قربانی سے متعلق 28 ضروری مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

قربانی کے احکام و مسائل

الحمد لله رب العالمين والصلوٰة والسلام على رسوله الامين ، اما بعد:
عید الاضحیٰ کے موقع پر جو قربانی کی جاتی ہے، اس کے بعض احکام و مسائل پیش خدمت ہیں:
➊ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم هلال ذى الحجة و أراد أحدكم أن يضحى فليمسك عن شعره و أظفاره
”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے بال اور ناخن تراشنے سے رک جانا چاہئے۔“
(صحیح مسلم: 1977، ترقیم دارالسلام: 5119)
اس حدیث میں ارادہ کرنے سے ظاہر ہے کہ قربانی کرنا واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔ دیکھئے الحجۃ لابن حزم(355/7، مسئلہ: 973)
درج بالا حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لئے ناخن تراشنا اور بال مونڈنا، منڈوانا، تراشنا، ترشوانا جائز نہیں ہے۔
سیدنا ابو سریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (سیدنا) ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ اور (سیدنا) عمر رضی اللہ عنہ دونوں میرے پڑوسی تھے اور دونوں قربانی نہیں کرتے تھے۔
(معرفة السنن والآثار 198/7، ح 5633، وسنده حسن، وحسنه النووي فى المجموع شرح المهذب 383/8، وقال ابن كثير فى مسند الفاروق: ”وهذا اسناد صحيح“)
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے یہ ارادہ کیا کہ قربانی کو چھوڑ دوں، اگرچہ میں تمہارے مقابلے میں (مالی) آسانی رکھتا ہوں، اس خوف کی وجہ سے کہ کوئی آدمی اسے واجب نہ سمجھ لے۔“ (السنن الکبریٰ للبیہقی 365/9، وسندہ قوی)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”قربانی سنت ہے، واجب نہیں ہے اور جو شخص اس کی استطاعت رکھے تو میں پسند نہیں کرتا کہ وہ اسے ترک کر دے۔“
(الموطا 487/2 تحت ح 1073)
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”قربانی کرنا سنت ہے، میں اسے ترک کرنا پسند نہیں کرتا۔“
(کتاب الام ج 2 ص 221) ، نیز دیکھئے المغنی لابن قدامہ (1345/9، مسئلہ: 7851)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”باب سنة الأضحية“ (صحیح بخاری قبل ح 5545)
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان له سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا
”جس آدمی کے پاس طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔“
(سنن ابن ماجہ: 3123، وسندہ حسن، وصححہ الحاکم 4/232، ووافقه الذہبی ورواہ احمد 2/321)
اس روایت میں عبد اللہ بن عیاش المصری مختلف فیہ راوی ہیں جن پر کبار علماء وغیرہم نے جرح کی اور جمہور نے توثیق کی، تقریباً پانچ اور چھ کا مقابلہ ہے۔
امام ابن معین، ابن حیان، ابن مندہ، محمد بن طاہر المقدسی وغیرہ نے واضح اور صریح الفاظ میں توثیق کی، احمد بن حنبل، مسلم بن الحجاج القشیری وغیرہما نے روایت بیان کر کے توثیق کی۔ تقریباً تیرہ (13) موثقین کے مقابلے میں کچھ نے جرح کی مثل: ابو حاتم الرازی اور ابن حزم۔ تنبیہ: ابن یونس المصری کی جرح ان کی توثیق کے معارض ہونے کی وجہ سے ساقط ہے۔ ابن یونس کی توثیق کے لیے دیکھئے التوحید لابن مندہ (52، وسندہ صحیح)۔ اس راوی کے تفصیلی حالات کے لیے دیکھئے تحقیقی مقالات 230/5 [معاذ]
روایت مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قربانی کا استخفاف و توہین کرتے ہوئے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے تو اسے مسلمانوں کی عید گاہ سے دور رہنا چاہئے یعنی یہ روایت قربانی کے استحباب و سنیت پر محمول اور منکرین حدیث کا رد ہے۔
➌ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے، اگر مجھے صرف مادہ قربانی (دودھ دینے والا جانور) ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراشو، اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں تمہاری یہ پوری قربانی ہے۔“
(سنن ابی داود: 2789، وسندہ حسن، وصححہ ابن حبان الموارد: 1043، والحاکم 223/4 والذہبی)
اس حدیث کے راوی عیسیٰ بن ہلال الصدفی صدوق ہیں۔ دیکھئے تقریب التهذیب (5337)
انہیں یعقوب بن سفیان الفارسی (المعرفۃ والتاریخ 515/2، 487) اور ابن حبان وغیرہم نے ثقہ قرار دیا ہے۔ ایسے راوی کی روایت حسن کے درجے سے کبھی نہیں گرتی۔ عیاش بن عباس القتبانی ثقہ تھے۔ دیکھئے التقریب (5269) باقی سند صحیح ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اگر ذوالحجہ کے چاند سے لے کر نماز عید سے فارغ ہونے تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے قربانی کا ثواب ملتا ہے۔
➍ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن
”دو دانتوں والے (دوندے) جانور کے علاوہ ذبح نہ کرو الا یہ کہ تم پر تنگی ہو جائے تو دنبے کا جذعہ ذبح کر دو۔“
(صحیح مسلم: 1963، ترقیم دار السلام: 5082)
بکری (یا بھیڑ) کے اس بچے کو جذعہ کہتے ہیں جو آٹھ یا نو ماہ کا ہو گیا ہو۔ دیکھئے القاموس المحیط (ص 243)
❀ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
جمہور کے نزدیک بھیڑ (دنبے) کا جذعہ اسے کہتے ہیں جس نے ایک سال پورا کر لیا ہو۔ (فتح الباری تحت ح 5547)
بہتر یہی ہے کہ ایک سال کا جذعہ بھیڑ میں سے ہو، ورنہ آٹھ نو ماہ کا بھی جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
تنبیہ بلیغ :
صحیح مسلم کی اس حدیث پر عصر حاضر کے شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کی جرح (دیکھئے الضعیفۃ: 65، ارواء الغلیل: 1145) مردود ہے۔
مستدرک الحاکم (226/4 ح 7538، وسندہ صحیح) کی حدیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مسنہ نہ ہونے کی حالت میں جذعہ کی قربانی کافی ہے۔
➎ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أربع لا تجوز فى الأضاحي: العوراء بين عورها والمريضة بين مرضها والعرجاء بين ظلعها والكسير التى لا تنقي
”چار جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے: ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور بہت زیادہ کمزور جانور جو کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو۔“
اس حدیث کے راوی عبید بن فیروز (تابعی) نے کہا: ”مجھے ایسا جانور بھی نا پسند ہے جس کے دانت میں نقص ہو؟“ تو (سیدنا) براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں جو چیز بری لگے اسے چھوڑ دو اور دوسروں پر اسے حرام نہ کرو۔“ (سنن ابی داود: 2802)
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے ترمذی (1497) ابن خزیمہ (2912) ابن حبان (1046، 1047) ابن الجارود (481، 907) حاکم (467، 468) اور ذہبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
معلوم ہوا کہ جس چیز کے بارے میں دل میں شبہ ہو اور اسی طرح مشکوک چیزوں سے بچنا جائز ہے۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
مشہور تابعی امام سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”ایسا جانور جس کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہو۔“
(سنن النسائی 217/7 ح 4382، وسندہ حسن وصححہ الترمذی: 1504)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت میں آیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ (قربانی کے جانور میں) آنکھ اور کان دیکھیں۔
(سنن النسائی 217/7 ح 4381، وسندہ حسن وصححہ الترمذی: 1503 وابن خزیمہ: 2914 وابن حبان الاحسان: 5890 والحاکم 225/4 والذہبی)
ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ کانے، لنگڑے، واضح بیمار، بہت زیادہ کمزور، سینگ (ٹوٹے یا) کٹے اور اندھے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے۔
❀ علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 388ھ) نے فرمایا:
”اس (سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ) حدیث میں دلیل ہے کہ قربانی میں معمولی نقص معاف ہے۔“
(معالم السنن 199/2 تحت ح 683)
معلوم ہوا کہ اگر سینگ میں معمولی نقص ہو یا تھوڑا سا کٹا یا ٹوٹا ہوا ہو تو اس جانور کی قربانی جائز ہے۔
نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ”اس پر اجماع ہے کہ اندھے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔“
(المجموع شرح المهذب 404/8)
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ قربانی کا گوشت کھا لیں اور جھولیں لوگوں میں تقسیم کر دیں اور قصاب کو اس میں سے (بطور اجرت) کچھ بھی نہ دیں۔
دیکھئے صحیح بخاری (1717) و صحیح مسلم (1317) اور یہی مضمون فقرہ نمبر 27
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو جانور اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا جائے (مثلاً قربانی اور عقیقہ) اس کا بیچنا جائز نہیں ہے۔ دیکھئے شرح السنۃ للبغوی (188/7)
➐ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید و سیاہ اور سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے ذبح فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسمیہ و تکبیر ( بسم الله والله أكبر ) کہی اور اپنا پاؤں ان کی گردنوں پر رکھا۔ (صحیح مسلم: 1926 ترقیم دارالسلام: 5087، صحیح بخاری: 5564)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ چھری کو پتھر سے تیز کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈھے کو لٹا کر ذبح کیا اور فرمایا: ”بسم اللہ اے میرے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۔“
(صحیح مسلم: 1967، دار السلام: 5091)
➑ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ والے سال سات (آدمیوں) کی طرف سے (ایک) اونٹ اور سات کی طرف سے (ایک) گائے ذبح کی۔ (صحیح مسلم: 1318، ترقیم دارالسلام: 3185)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اضحی (عید قربان) آگئی تو ہم نے (ایک) گائے میں سات (آدمی) اور (ایک) اونٹ میں دس (آدمی) شریک کئے۔ (سنن الترمذی: 1501، وقال: ”حسن غریب“ وسندہ حسن)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اونٹ میں سات یا دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور گائے میں صرف سات حصہ دار ہوتے ہیں۔ بکری اور مینڈھے میں اتفاق ہے کہ صرف ایک آدمی کی طرف سے ہی کافی ہے۔
حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سفر میں قربانی کرنا جائز ہے۔
➒ نماز عید کے بعد قربانی کرنی چاہئے۔ دیکھئے صحیح بخاری (5545) صحیح مسلم (1961)۔ عید کی نماز سے پہلے قربانی جائز نہیں ہے۔ نیز دیکھئے فقرہ نمبر 24
➓ سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: مسلمانوں میں سے کوئی (مدینہ میں) اپنی قربانی خریدتا تو اسے کھلا پلا کر موٹا کرتا پھر اضحی کے بعد آخری ذوالحجہ میں اسے ذبح کرتا تھا۔
(المستخرج لابی نعیم بحوالہ تعلیق التعلیق 7/5، وسندہ صحیح و قال أحمد: ”هذا الحدیث عجیب“ صحیح بخاری قبل ح 5553 تعلیقاً)
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ ”هذا حديث عجيب“۔ (الشرح الکبیر علی المقنع: 368/9، المغنی 13/387، نیز دیکھئے فتح الباری لابن حجر العسقلانی: 10/10 [معاذ])
تنبیہ: مدینہ والے الفاظ صحیح بخاری میں ہیں۔
⓫ میت کی طرف سے قربانی کا ذکر جس حدیث میں آیا ہے وہ شریک القاضی اور حکم بن عتیبہ دو مدلسین کی تدلیس (عن سے روایت کرنے) اور ابوالحسناء مجہول کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے سنن ابی داود (2790 تحقیقی) سنن الترمذی (1495) اور اضواء المصابیح (1462)۔
تاہم صدقے کے طور پر میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے لہذا اس قربانی کا سارا گوشت اور کھال وغیرہ مسکین یا مساکین کو صدقے میں دینا ضروری ہے۔
تنبیہ: عام قربانی (جو صدقہ نہ ہو) کی کھال خود استعمال میں لائیں یا کسی دوست کو تحفہ دے دیں، یا کسی مسکین کو صدقہ کر دیں۔
[نیز دیکھئے فتاویٰ علمیہ: 243/2-244/2 معاذ]
⓬ سیدنا ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے، آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے (ایک بکری قربان کرتا تھا) پھر بعد میں لوگوں نے ایک دوسرے پر فخر (اور ریس) کرنا شروع کر دیا۔“
(موطا امام مالك ج 2 ص 638 ح 1069، وسنده صحيح، النسخة الپاكستاني ص 497، السنن الكبريٰ للبيهقي 268/9، سنن الترمذي: 1505، وقال: ”حسن صحيح“، سنن ابن ماجه: 3147، محمد النووي فى المجموع شرح المهذب 384/8)
سنن ابن ماجہ وغیرہ میں اس بات کی صراحت ہے کہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تھا۔ (وسندہ حسن)
معلوم ہوا کہ اگر گھر کا سربراہ یا کوئی آدمی ایک قربانی کر دے تو وہ سارے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے۔
⓭ عیدگاہ میں قربانی کرنا جائز ہے اور عید گاہ کے باہر اپنے گھر وغیرہ میں قربانی کرنا بھی جائز ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (5551، 5552)
⓮ قربانی کا جانور خود ذبح کرنا سنت ہے اور دوسرے سے ذبح کروانا بھی جائز ہے۔ دیکھئے الموطا (روایت ابن القاسم: 135 تحقیقی، وسندہ صحیح)، السنن الصغریٰ للنسائی، مسند احمد 388/3
⓯ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائیں ذبح کی تھیں۔ (صحیح بخاری: 5559، صحیح مسلم: 1211)
تنبیہ: جن روایات میں آیا ہے کہ گائے کے گوشت میں بیماری ہے، ان میں سے ایک بھی صحیح ثابت نہیں ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے یہی کتاب (ص 108) [معاذ]
⓰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بنو تغلب والے عیسائیوں کے ذبیحے نہ کھاؤ کیونکہ وہ اپنے دین میں سے سوائے شراب نوشی کے کسی پر بھی قائم نہیں ہیں۔“
(السنن الکبریٰ للبیہقی 284/9، وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ مرتدین اور ملحدین کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔
⓱ قربانی کا گوشت خود کھانا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے۔ نیز دیکھئے فقرہ نمبر 19
⓲ ایک دفعہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مدینہ طیبہ میں قربانی کی اور سر منڈوایا، آپ فرماتے تھے: جو شخص حج نہ کرے اور قربانی کرے تو اس پر سر منڈوانا واجب نہیں ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی 288/9، وسندہ صحیح، الموطا 483/2 ح 1062)
⓳ قربانی کا گوشت خود کھانا، دوستوں رشتہ داروں کو کھلانا اور غریبوں کو تحفہ دینا تینوں طرح جائز ہے۔ مثلاً دیکھئے سورۃ الحج (آیت نمبر 36، 28) اور فتاویٰ ابن تیمیہ 309/2 وغیرہ
(20) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جو شخص قربانی کے جانور (بیت اللہ کی طرف) روانہ کرے پھر وہ گم ہو جائیں، اگر نذر تھی تو اسے دوبارہ بھیجنے پڑیں گے اور اگر نفلی قربانی تھی تو اس کی مرضی ہے دوبارہ قربانی کرے یا نہ کرے۔
(السنن الکبریٰ 389/9، وسندہ صحیح)، نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث: 52 ص 130
(21) سیدنا عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما نے قربانی کے جانوروں میں ایک کانی اونٹنی دیکھی تو فرمایا: ”اگر یہ خریدنے کے بعد کانی ہوئی ہے تو اس کی قربانی کر لو اور اگر خریدنے سے پہلے یہ کانی تھی تو اسے بدل کر دوسری اونٹنی کی قربانی کرو۔“ (السنن الکبریٰ 389/9، وسندہ صحیح)
(22) قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت اس کا چہرہ قبلہ رخ ہونا چاہئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ذبیحے کا گوشت کھانا مکروہ سمجھتے تھے جسے قبلہ رخ کئے بغیر ذبح کیا جاتا تھا۔
(مصنف عبد الرزاق 389/4 ح 8585، وسندہ صحیح)
(23) منکرینِ حدیث قربانی کی سنیت کے منکر ہیں حالانکہ متواتر احادیث و آثار سے قربانی کا سنت ہونا ثابت ہے اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ ہر جاندار میں ثواب ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (2363) و صحیح مسلم (2244)
(24) عید کی نماز میں دیر نہیں کرنی چاہئے بلکہ اسے جلدی پڑھنا سنت ہے۔ ایک دفعہ ایک امام نے عید کی نماز میں دیر کی تو عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا اور فرمایا: ”ہم تو اس وقت جب چاشت کی نماز پڑھی جاتی ہے اس نماز سے فارغ ہو جاتے تھے۔“ (سنن ابی داود: 1135، وسندہ صحیح، صححہ الحاکم علی شرط البخاری 1/295 ووافقه الذہبی) ,تفصیل کے لیے دیکھئے یہی کتاب (ص 106) [معاذ] ,نیز دیکھئے فقرہ نمبر 9
(25) اگر قربانی کا ارادہ رکھنے والا کوئی شخص ناخن یا بال کٹوا دے اور پھر قربانی کرے تو اس کی قربانی ہو جائے گی لیکن وہ گناہ گار ہوگا۔ (الشرح مجمع علی زاد استنفع لابن تیمیہ 330/3)
(26) قربانی ذبح کرنے والا اور شرکت کرنے والے حصہ دار سب صحیح العقیدہ ہونے چاہئیں۔
(27) اگر کسی کی طرف سے قربانی کی جائے تو ذبح کے وقت اس کا نام لیتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ یہ قربانی اس (فلاں) کی طرف سے ہے۔
(28) قول راجح میں قربانی کے تین دن ہیں۔ دیکھئے الحدیث: شمارہ 24 ص 6 تا 11
(تحقیقی مقالات: 211/2)

قربانی کے اجماعی مسائل

قربانی کے بارے میں امام ابن المنذر النیسابوری کی مشہور کتاب الاجماع سے اجماعی مسائل پیش خدمت ہیں:
217۔ اجماع ہے کہ قربانی کے دن طلوع فجر (صبح صادق) سے پہلے قربانی جائز نہیں۔
218۔ اجماع ہے کہ قربانی کا گوشت مسلمان فقیروں کو کھلانا مباح ہے۔
219۔ اجماع ہے کہ اگر جائز آلہ سے قربانی کرے، بسم اللہ پڑھے، حلق اور دونوں رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے، تو ایسے قربان شدہ جانور کا کھانا مباح ہے۔
220۔ اجماع ہے کہ گونگے کا ذبیحہ جائز ہے۔
221۔ اجماع ہے کہ ذبیحہ کے پیٹ سے بچہ مردہ برآمد ہو تو اس کی ماں کی قربانی اس کے لئے کافی ہوگی۔
222۔ اجماع ہے کہ عورتوں اور بچوں کا ذبیحہ مباح ہے اگر صحیح طریقہ سے ذبح کر سکیں۔
223۔ اجماع ہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ ہمارے لئے حلال ہے اگر بسم اللہ پڑھ کر ذبح کریں۔
224۔ اجماع ہے کہ دار الحرب میں مقیم اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے۔
225۔ اجماع ہے کہ مجوس کا ذبیحہ حرام ہے، کھایا نہیں جائے گا۔
226۔ اجماع ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں اور بچوں کا ذبیحہ حلال ہے (بسم اللہ کی شرط کے ساتھ)۔
227۔ اجماع ہے کہ کتے شکاری جانور ہیں، اگر کسی مسلمان نے انہیں شکار کرنا سکھایا، اور بسم اللہ کے بعد شکار پر چھوڑا، اور اس نے اس شخص کے لئے شکار پکڑ لیا تو ایسا شکار کھانا جائز ہے، بشرطیکہ کالا کتا نہ ہو۔
228۔ اجماع ہے کہ دریائی شکار، یا اس کی خرید و فروخت، یا خورد و نوش حالت احرام وغیرہ میں بھی جائز ہے۔
(کتاب الاجماع ص 52-53، مترجم ابوالقاسم عبد العظیم، تحقیقی مقالات: 2/219)
پیدائشی بے سینگ جانور کی قربانی کے جواز پر اجماع کے لیے دیکھتے یہی کتاب (ص 107) [ معاذ ]