سوال:
عورت سے غیر فطری مجامعت کے متعلق کیا کہتے ہیں؟
جواب:
غیر فطری مجامعت (عورت سے پچھلی شرمگاہ میں جماع) گناہ کی سب سے بھیانک اور بدبخت صورت ہے۔ اس سے قوائے فکری و عملی پر سخت چوٹ لگتی ہے۔ اس قبیح فعل کا نتیجہ ذلت و خسران اور تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کے فاعل کو ہمیشہ ذلت و نامرادی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ مغضوب علیہم قوموں کے آثار سیئہ اور اخلاق قبیحہ میں سے ایک گناہ ہم جنس پرستی، عمل قوم لوط اور عورت سے لواطت ہے۔ فواحش و رذائل کی فہرست میں اور طبع سلیم کی کراہت و نکارت کے لحاظ سے یہ گناہ بدکاری سے بڑھ کر ہے۔ کفر کے بعد اس کا نمبر آتا ہے۔ اس کے نقصانات اور بد اثرات معاشرے پر قتل سے بڑھ کر ہیں۔ اسے جائز کہنا محض دعویٰ بلا دلیل پر اصرار ہے، یہ اسلام کی بے لوث اور پاکیزہ تعلیمات پر حملہ ہے، نیز اسلامی تہذیب کی تمام نزاکتیں تار تار کر دینے کے مترادف ہے۔ یہ دینی و انسانی مصلحت سے عاری ایسا عظیم جرم ہے، جو ایک مسلمان سے ثقاہت و تقویٰ کی دولت چھین لیتا ہے۔ یہ شوہر و زوجہ کے خوشگوار تعلقات کو نفرت و عداوت میں بدل دیتا ہے۔ رشتہ ازدواج کا تقدس پامال کر دیتا ہے، انسانی صحت کو روگ لگا دیتا ہے، روحانیت کو سلب کر لیتا ہے۔ جب کوئی اپنی بیوی سے لواطت کرتا ہے، اس وقت وہ عقل و فکر کے نزدیک مسلمات کو للکار رہا ہوتا ہے۔ قرآن عزیز اور حدیث شریف کی پرنور تعلیمات سے آشنا شخص سے اس بُرے فعل کا ارتکاب مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ واضح رہے کہ جس قوم کے اندر یہ بے ہودہ اور بدترین گناہ پایا گیا، مولائے کریم نے انہیں دنیا ہی میں مرقع عبرت اور داستان موعظت بنایا ہے۔ یہ انعکاس فطرت پر مبنی نازیبا عمل بے راہ روی اور آوارہ مزاجی کی ایسی لعین عادت ہے، جو اخلاق باختہ اور لادینی فستق و فجور میں غرقاب شہوات و لذات میں منہمک، عصیان و معاصی کے دلدل میں بری طرح پھنسے ہوئے، بلکہ دھنسے ہوئے یورپ کے پانچ ملکوں میں قانون کا درجہ حاصل کر چکی ہے اور انسانیت کے لیے باعث ننگ و عار اس قانون پر کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوتی۔
❀ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) فرماتے ہیں:
في إجماع الجميع على أن الله تعالى ذكره لم يطلق فى حال الحيض من إتيانهن فى أدبارهن شيئا حرمه فى حال الطهر، ولا حرم من ذلك فى حال الطهر شيئا أحله فى حال الحيض.
تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حالت حیض میں عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے کے متعلق کوئی ایسی چیز مباح نہیں کی، جسے حالت طہر میں حرام کیا ہو اور نہ اس حوالے سے حالت طہر میں کوئی چیز حرام کی ہے، جسے حالت حیض میں حلال کیا ہو۔
(تفسير الطبري: 740/3)