قربانی سے پہلے ناخن اور بال کاٹنے کا شرعی حکم

ماخوذ : احکام و مسائل، قربانی اور عقیقہ کے مسائل، جلد 1، صفحہ 433

سوال:

ایک حدیث آتی ہے کہ جو قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ بھی چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے اور عید کی نماز پڑھ کر کاٹے تو اسے بھی قربانی جتنا ثواب ملے گا۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے اور کیا قربانی والے کو ناخن اور بال نہیں کاٹنے چاہئیں؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے جو بات لکھی کہ:

’’ایک حدیث آتی ہے کہ جو قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ بھی چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے اور عید کی نماز پڑھ کر کاٹے تو اسے بھی قربانی جتنا ثواب ملے گا‘‘

تو واضح رہے کہ:

یہ حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے، یعنی یہ بات درست ہے کہ قربانی کے ایام میں کچھ خاص اعمال کی پابندی کا ثواب قربانی کے برابر ہو سکتا ہے۔
البتہ اس حدیث میں یہ جملہ شامل نہیں ہے:

’’وہ بھی چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے‘‘

یہ بات حدیث کا حصہ نہیں بلکہ کسی شخص کی اپنی طرف سے اضافہ کردہ ہے۔

قربانی کرنے والے کے لیے حکم:

قربانی کرنے والے شخص کے متعلق حکم یہ ہے کہ جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے،
تو اسے ناخن اور بال نہ کاٹنے چاہئیں اور نہ ہی مونڈنے چاہئیں، یہاں تک کہ وہ اپنی قربانی کر لے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے