قربانی کی کھالوں اور زکوٰۃ کی رقم سے مسجد تعمیر کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، ج۱ ص۳۱۳
مضمون کے اہم نکات

سوال

پلاٹ اس نیت سے خریدا گیا تھا کہ اس پر مدرسہ قائم ہو، جہاں بچے تعلیم حاصل کریں، اور ضرورت کے وقت عیدین کی نماز اور جلسے وغیرہ بھی منعقد ہو سکیں۔ یہ پلاٹ زکوٰۃ کی رقم سے خریدا گیا اور اس پر تعمیر بھی بڑی حد تک زکوٰۃ کی رقم سے ہوئی۔ قربانی کے جانور بیچ کر حاصل ہونے والی رقم بھی اس عمارت پر خرچ کی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس عمارت کو گرا کر مسجد بنائی جا سکتی ہے؟ اس مسئلہ کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔ کیا یہ مسئلہ پاکستان اور بیرونِ ملک دونوں کے لیے یکساں ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربانی کی کھالوں کا مصرف

یہ بات واضح ہے کہ قربانی کے جانوروں کی کھالیں اور ان کی قیمت مسجد کی تعمیر یا اس کے سامان میں استعمال نہیں کی جا سکتیں۔ اس کی چند وجوہات ہیں:

قربانی کے چمڑے کا اصل حق دار
قربانی کے چمڑے اور دیگر اجزاء کے اصل حق دار مساکین، یتامیٰ اور دیگر نادار لوگ ہیں۔

حدیث مبارکہ:

((عن عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ: «أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا، لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، فِي الْمَسَاكِينِ وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا))
(متفق عليه، صحیح البخاری ج۱ ص۲۳۲)

’’حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں، ان کا گوشت، کھال اور جھول وغیرہ مساکین میں تقسیم کر دوں اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں۔‘‘

سبل السلام:

قال فی سبل السلام: دَلَّ الحدیث عَلیٰ اَنَّہُ یُتَصَدَّقُ بِالْجُلُودِ وَالْجِلَالِ الخ۔
(سبل السلام ج۳ ص۹۵)

’’اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قربانی کے چمڑے اور جھول وغیرہ کو صدقہ کیا جائے۔‘‘

امام نوویؒ:

(وفی ھذا الحدیث فوائد کثیرة … ان لا یعطی الجزار منھا لان عطیة عوض عن عمله فیکون معنی بیع جزء منھا وذالك لا یجوز۔ ص۴۲۳)

’’اس حدیث کے کئی فوائد ہیں، ان میں سے ایک یہ کہ قربانی کے گوشت، کھال اور جھول کو صدقہ کیا جائے اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دیا جائے، کیونکہ یہ اجرت بن جائے گی جو بیع کے حکم میں ہے، اور بیع قربانی میں جائز نہیں۔‘‘

کھال بیچنے کی ممانعت
قربانی کی کھال کو بیچنا بھی منع ہے۔

مسند احمد:

﴿ وَاسْتَمْتِعُوْا بِجُلُوْدِھَا وَلا تَبِیْعُوْھَا﴾
(فتاویٰ نذیریہ ج۳ ص۲۴۱)

’’کھال سے فائدہ تو اٹھا سکتے ہو، لیکن اسے بیچ نہیں سکتے۔‘‘

السنن الکبریٰ للبیہقی:

مَنْ بَاعَ جِلْدَ اَضْحِیته فلا اُضْحِیَة له
(فتاویٰ نذیریہ)

’’جس نے قربانی کا چمڑا بیچ دیا، اس کی قربانی نہیں ہوئی۔‘‘

سبل السلام:

حُكْمُ الْأُضْحِيَّةِ حُكْمُ الْهَدْيِ فِي أَنَّهُ لَا يُبَاعُ لَحْمُهَا وَلَا جِلْدُهَا وَلَا يُعْطَى الْجَزَّارُ مِنْهَا شَيْئًا اجرة
(سبل السلام ج۳ ص۹۵)

’’اضحیہ کا حکم ہدی کی طرح ہے کہ نہ اس کا گوشت بیچا جا سکتا ہے، نہ چمڑا، اور نہ ہی قصاب کو اجرت میں دیا جا سکتا ہے۔‘‘

نتیجہ

◈ قربانی کی کھالیں اور ان کی قیمت صرف فقراء، مساکین اور یتامیٰ کا حق ہیں۔
◈ مسجد یا اس کے متعلقہ سامان (مثلاً لاؤڈ اسپیکر وغیرہ) پر ان کا خرچ کرنا ناجائز ہے۔
◈ بہتر طریقہ یہ ہے کہ کھال براہِ راست مستحقین کو دے دی جائے۔
◈ اگر ضرورت ہو تو کھال بیچ کر اس کی قیمت فقراء و مساکین میں تقسیم کی جا سکتی ہے، لیکن رقم وہی رہنی چاہیے، اسے کسی اور مصرف میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

اکابر علماء کی تائید

◈ حضرت محدث روپڑیؒ
(فتاویٰ رو پڑیہ ج۲ ص۴۳۵)
◈ شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسریؒ
(فتاویٰ ثنائیہ ج۱ ص۷۲۲، ۷۲۶)
◈ حضرت شیخ الکل میاں نذیر حسینؒ
(فتاویٰ نذیریہ ج۳ ص۲۴۱)

ان تمام اکابر علماء کا فتویٰ یہی ہے کہ قربانی کی کھالوں کی رقم صرف فقراء و مساکین میں ہی تقسیم کی جائے۔

خلاصہ

لہٰذا مسجد کی تعمیر، لاؤڈ اسپیکر یا اس جیسے دیگر امور پر قربانی کی کھالوں یا ان کی قیمت کا خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ ان کا مصرف صرف مستحقین ہیں۔ اگر اس حکم پر عمل نہ کیا گیا تو قربانیاں ضائع ہو جائیں گی۔

﴿ فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب