مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قرآن و سنت کے مقابلے میں عقل کا مطالبہ کرنا باطل ہے

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر کوئی کتاب و سنت کی نصوص کو نہ مانے اور عقلی دلیل کا مطالبہ کرے، اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

مسلمان کی دلیل قرآن و حدیث ہے۔ جو مسئلہ قرآن و حدیث سے ثابت ہو جائے، اس کے بعد عقلی دلیل کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ عقل وحی کے تابع ہے، وحی عقل کے تابع نہیں، کیونکہ وحی اس ذات کی طرف سے نازل ہوئی ہے، جس نے عقل کو تخلیق کیا ہے۔ وحی کامل ہے اور عقل ناقص ہے۔ ناقص کے ساتھ کامل کا رد کرنا عقل مندی نہیں۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
إذا رأيت المتكلم المبتدع يقول: دعنا من الكتاب والأحاديث الآحاد وهات العقل، فاعلم أنه أبو جهل، وإذا رأيت السالك التوحيدي يقول: دعنا من النقل ومن العقل وهات الذوق والوجد، فاعلم أنه إبليس قد ظهر بصورة بشر، أو قد حل فيه، فإن جبنت منه، فاهرب، وإلا فاصرعه، وابرك على صدره، واقرأ عليه آية الكرسي، واخنقه
اگر آپ کو کوئی متکلم بدعتی یہ کہتا سنائی دے کہ ہمیں قرآن اور (صحیح) اخبار آحاد پیش مت کرو، بس عقلی دلیل پیش کرو، تو جان لیجیے کہ وہ ابو جہل ہے۔ اگر آپ کو وحدت الوجود کا قائل کوئی صوفی یہ کہتا سنائی دے کہ ہمیں نقل و عقل سے دلیل مت دو، بلکہ ذوق و وجد پیش کرو، تو جان لیجیے کہ وہ ابلیس ہے، جو انسانی شکل میں ظاہر ہوا ہے یا اس میں ابلیس نے حلول کر لیا ہے۔ اگر آپ اس سے مغلوب ہوں، تو بھاگ جائیے، ورنہ اسے بچھاڑ دیجیے، اس کے سینے پر بیٹھ جائیے، اس پر آیت الکرسی پڑھیے اور اس کا گلا دبا دیجیے۔
(سِير أعلام النبلاء: 472/4)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔