مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قرآن و حدیث کی روشنی میں مارشل لاء کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 514

سوال

قرآن وحدیث کی روشنی میں مارشل لاء کی وضاحت کی جائے کہ کیا وہ صحیح ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◄ اسلام کے بنیادی مصادر یعنی قرآن و حدیث میں "مارشل لاء” کے ہم معنی کوئی لفظ یا تصور موجود نہیں ہے۔
◄ اسلام میں اس قسم کے ظالمانہ اور جابرانہ قوانین کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔
◄ "مارشل لاء” دراصل جابرانہ حکمرانوں کی اختراع ہے، جو انصاف اور عدل کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔
◄ یہ غیر اسلامی تصور دراصل انگریزوں کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے، جسے اسلام سے جوڑنا درست نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔