بسم الله الرحمن الرحيم
سوال: قربانی ذبح کرتے وقت کون سی دعاء سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے؟ اور قربانی کی جو دعاء مشہور ہے إني وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض کیا یہ ضعیف ہے؟ اور دوسرے شخص کی طرف سے قربانی کریں گے تو کیا کہیں گے؟
دن اور تاریخ: اتوار (04/اگست 2019)
السائلين:
➊ عبد الغفار عبد المجد السلفی بیلہا سرہانیپال
➋ عبد الحفیظ مور یا دھنوشانیپال (ابھی ملیشیا میں ہے)
➌ محمد رضوان عین الحق ارنا با کسہا سپتری نیپال
الجواب برب العباد
صورت مسئولہ عنہا میں واضح رہے کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت دعاء کے مختلف الفاظ صحیح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور کسی بھی صیغے کو پڑھ کر قربانی کے جانور کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ إني وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض پڑھ کر ہی قربانی کا جانور ذبح کیا جائے۔ اور کوئی شخص إني وجهت وجهي پڑھ کر قربانی کا جانور ذبح کرے تو یہ بھی درست اور صحیح احادیث نبوی سے بسند حسن ثابت ہے اور امام ابن حجر و شعیب ارناؤط اور البانی کے ساتھ ساتھ کئی لوگوں نے حسن کہا۔
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت کی دعاء کا الفاظ مندرجہ ذیل:
➊ عن أنس، قال : ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين ذبحهما بيده، وسمى، وكبر، ووضع رجله على صفاحهما
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں جانور کے اوپر رکھے ہوئے ہیں اور بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ رہے ہیں۔ اس طرح آپ نے دونوں مینڈھوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔
رواه البخاری (5558و5565) ومسلم انٹر نیشنل نمبر (5090,5088,5087)
➋ عن أنس، قال : ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين ووضع قدميه على صفاحهما وقال : باسم الله والله أكبر اللهم منك ولك
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی اور پاؤں کو رکھا ان کی گردن پر اور کہا: ”بسم الله والله أكبر اللهم منك ولك“
رواه مسند أبي عوانة(7798)واللفظ له واسنادہ صحیح اور تفصیل کیلئے مسلم (1966) بترقيم فؤاد عبدالباقی
➌ عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أفرن يطأ فى سواد ، ويبرك فى سواد ، وينظر فى سواد ، فأتي به ليضحي به فقال لها : يا عائشة، هلمي المدية ، ثم قال: اشحذيها بحجر – ففعلت، ثم أخذها ، وأخذ الكبش، فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال : باسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد ثم ضحى به .
ترجمہ : ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ایک مینڈھا سینگ دار لانے کا جو چلتا ہو سیاہی میں اور بیٹھتا ہو سیاہی میں اور دیکھتا ہو سیاہی میں (یعنی پاؤں اور پیٹ اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہو ) پھر لایا گیا ایک ایسا مینڈھا قربانی کیلئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ ! چھری لا“ پھر فرمایا: ” تیز کر لے اس کو پتھر سے ۔“ میں نے تیز کر دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑا اس کو لٹایا پھر اس کو ذبح کیا : پھر فرمایا: بسم اللہ یا اللہ ! قبول کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی طرف سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی طرف سے ۔ پھر قربانی کی اس کی۔
رواہ مسلم (1967)، وسنن أبى داؤد (2792)
➍ عن جابر بن عبد الله الأنصارى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذبح يوم العيد كبشين، ثم قال حين وجههما: إني وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له، وبذلك أمرت، وأنا أول المسلمين، باسم الله والله أكبر، اللهم منك ولك عن محمد وأمته
ترجمہ : جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن دو مینڈھوں کی قربانی کی، اور جس وقت ان کا منہ قبلے کی طرف کیا تو فرمایا: ”إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، بِاسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ“ میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، بیشک میری نماز میری قربانی میرا جینا اور مرنا سب اللہ ہی کیلئے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم ہے اور سب سے پہلے میں اس کے تابعداروں میں سے ہوں، اے اللہ! یہ قربانی تیری ہی طرف سے ہے، اور تیرے ہی واسطے ہے محمد اور اس کی امت کی طرف سے اسے قبول فرما۔
رواه سنن أبى داؤد ( 2795 ) ، وسنن الترمذى (1521) وسنن ابن ماجہ (3121) وسنن الدارمی (1989) ومسند أحمد ( 15022 ) و صحیح ابن خزيمة ( 2716 ) – و إسناده حسن وحسنه ابن حجر ، وشعيب الأرناؤط ، والألباني في صحيح أبي داؤد (2491) ، والحافظ زبیر علی زئی تحقیق و تخریج سنن ابن ماجه (397/4 ) اورتفصیل کیلئے تراجع علامہ البانی دیکھیں (230) پہلے شیخ البانی نے ضعیف کہا اور رجعت میں حسن کہا ہے ۔
فوائد حدیث: معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت دعاء کے مختلف لفظوں اور صیغوں کے ساتھ صحیح احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور یہ ہیں :
① باسم الله والله أكبر ترجمہ: اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے۔
② باسم الله والله أكبر اللهم منك ولك ترجمہ: اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ تیرے فضل سے ہے اور تیرے لئے ہے۔
③ باسم الله والله أكبر اللهم تقبل من ترجمہ: اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما۔
④ باسم الله والله أكبر، اللهم منك ولك، اللهم تقبل من ترجمہ: اللہ کے نام پر اور اللہ سب سے بڑا ہے،اے اللہ ! یہ تیرے فضل سے ہے اور تیرے لئے ہے، اے اللہ! اسے فلاں کی طرف سے قبول فرما۔
⑤ إني وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين باسم الله والله أكبر اللهم منك ولك ، اللهم تقبل من
تشريح حديث : (اللهم تقبل من ) (اے اللہ! اسے قبول فرما فلاں کی طرف سے ) والی دعاء پڑھی جائے تو (من ) کے بعد اس شخص کا نام لیا جائے جس کی طرف سے قربانی پیش کی جارہی ہے ۔ اور اگر اس شخص کے ساتھ اس کے تمام گھر والوں کی طرف بھی وہی قربانی پیش کی جارہی ہے تو اس طرح پڑھے: اللهم تقبل من فلان و من أهل بيته (اے اللہ اسے قبول فرما فلاں اور اس کے گھر والوں کی طرف سے )۔ اور اگر کوئی شخص خود اپنی طرف سے قربانی پیش کر رہا ہے تو وہ ان الفاظ کو اس طرح پڑھے : اللهم تقبل مني (اے اللہ ! اسے قبول فرما میری طرف سے ) ۔ اور اگر کوئی اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی پیش کر رہا ہے تو اس طرح پڑھے: اللهم تقبل مني و من أهل بيتي (اے اللہ! اسے قبول فرما میری طرف سے اور میرے گھر والوں کی طرف سے ) تفصیل کیلئے دیکھ سکتے ہیں دعائے قربانی ( إني وجهت وجهي للذي – الخ ) والی حدیث کی تحقیق از شیخ کفایت اللہ سنابلی
خلاصہ کلام: قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے اور اگر کوئی شخص دوسرے شخص سے قربانی کے جانور کو ذبح کروائے تو جائز ہے اور ہر شخص اپنے ہاتھ سے قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم الله والله أكبر کہہ کر ذبح کر سکتے ہیں۔
هذا ماتبين لى والله تعالى اعلم بالصواب، وعلمه اتم و اكمل- وصلي الله على النبى و على آله و اصحابه و على اهل بيته و سلم تسليما كثيرا كثيرا
المفتي
محمد مصطفی کعبی از برقی / فاضل الازہر اسلامک یونیورسٹی مصر عربیہ
دن اور تاریخ سوموار (05/اگست 2019)
نظرثانی
مفتی مشرق نیپال استاذ العلماء شیخ حبیب الرحمن محمد رسول مدنی حفظہ اللہ
استاذ مدرسه دارالهدی السلفیہ ٹھیلہ دھنوشانیپال
محدث العصر غلام مصطفے ظہیر امن پوری
ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی حفظہ اللہ مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ البیت العتیق پاکستان
فضیلۃ الشیخ حبیب الرحمن محمد سلیمان مدنی حفظہ اللہ رئیس مرکز الدعوة الاسلامیہ و التعلیم مرچیاسر ہانیپال
فضيلة الشیخ محمد مستقیم حبیب الرحمن مدنی حفظ الله رئیس جمعیة المنہل الخیر یہ نیپال و مدیر کلیہ فاطمتہ الزہراء للبنات کٹیا دھنوشانیپال
یہ اقتباس محمد مصطفی کعبی ازھری کی کتاب ”دعاء قربانی کی تحقیق“ سے ماخوذ ہے۔