سوال:
کیا قرآن کی آیات کی ترتیب توقیفی ہے؟
جواب:
قرآن کریم کی آیات کی ترتیب توقیفی ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحابہ کرام کو آیات کی ترتیب بتائی ہے، اس پر اجماع ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قلت لعثمان بن عفان: والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا قال: قد نسختها الآية الأخرى، فلم تكتبها؟ أو تدعها؟ قال: يا ابن أخي لا أغير شيئا منه من مكانه
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ آیت کریمہ:
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا
(البقرة: 234)
تم میں سے وہ لوگ، جو فوت ہو جاتے ہیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔
اس کو ایک دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے، پھر آپ نے اسے (مصحف میں) کیوں لکھا ہے یا اسے (مصحف میں) کیوں رکھا ہے؟ فرمایا: بھتیجے! میں قرآن کی کسی آیت کو اس کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔
(صحيح البخاري: 4530)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
في جواب عثمان هذا دليل على أن ترتيب الذى توقيفي.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا جواب دلیل ہے کہ آیات کی ترتیب توقیفی ہے۔
(فتح الباری: 194/8)
❀ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف أن تأليف كل سورة وترتيب آياتها توقيف من الله تعالى على ما هي عليه الآن فى المصحف، وعلى ذلك نقلته الأمة عن نبيها علیہ السلام .
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہر سورت اور اس کی آیات کی ترتیب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جیسا کہ اس وقت مصحف میں ترتیب ہے، جسے امت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (متواتر) نقل کیا ہے۔
(إكمال المعلم: 137/3)
❀ علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794ھ) فرماتے ہیں:
أما الآيات فى كل سورة وضع البسملة أوائلها فترتيبها توقيفي بلا شك ولا خلاف فيه.
ہر وہ سورت جس کے آغاز میں بسم اللہ ہے، بلاشبہ اس کی آیات کی ترتیب توقیفی ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
(البرهان: 256/1)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) فرماتے ہیں:
الإجماع والنصوص المترادفة على أن ترتيب الآيات توقيفي لا شبهة فى ذلك.
اجماع اور متواتر نصوص دلالت کرتی ہیں کہ آیات کی ترتیب توقیفی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔
(الإتقان: 211/1)
❀ علامہ زرقانی رحمہ اللہ (1367ھ) فرماتے ہیں:
انعقد إجماع الأمة على أن ترتيب آيات القرآن الكريم على هذا النمط الذى نراه اليوم بالمصاحف كان بتوقيف من النبى صلى الله عليه وسلم عن الله تعالى وأنه لا مجال للر أى والإجتهاد فيه، بل كان جبريل ينزل بالآيات على الرسول صلى الله عليه وسلم ويرشده إلى موضع كل آية من سورتها، ثم يقرؤها النبى صلى الله عليه وسلم على أصحابه ويأمر كتاب الوحي بكتابتها معينا لهم السورة التى تكون فيها الآية وموضع الآية من هذه السورة، وكان يتلوها عليهم مرارا وتكرارا فى صلاته وعظاته وفي حكمه وأحكامه، وكان يعارض به جبريل كل عام مرة وعارضه به فى العام الأخير مرتين، كل ذلك كان على الترتيب المعروف لنا فى المصاحف، وكذلك كان كل من حفظ القرآن أو شيئا منه من الصحابة حفظه مرتب الآيات على هذا النمط، وشاع ذلك وذاع وملأ البقاع والأسماع يتدارسونه فيما بينهم ويقرؤونه فى صلاتهم ويأخذه بعضهم عن بعض ويسمعه بعضهم من بعض بالترتيب القائم الآن، فليس لواحد من الصحابة والخلفاء الراشدين يد ولا تصرف فى ترتيب شيء من آيات القرآن الكريم، بل الجمع الذى كان على عهد أبى بكر رضى الله عنه لم يتجاوز نقل القرآن من العسب واللخاف وغيرها فى صحف، والجمع الذى كان على عهد عثمان رضى الله عنه لم يتجاوز نقله من الصحف إلى مصاحف، وكلا هذين كان وفق الترتيب المحفوظ المستفيض عن النبى صلى الله عليه وسلم عن الله تعالى فى أجل، انعقد الإجماع على ذلك تاما لا ريب فيه.
امت کا اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کی ترتیب، جس طرح ہم آج مصاحف میں دیکھ رہے ہیں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے لی ہے، نیز (اجماع ہے کہ) اس میں اجتہاد یا رائے کی گنجائش نہیں، بلکہ جبریل علیہ السلام آیات لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت میں ہر آیت کی جگہ کی بھی نشاندہی کرتے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وہ آیت پڑھ کر سناتے اور کاتبین وحی کو آیت لکھنے کا حکم دیتے، تو انہیں بتاتے کہ یہ آیت کس سورت کی ہے اور اسے سورت میں کس جگہ لکھنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی مرتبہ نماز پڑھاتے ہوئے، وعظ کرتے ہوئے اور فیصلے کرتے ہوئے قرآن کریم صحابہ پر تلاوت کرتے تھے، جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم کا دور کرتے اور آخری سال دو مرتبہ دور کیا، ان سب موقعوں پر اسی ترتیب سے تلاوت کرتے تھے، جو ترتیب ہمارے پاس مصحف میں موجود ہے۔ اسی طرح جن صحابہ نے مکمل قرآن یا قرآن کا کچھ حصہ حفظ کیا، انہوں نے بھی اسی ترتیب کے مطابق حفظ کیا، یہ ترتیب شائع اور معروف ہوگئی۔ ہر علاقے کے لوگوں نے قرآن کو ایک دوسرے سے سیکھا، نمازوں میں پڑھا، ایک دوسرے سے پڑھا اور ایک دوسرے سے سنا، یہ سب اسی ترتیب سے تھا، جو ترتیب آج قائم ہے، آیات کی ترتیب میں کسی صحابی یا خلیفہ راشد کا کوئی عمل دخل اور تصرف نہیں تھا۔ عہد صدیقی میں جو قرآن جمع کیا گیا، وہ صرف لکڑیوں اور پتھروں وغیرہ سے صحیفوں میں نقل کیا گیا اور جو عہد عثمانی میں قرآن جمع کیا گیا، وہ فقط صحیفوں سے مصاحف میں نقل تھا۔ دونوں مرتبہ اسی ترتیب سے جمع کیا گیا، جو ترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر تھی اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے لیا تھا۔ اس پر بھرپور اجماع منعقد ہو چکا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
(مناهل العرفان: 346/1-347)