داود: 2803، وسندہ صحیح)
تنبیہ: اگر کسی جانور کے سینگ پر معمولی رگڑ ہو یا اس کے اوپر والی ٹوپی ٹوٹ گئی ہو تو امام سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ روایت کی رو سے اس کی قربانی جائز ہے۔
(نیز دیکھئے متفرق مسائل فقرہ نمبر 8)
قربانی کی کھالیں
قربانی کی کھالیں مسکین لوگوں میں تقسیم کر دیں، جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔
(دیکھئے صحیح مسلم: 1317)
ذبح کرنے والے یا قصاب کو اجرت میں قربانی کی کھالیں دینا جائز نہیں ہے اور اسی طرح اجرت میں قربانی کا گوشت دینا بھی جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
گوشت کی تقسیم
قربانی کا سارا گوشت خود کھانا یا ذخیرہ کر لینا جائز ہے اور اس کے تین حصے کر کے ایک حصہ اپنے لئے، ایک غریب مسکین لوگوں کے لئے اور ایک رشتہ داروں دوستوں کے لئے مخصوص کرنا بھی جائز ہے، بلکہ یہ بہتر ہے۔ (نیز دیکھئے سورۃ الحج کی آیت نمبر 36، 28)
قربانی کے حصے اور شراکت
بکری اور دنبے بھیڑ کا صرف ایک حصہ ہوتا ہے، لیکن گائے، بیل اور اونٹ، اونٹنی میں سات حصے صحیح حدیث سے ثابت ہیں اور ایک حسن روایت سے اونٹ، اونٹنی میں دس حصوں کا بھی ثبوت ہے۔
(دلیل کے لئے دیکھئے صحیح مسلم: 1318، سنن ترمذی: 1501، وقال: حسن غریب)
تنبیہ:
صرف صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر سات یا دس حصوں میں شراکت ہو سکتی ہے اور اہل بدعت، گمراہ و ضال مضل لوگوں کے ساتھ مل کر کبھی قربانی نہیں کرنی چاہئے اور نہ ایسے گمراہوں کے کسی عمل کا کوئی وزن ہے، بلکہ ایسے لوگوں کے تمام اعمال ہباء منشوراً کر کے ہوا میں اڑا دیئے جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔
[مزید تفصیل کے لیے دیکھئے یہی کتاب (ص 100 تا102) معاذ ]
متفرق مسائل
آخر میں قربانی کے بارے میں کئی متفرق مسائل فقرات کی صورت میں پیش خدمت ہیں:
➊ جانور کو ذبح کرتے وقت تسمیہ و تکبیر ( بسم الله والله أكبر ) کہنا سنت سے ثابت ہے۔
(دیکھئے صحیح مسلم: 1966، صحیح بخاری: 5564)
صرف بسم الله پڑھنا بھی ثابت ہے۔ (دیکھئے صحیح مسلم: 1967)
➋ پورے گھر کی طرف سے ایک قربانی بھی کافی ہے۔اور گھر کے دوسرے افراد بھی قربانیاں کر سکتے ہیں۔
(سنن الترمذی: 1505، وقال: حسن صحیح)
➌ میت کی طرف سے قربانی کرنا ثابت نہیں اور اس بارے میں جو روایت آئی ہے، اس کی سند شریک قاضی و حکم بن عتیبہ مدلسین کی عنعنہ اور ابوالحسناء کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی میت کی طرف سے قربانی کرے تو اس کا سارا گوشت اور کھال وغیرہ صدقہ کر دے۔
➍ قربانی کا جانور پہلے سے خرید کر اسے کھلا پلا کر موٹا کرنا جائز ہے۔
(دیکھئے تغلیق التعلیق 6/5، وسندہ صحیح)
➎ عید گاہ میں قربانی کرنا جائز ہے اور عیدگاہ کے باہر مثلاً اپنے گھر میں یا گھر سے باہر وغیرہ میں قربانی کرنا بھی جائز ہے۔
(دیکھئے صحیح بخاری: 5551، 5552)
➏ قربانی کا جانور خود ذبح کرنا سنت ہے اور دوسرے سے ذبح کروانا بھی جائز ہے۔
(دیکھئے موطا امام مالک، روایت ابن القاسم حقیقی: 145)
➐ اگر مسنون یا نفلی قربانی کا جانور گم ہو جائے تو جانور کے مالک کی مرضی ہے کہ دوسرا جانور لے کر قربانی کرے یا قربانی نہ کرے۔
(دیکھئے السنن الکبری 389/9، وسندہ صحیح)
➑ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قربانی کے جانوروں میں ایک کانی اونٹنی دیکھی تو فرمایا: ”اگر یہ خریدنے کے بعد کانی ہوئی ہے تو اس کی قربانی کر لو اور اگر خریدنے سے پہلے یہ کانی تھی تو اسے بدل کر دوسری اونٹنی کی قربانی کرو۔“
(السنن الکبری للبیہقی 389/9، وسندہ صحیح)
ثابت ہوا کہ اگر قربانی کا جانور خرید لیا جائے اور اس کے بعد اس میں کوئی نقص واقع ہو جائے تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔
➒اگر قربانی کا ارادہ رکھنے والا کوئی شخص ناخن یا بال کٹوا دے اور پھر قربانی کرے تو اس کی قربانی ہو جائے گی لیکن یہ شخص گناہ گار ہوگا۔ (الشرح المعانی 430/3)
➓ اگر کسی دوسرے کی طرف سے قربانی کی جائے تو ذبح کرتے وقت اس آدمی کا نام لیتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ یہ قربانی اس کی طرف سے ہے۔
تنبیہ: اس سلسلے میں تفصیلی دلائل و مسائل کے لئے دیکھئے میری کتاب تحقیقی و علمی مقالات (211/2-219)
⓫ خصی جانور کی قربانی جائز ہے اور اس کے نا جائز ہونے کی کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔
خصی جانور کی قربانی کے جواز پر جمہور علماء کا اجماع ہے، دیکھئے یہی کتاب (ص106) [معاذ]
⓬ اگر کسی آدمی کو اللہ نے مال و دولت عطا کیا ہوا ہے تو وہ کئی قربانیاں کر سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے اس عمل سے غرباء و مساکین اور عام مسلمانوں کا فائدہ ہوگا۔
⓭ گائے کا گوشت کھانا بالکل حلال ہے اور کسی قسم کی کسی بیماری کا کوئی خطرہ نہیں ہے الا یہ کہ کوئی شخص بذات خود ہی بیمار ہو۔ جس روایت میں آیا ہے کہ گائے کے گوشت میں بیماری ہے، وہ روایت ضعیف ہے اور اسے صحیح قرار دینا غلط ہے۔
گائے کے گوشت اور دودھ کے لیے دیکھئے یہی کتاب (ص 108) [معاذ]
⓮ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم (360) کی حدیث سے ثابت ہے اور دوسرا گوشت مثلاً گائے، بکری اور بھیڑ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
⓯ قربانی کا اصل مقصد یہ ہے کہ تقویٰ حاصل ہو، لہٰذا ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ (دیکھئے سورۃ الحج: 37)
⓰ قربانی کے جانور (مثلاً گائے) میں عقیقے کے حصے شامل کر دینا جائز نہیں اور یاد رہے کہ عقیقے میں صرف بکرا بکری یا بھیڑ کا ذبح کرنا ہی ثابت ہے، لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک۔ عقیقہ علیحدہ کرنا چاہئے اور قربانی علیحدہ کرنی چاہئے۔
جھوٹ بولنے، غیبت کرنے، چغلی کھانے اور ہر قسم کے کبیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو ہمیشہ بچائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اور ہمارے اعمال اپنے دربار میں قبول فرمائے۔ آمین۔[اس مسئلہ کی مزید توضیح کے لیے دیکھئے یہی کتاب (ص 107) معاذ]
وما علينا إلا البلاغ
[ مقالات 5/ 199]