قرآن پاک کے شہید اوراق دفن کرنا یا جلانا: حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

کچھ لوگ قرآن پاک کے شہید اوراق دفن کر دیتے ہیں، یا کنویں اور دریا وغیرہ میں ڈال دیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ قرآن و حدیث کی رو سے تحریر کریں۔

جواب:

قرآن حکیم کے شہید اوراق ہوں یا کسی اور دینی کتاب کے، انھیں جس طرح بھی مناسب ہو، محفوظ کر دینا چاہیے، تاکہ ان کی توہین نہ ہو۔ انھیں دفن کر کے بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جلا کر راکھ بھی بنایا جا سکتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (4987) میں عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے۔ الغرض ایسی ممکنہ صورت اختیار کی جائے جس سے ان اوراق کا تحفظ ہو جائے۔ آج کل کئی لوگ دریاؤں میں ڈال دیتے ہیں، اس میں کچھ قباحتیں بھی ہیں۔ دریائے راوی میں گندے گٹروں کا پانی گرتا ہے اور اکثر یہ خشک رہتا ہے۔ اب جس پانی میں پاخانہ اور پیشاب والا پانی ملا ہو اس میں ان اوراق کو ڈالنے سے توہین ہوتی ہے، اس سے بچا جائے۔ کئی علاقوں کو دریا سے نہریں نکال کر سیراب کیا جاتا ہے اور یہ اوراق اس پانی میں بہہ کر کھیتوں میں چلے جاتے ہیں، جہاں لوگوں کے پاؤں تلے روندے جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ گہرا گڑھا کھود کر زمین میں دفن کر دیا جائے، یا جلا کر ان کی حیثیت ختم کی جائے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے