سوال
قربانی کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اور اس کا کوئی ثبوت کہ اس کا اتنا اجر ملے گا، اجر کی کوئی صحیح حدیث نہیں، حالانکہ مؤلفین کتب قربانی نے بہت کچھ لکھ دیا ہے اور علماء کرام ان کے بیان میں محراب و منبر میں خوب زور دیتے ہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات بالکل درست ہے کہ قربانی (اضحیہ) کی فضیلت کے بارے میں جو مرفوع روایات بیان کی جاتی ہیں، ان میں ایک بھی روایت صحیح نہیں ہے۔
یعنی وہ تمام احادیث جنہیں قربانی کے عظیم اجر و ثواب پر بطور فضیلت نقل کیا جاتا ہے، تحقیق کے مطابق ان میں سے کوئی حدیث صحیح السند کے درجے پر نہیں پہنچتی۔
اس کے باوجود، مختلف کتبِ قربانی کے مؤلفین نے ان روایات کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور علماء کرام بھی ان روایات کو محراب و منبر پر بیان کرتے ہیں اور خوب زور دیتے ہیں۔ لیکن اصولی بات یہی ہے کہ جب تک کوئی روایت درجۂ صحت کو نہ پہنچے، اس کو بطور دلیل بیان کرنا درست نہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب