قربانی میں فروخت شدہ گائے میں دوبارہ حصہ رکھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، باب: قربانی اور عقیقہ کے مسائل، جلد: 1، صفحہ: 434

سوال :

  • زید کے پاس ایک گائے ہے جو اس نے نہ خریدی ہے اور نہ ہی تجارتی مقصد کے لیے رکھی ہے، بلکہ وہ ایک گھریلو پالی ہوئی گائے ہے۔
  • گائے ظاہری لحاظ سے خوبصورت، بے عیب اور قربانی کے لائق ترین ہے۔
  • کچھ افراد نے زید سے اس گائے کو قربانی کے لیے خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔
  • ثالثی کے ذریعے اس گائے کی قیمت 5000 روپے طے کی گئی۔
  • طے شدہ قیمت کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا۔
  • اب زید یہ کہہ رہا ہے کہ وہ بھی اس گائے میں ایک حصہ قربانی کی نیت سے لینا چاہتا ہے، لہٰذا باقی چھ افراد اسے اپنے چھ حصوں کے پیسے دے دیں۔
  • زید کی پہلے سے اس گائے میں قربانی کی نیت نہیں تھی بلکہ اس نے بعد میں وقتی طور پر نیت کی۔
  • بظاہر عام فہم میں اس معاملے میں کوئی خرابی محسوس نہیں ہوتی۔
  • تاہم شرعی طور پر اس بارے میں فیصلہ درکار ہے کہ آیا زید کے لیے ایسا کرنا درست ہے یا نہیں، چاہے اس کی پہلے سے نیت ہو یا نہ ہو۔
  • حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ نے اپنے فتویٰ میں اس معاملے کو "غیر درست و مشکوک” قرار دیا ہے۔

  • زید نے ایک گائے خریدی ہے۔
  • اب وہ اس گائے میں بغیر کسی نفع کے، صرف اپنی اصل دی ہوئی رقم کی بنیاد پر اپنا ایک حصہ رکھ کر باقی چھ حصے دوسروں کو بیچ کر قربانی کرنا چاہتا ہے۔
  • یعنی سات حصوں میں سے ایک حصہ خود رکھ کر باقی چھ حصے اپنی اصل لاگت پر دوسروں کو دے دے۔
  • سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • چونکہ خریدنے والے افراد نے گائے کی قیمت کو سات حصوں میں تقسیم کر کے اپنی قربانی کی نیت سے معاملہ طے کر لیا ہے،
  • لہٰذا اب زید ان سات افراد میں سے کسی کی رضامندی کے بغیر خود سے اس گائے میں دوبارہ اپنا حصہ قربانی کے لیے نہیں رکھ سکتا۔
  • یہ معاملہ زید کی طرف سے اس وقت شروع کیا گیا ہے جب وہ بیع مکمل کر چکا ہے اور اس کا اختیارِ فسخ (خیار) بھی ختم ہو چکا ہے۔
  • اس لیے شرعی طور پر زید کا اپنی فروخت کردہ گائے میں قربانی کا حصہ رکھنا درست نہیں ہے۔

  • زید کا یہ عمل مکمل طور پر درست اور جائز ہے۔
  • اگر وہ گائے کو خرید کر بغیر نفع کے صرف اپنی اصل دی ہوئی رقم کی بنیاد پر اس میں ایک حصہ خود رکھے اور باقی چھ حصے اسی لاگت پر دوسروں کو دے کر قربانی کرے تو یہ شرعی طور پر بالکل جائز ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب