قرآن و حدیث کی روشنی میں شکر کی حقیقت، فضیلت اور انجام

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

ایمان کی تکمیل شکر و صبر سے ہوتی ہے۔ اہلِ علم کے مطابق ایمان کے دو بڑے حصے ہیں: شکر اور صبر۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشی اور نعمت ملے تو بندہ شکر ادا کرے، اور جب آزمائش یا مصیبت آئے تو صبر و تحمل اختیار کرے۔ اسی توازن سے ایمان پختہ اور کامل ہوتا ہے۔ اس مضمون میں ہم شکر کی حقیقت، اس کی اہمیت، شکر کے فوائد، ناشکری کے نقصانات، زبانی و عملی شکر کی صورتیں، اور قیامت کے دن نعمتوں کے سوال جیسے اہم نکات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں (ترجمہ اور حوالہ جات کے ساتھ) بیان کریں گے، تاکہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے حقیقی شکر گزار بن سکیں۔

ایمان کے دو حصے: شکر اور صبر

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ﴾
(سبا 34:19)
ترجمہ: “اس میں یقینا کئی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو انتہائی صبر کرنے والا اور بہت زیادہ شکر بجا لانے والا ہو۔”

اس آیت میں “صَبَّار” اور “شَكُور” مبالغہ کے صیغے ہیں، یعنی جو بندہ انتہائی درجہ صبر اور بہت زیادہ شکر کرنے والا ہو، وہی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے حقیقی سبق لیتا ہے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذٰلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ: إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَّهُ ))
(صحیح مسلم: 2999)
ترجمہ: “مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہوتا ہے، اور یہ (خصوصیت) صرف مومن کو حاصل ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔”

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ایمان کو شکر اور صبر دونوں کے ساتھ مکمل کرے۔ اس مضمون میں شکر پر گفتگو ہے، اور صبر کا بیان ان شاء اللہ الگ موضوع ہوگا۔

نبی کریم ﷺ کی شکر گزاری کی دعائیں اور تعلیمات

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود انتہائی شکر گزار تھے اور یہ دعا کرتے:

(( … رَبِّ اجْعَلْنِيْ لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا … ))
(سنن ابی داود: 1510، سنن ابن ماجہ: 3830، وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “اے میرے رب! مجھے اپنا انتہائی شکر گزار، بہت زیادہ ذکر کرنے والا اور نہایت ڈرنے والا بندہ بنا دے۔”

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:

(( يَا مُعَاذُ! وَاللّٰهِ إِنِّيْ لَأُحِبُّكَ… لَا تَدَعَنَّ فِيْ دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ))
(سنن ابی داود: 1522، وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “اے معاذ! اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں… اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کبھی نہ چھوڑنا: ‘اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی بہترین عبادت پر میری مدد فرما’۔”

یہ دعا اس بات کی دلیل ہے کہ شکر صرف زبان کا نہیں بلکہ عبادت کی خوبصورتی اور ذکر کے ساتھ جڑا ہوا عمل ہے۔

حضرت ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّيْ لِيَجْعَلَ لِيْ بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا… وَلٰكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوْعُ يَوْمًا… وَإِذَا شَبِعْتُ شَكَرْتُكَ وَحَمِدْتُكَ ))
(سنن الترمذی: 2347، وقال: حسن)
ترجمہ: “میرے رب نے مجھے پیش کش کی کہ مکہ کی وادی بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، میں نے کہا: اے میرے رب! نہیں، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ایک دن سیر ہوں اور ایک دن بھوکا۔ جب بھوکا ہوں تو تیری طرف گڑگڑا کر رجوع کروں اور تجھے یاد کروں، اور جب سیر ہوں تو تیرا شکر اور تیری حمد بیان کروں۔”

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حالات بدلتے رہیں مگر بندے کا دل شکر اور ذکر سے وابستہ رہے۔

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں اور شکر کا مطالبہ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ… وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا إِنَّ الْإِنسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ﴾
(ابراہیم 14:32-34)
ترجمہ: “اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا… اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو شمار نہیں کر سکو گے۔ بے شک انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔”

اسی لیے قرآن میں مختلف نعمتیں بیان کر کے بار بار فرمایا جاتا ہے:

﴿لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾
ترجمہ: “تاکہ تم شکر ادا کرو۔”

مثالیں:

﴿وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ… وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

“اور اُس کی رحمت ہی میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لیے رات اور دن بنا دیے، تاکہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اُس کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔”

(القصص 28:73)

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَن يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ… وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

“اور اُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ ہوائیں خوشخبری دینے والی بنا کر بھیجتا ہے، تاکہ تمہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھائے، اور تاکہ اُس کے حکم سے کشتیاں چلیں، اور تاکہ تم اُس کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔”

(الروم 30:46)

﴿وَهُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ… وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

“اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے تابع کر دیا، تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ، اور اس میں سے وہ زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو، اور تم کشتیوں کو اس میں چیرتی ہوئی چلتا دیکھتے ہو، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔”

(النحل 16:14)

﴿وَاللّٰهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ… لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾

“اور اللہ ہی نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے، اور اُس نے تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔”

(النحل 16:78)

قیامت کے دن نعمتوں کے بارے میں سوال

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيْمِ﴾
(التکاثر 102:8)
ترجمہ: “پھر اس دن ضرور تم سے نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

( هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّتِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ )

“یہ اُن نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔”

(مسند احمد: 14678)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا:

(( هَذَا… مِنَ النَّعِيمِ الَّتِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ظِلٌّ بَارِدٌ، وَرُطَبٌ طَيِّبٌ، وَمَاءٌ بَارِدٌ ))

“یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا: ٹھنڈی چھاؤں، عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی۔”

(سنن الترمذی: 2369، صحیح مسلم: 2038)

اور فرمایا:

(( أَلَمْ نُصِحَّ لَكَ جِسْمَكَ وَنُرْوِكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ؟ ))

“کیا ہم نے تمہیں صحت مند جسم عطا نہیں کیا، اور تمہیں ٹھنڈا پانی پلا کر سیراب نہیں کیا؟”

(سنن الترمذی: 3358)

پانی اور رزق پر شکر کی تاکید

پانی جیسی عظیم نعمت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو جھنجھوڑ کر متوجہ فرمایا کہ یہ محض اتفاق یا انسانی قدرت کا نتیجہ نہیں، بلکہ خالقِ حقیقی کی عطا ہے:

﴿أَفَرَأَیْتُمُ الْمَائَ الَّذِیْ تَشْرَبُونَ. أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوہُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ. لَوْ نَشَائُ جَعَلْنَاہُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْکُرُونَ﴾
(الواقعۃ 56:68-70)
ترجمہ: “بھلا دیکھو! تم جو پانی پیتے ہو، کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا اتارنے والے ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کھارا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں ادا کرتے؟”

یہاں پانی کے بارے میں سوال کر کے حقیقت واضح کی گئی کہ جس نعمت کے بغیر زندگی ممکن نہیں، وہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ چاہے تو اسی نعمت کو انسان کیلئے بے فائدہ بنا دے، لہٰذا شکر سے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

اسی طرح رزقِ حلال کھانے اور شکر ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُلُوْا مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُوا لِلّٰہِ إِن کُنتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ﴾
(البقرۃ 2:172)
ترجمہ: “اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں ان میں سے کھاؤ اور اگر تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو تو اسی کا شکر ادا کرو۔”

اور فرمایا:

﴿فَکُلُوا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلاَلاً طَیِّبًا وَّاشْکُرُوا نِعْمَتَ اللّٰہِ إِنْ کُنتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُونَ﴾
(النحل 16:114)
ترجمہ: “جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ، اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔”

ان دونوں آیات میں واضح کیا گیا کہ رزقِ حلال اختیار کرنا اور شکر ادا کرنا، دونوں ایمان کے بنیادی تقاضے ہیں۔ جو واقعی اللہ کی عبادت کا دعویدار ہے وہ اس کے رزق کو کھا کر اسی کے سامنے جھکتا ہے اور نعمت کو شکر کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔

اور شکر کی عملی صورت میں کم سے کم یہ ہے کہ بندہ کھانے پینے کے بعد اللہ کی حمد بیان کرے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( إِنَّ اللّٰہَ لَیَرْضٰی عَنِ الْعَبْدِ أَنْ یَّأْکُلَ الأَکْلَۃَ فَیَحْمَدُہُ عَلَیْہَا،أَوْ یَشْرَبَ الشَّرْبَۃَ فَیَحْمَدُہُ عَلَیْہَا))
(صحیح مسلم: 2734)
ترجمہ: “بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا بندہ جب کوئی کھانا کھائے تو اس پر اللہ کی حمد کرے، یا جب پانی کا گھونٹ پیئے تو اس پر اللہ کی حمد کرے۔”

یعنی کھانے پینے کے بعد حمد بھی شکر کی ایک بڑی صورت ہے، اور اس سے اللہ تعالیٰ بندے سے راضی ہو جاتا ہے۔

نعمتوں کی ناشکری: قیامت کی جواب دہی اور دنیاوی خسارہ

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ سوال صرف کھانے پینے تک محدود نہیں۔ انسان سے باقی نعمتوں کے متعلق بھی پوچھا جائے گا کہ کیا ان کا شکر ادا کیا یا نہیں۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث میں بہت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے:

(( یَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ:یَا ابْنَ آدَمَ !حَمَلْتُکَ عَلَی الْخَیْلِ وَالْإِبِلِ،وَزَوَّجْتُکَ النِّسَائَ،وَجَعَلْتُکَ تَرْبَعُ وَتَرْأَسُ،فَأَیْنَ شُکْرُ ذَلِکَ؟ ))
(مسند احمد، قال الأرناؤط: إسنادہ صحیح علی شرط مسلم)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار کیا، تیری شادی کرائی، تجھے سردار بنا کر عزت و عیش کی زندگی دی، تو ان نعمتوں کا شکر کہاں ہے؟”

لہٰذا قیامت کے دن کی حسرت سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ابھی سے اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں، اس کے شکر گزار اور فرمانبردار بندے بنیں، اور ناشکری سے بچیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوا لِیْ وَلاَ تَکْفُرُونِ﴾
(البقرۃ 2:152)
ترجمہ: “پس تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو۔”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر لوگ شکر میں کوتاہی کرتے ہیں۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی:

﴿قُلْ ہُوَ الَّذِیْ أَنشَأَکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ﴾
(الملک 67:23)
ترجمہ: “آپ کہہ دیجئے: اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، مگر تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔”

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی نعمت ذکر فرمائی کہ وہی خالق ہے، پھر انسان کو سننے کیلئے کان، دیکھنے کیلئے آنکھیں، اور دل جیسا عظیم عضو عطا کیا۔ تقاضا یہ تھا کہ انسان ان نعمتوں کے شکر میں اپنے اعضاء کو اللہ کی اطاعت میں لگاتا:

❀ کانوں سے صرف جائز و پاکیزہ باتیں سنتا، حرام و ناپاک گفتگو سے بچتا۔
❀ آنکھوں سے حلال اور جائز چیزیں دیکھتا، حرام سے نظریں جھکاتا۔
❀ دل میں اللہ کی محبت اور اس کا خوف بساتا، گناہوں سے اسے سیاہ نہ کرتا۔

لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہیں، نہ کانوں کا، نہ آنکھوں کا، نہ دل کا، اور نہ ہی باقی اعضاء کا۔

ناشکری شیطان کے عہد کی تکمیل ہے

یہ بھی یاد رہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ گویا شیطان کے اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اس نے اللہ سے کیا تھا:

﴿قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ. ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْن﴾
(الأعراف 7:16-17)
ترجمہ: “اس نے کہا: چونکہ تو نے مجھے گمراہ کردیا، اس لیے میں تیری سیدھی راہ پر ان کی گھات میں بیٹھوں گا۔ پھر میں ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔”

یعنی شیطان کی بڑی چال یہی ہے کہ بندے کو شکر سے غافل کر دے، تاکہ وہ نعمتوں میں رہتے ہوئے بھی اللہ سے دور ہو جائے۔

شکر کے ثمرات اور ناشکری کے نقصانات

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بے شمار فوائد ہیں، اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ شکر کے بدلے میں اللہ تعالیٰ مزید نعمتیں عطا فرماتا ہے:

﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِن شَکَرْتُمْ لأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِن کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ﴾
(ابراہیم 14:7)
ترجمہ: “اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔”

اس آیت میں شکر پر زیادتی کا وعدہ اور ناشکری پر سخت عذاب کی دھمکی دونوں موجود ہیں۔ لہٰذا بندے کو ہر حال میں شکر گزار رہنا چاہیے اور ناشکری سے سخت بچنا چاہیے۔

ناشکری کے برے انجام کی مثال دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً کَانَتْ آمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً… فَکَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللّٰہِ فَأَذَاقَہَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ﴾
(النحل 16:112)
ترجمہ: “اللہ ایک بستی کی مثال بیان کرتا ہے جو امن و چین میں تھی، ہر طرف سے اس کا رزق فراوانی کے ساتھ آتا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کے سبب انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا۔”

یہ آیت بتاتی ہے کہ جب قومیں شکر گزار ہوتی ہیں تو امن، رزق کی فراوانی اور برکت قائم رہتی ہے، اور جب ناشکری کرتی ہیں تو امن چھن جاتا ہے، خوف مسلط ہو جاتا ہے، اور معیشت بے برکت ہو جاتی ہے۔

ناشکری کا اجتماعی انجام اور امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت

اگر ہم آج بحیثیتِ مجموعی مسلمانوں کی حالت کا جائزہ لیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہماری ذلت، کمزوری اور پریشانیوں کی بنیادی وجہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔ آج مسلم دنیا میں خون بہہ رہا ہے، معیشتیں تباہ ہو چکی ہیں، غربت اور بھوک کئی ملکوں میں ڈیرے ڈال چکی ہے، اور دشمنانِ اسلام کا خوف اس قدر غالب ہے کہ ہم اپنے فیصلے بھی خود کرنے کے قابل نہیں رہے۔

یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت ہے کہ جب قومیں اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہیں تو ان سے امن، عزت اور برکت چھین لی جاتی ہے۔

اسی حقیقت کو قرآن مجید میں ایک اور انداز سے بیان فرمایا گیا:

﴿مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ إِن شَکَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا﴾
(النساء 4:147)
ترجمہ: “اگر تم شکر ادا کرو اور ایمان لے آؤ تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں عذاب دے؟ اور اللہ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔”

یعنی اللہ تعالیٰ عذاب دینے سے خوش نہیں ہوتا، بلکہ وہ تو بندوں کا شکر اور ایمان دیکھ کر راضی ہو جاتا ہے۔ عذاب دراصل انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔

قومِ سبا کی مثال: ناشکری کا تاریخی انجام

ناشکری کے انجام کو واضح کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم قوم کی مثال بیان فرمائی ہے:

﴿لَقَدْ کَانَ لِسَبَإٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ آیَۃٌ… کُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوا لَہُ… فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمْ سَیْْلَ الْعَرِمِ﴾
(سبا 34:15-17)
ترجمہ:
“قوم سبا کیلئے ان کے مسکن میں ایک نشانی تھی، دائیں بائیں دو باغ تھے۔ (ہم نے کہا:) اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، یہ پاکیزہ شہر ہے اور رب معاف کرنے والا ہے۔ پھر انہوں نے منہ موڑ لیا، تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا، اور ان کے دونوں باغوں کو ایسے باغوں میں بدل دیا جن کے پھل بد مزہ تھے، جن میں جھاؤ، پیلو اور تھوڑی سی بیریاں تھیں۔ یہ سزا ہم نے انہیں ان کی ناشکری کے بدلے دی، اور ہم ناشکروں کو ہی ایسا بدلہ دیتے ہیں۔”

قومِ سبا کا علاقہ آج کے یمن میں واقع تھا۔ یہ قوم تہذیب، زراعت اور تجارت میں اپنی مثال آپ تھی۔ چاروں طرف باغات، وافر پانی، خوشحال معیشت، معتدل موسم اور ہر طرح کی آسائش موجود تھی۔ قرآن نے اس علاقے کو ﴿بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ﴾ کہا۔

لیکن جب یہ قوم اپنی خوشحالی میں مست ہو گئی اور اپنے حقیقی محسن کو بھلا بیٹھی، تو اللہ تعالیٰ نے سیلاب کا عذاب بھیج دیا۔ زرخیز زمین بنجر ہو گئی، باغات اجڑ گئے، اور نعمتیں عبرت میں بدل گئیں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:

◈ شکر ترقی کا سبب ہے
◈ ناشکری زوال کی وجہ ہے
◈ اللہ کی سنت سب کیلئے ایک جیسی ہے

شکر گزاروں کی جزا اور اللہ کا وعدہ

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ جو قوم یا فرد شکر گزار ہو، اللہ اسے عذاب سے بچا لیتا ہے:

﴿کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ… نِعْمَۃً مِّنْ عِندِنَا کَذَلِکَ نَجْزِیْ مَن شَکَرَ﴾
(القمر 54:33-35)
ترجمہ:
“قوم لوط نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان پر پتھر برسائے، مگر لوط کے گھر والوں کو سحر کے وقت بچا لیا۔ یہ ہماری طرف سے احسان تھا، اور ہم شکر گزاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔”

یعنی شکر اللہ کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بھی ہے۔

تین عظیم احادیث: شکر اور ناشکری کا عملی انجام

بنی اسرائیل کے تین افراد کا واقعہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے: ایک کوڑھی، دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے امتحان کیلئے فرشتہ بھیجا۔

❀ کوڑھی کو صحت اور اونٹ عطا ہوا
❀ گنجے کو بال اور گائے عطا ہوئی
❀ اندھے کو بینائی اور بکریاں ملیں

بعد میں جب فرشتہ محتاج بن کر آیا تو:

◈ کوڑھی اور گنجے نے ناشکری کی اور نعمتوں کو وراثت قرار دیا
◈ اندھے نے اعتراف کیا اور دل کھول کر دیا

فرشتے نے کہا:

“اللہ تم سے راضی ہو گیا، اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔”
(صحیح البخاری: 3464، صحیح مسلم: 2964)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ شکر نعمت کو باقی رکھتا ہے اور ناشکری نعمت چھین لیتی ہے۔

عورتوں کی ناشکری اور جہنم کی کثرت

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ ))

“اے عورتوں کے گروہ! صدقہ کیا کرو، کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تم دوزخ والوں میں زیادہ ہو گی۔”

(صحیح البخاری: 304، صحیح مسلم: 79)

پوچھا گیا: کیوں؟
فرمایا:
(( تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ))
ترجمہ: “تم لعنت زیادہ بھیجتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔”

اور فرمایا:

(( مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ))

“میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔”

(صحیح البخاری: 29)

یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ انسانوں کی ناشکری بھی اللہ کی ناراضی کا سبب بنتی ہے، تو جو شخص اللہ کا ہی ناشکرا ہو اس کا انجام کتنا سخت ہوگا؟

اولاد کی وفات پر شکر کی عظیم جزا

حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ… فَيَقُولُ اللّٰهُ: ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ ))
(سنن الترمذی: 1021، وحسنہ الألبانی)
ترجمہ:
“جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے اور وہ صبر کرتے ہوئے اللہ کی حمد کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے کیلئے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام ‘بیت الحمد’ رکھ دو۔”

یہ حدیث بتاتی ہے کہ شکر مصیبت میں بھی اللہ کی قربت کا ذریعہ بنتا ہے۔

شکر کیا ہے؟ (لغوی و اصطلاحی تعریف)

شکر سے مراد نعمتوں اور احسانات کا دل، زبان اور عمل کے ذریعے اعتراف کرنا ہے، اور محسن کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنا ہے۔

علامہ ابن منظور رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“شکور اس شخص کو کہتے ہیں جو اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ اپنے رب کا شکر بجا لائے اور ان عبادات کو ادا کرے جن کا اسے مکلف بنایا گیا ہے۔”
(لسان العرب: 4/2305)

مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شکر دو طرح کا ہوتا ہے:
➊ زبان کے ساتھ: نعمتیں دینے والے کی تعریف کرنا
➋ اعضاء کے ساتھ: نعمتوں کے بدلے میں محسن کی اطاعت کرنا

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
“شکر یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کا اثر بندے کی زبان پر ظاہر ہو کہ وہ اللہ کی حمد کرے، دل میں محسنِ حقیقی کی محبت پیدا ہو، اور اعضاء پر ظاہر ہو کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں اور نافرمانی سے بچیں۔”
(مدارج السالکین: 2/244)

علامہ فیروز آبادی رحمہ اللہ کے مطابق شکر آدھا ایمان ہے اور اس کی پانچ بنیادیں ہیں:
➊ محسن کیلئے عاجزی
➋ محسن سے محبت
➌ نعمتوں کا اعتراف
➍ محسن کی تعریف
➎ نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال نہ کرنا
(بصائر ذوی التمییز: 3/334)

شکر کی اہمیت (قرآن و انبیاء علیہم السلام کی روشنی میں)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا:

﴿إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا﴾
(الإنسان 76:3)
ترجمہ: “ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب وہ چاہے شکر گزار بنے یا ناشکرا۔”

اور فرمایا:

﴿وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ﴾
(آل عمران 3:145)
ترجمہ: “ہم شکر گزاروں کو ضرور بہترین بدلہ دیں گے۔”

حضرت نوح علیہ السلام کی صفت بیان کی:

﴿إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا﴾
(الإسراء 17:3)
ترجمہ: “وہ بہت زیادہ شکر گزار بندے تھے۔”

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

﴿شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ﴾
(النحل 16:121)
ترجمہ: “وہ اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے۔”

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا:

﴿فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾
(الأعراف 7:144)
ترجمہ: “جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے اسے لو اور شکر گزاروں میں شامل ہو جاؤ۔”

بلکہ انسان کو پہلا تاکیدی حکم ہی شکر کا دیا گیا:

﴿أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ﴾
(لقمان 31:14)
ترجمہ: “میرا شکر ادا کرو اور اپنے ماں باپ کا بھی۔”

زبانی اور عملی شکر

زبانی شکر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف نعمتوں کے بعد اللہ کی حمد فرمایا کرتے تھے:

◈ نیند سے بیدار ہو کر:
(( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا ))

“تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی عطا فرمائی۔”

(متفق علیہ)

◈ کھانے کے بعد:
(( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا… ))

“تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا۔”

(سنن ابی داود، ترمذی، ابن ماجہ – حسن)

◈ لباس پہن کر:
(( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا… ))

“تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ لباس پہنایا۔”

(سنن ابی داود – حسن)

◈ صبح و شام کی جامع دعا:
(( اَللّٰهُمَّ مَا أَصْبَحَ/أَمْسَى بِي مِنْ نِعْمَةٍ… فَلَكَ الْحَمْدُ وَالشُّكْرُ ))
(سنن ابی داود: 5073، حسنہ ابن باز)

فرمایا:
“جو اسے صبح پڑھ لے اس نے دن کا شکر ادا کر لیا، اور جو شام پڑھ لے اس نے رات کا شکر ادا کر لیا۔”

عملی شکر

عملی شکر سے مراد اللہ کی اطاعت اور نافرمانی سے اجتناب ہے۔

﴿اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا﴾
(سبا 34:13)
ترجمہ: “اے آلِ داود! شکر کے طور پر عمل کرو۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو اتنا قیام فرماتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔ عرض کیا گیا:
“یا رسول اللہ! آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں؟”
تو فرمایا:

(( أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ))
(صحیح البخاری: 4837، صحیح مسلم: 2820)
ترجمہ: “کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”

عملی شکر کی سب سے اعلیٰ صورت توحید ہے:
صرف اللہ کی عبادت، اسی سے مانگنا، اسی پر توکل، اور شرک سے مکمل اجتناب۔

﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾
(الزمر 39:65)
ترجمہ: “پس اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں شامل ہو جاؤ۔”

اللہ بے نیاز ہے، شکر بندے کیلئے ہے

﴿وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ﴾
(لقمان 31:12)
ترجمہ: “جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کیلئے کرتا ہے۔”

﴿أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللّٰهِ﴾
(فاطر 35:15)
ترجمہ: “تم اللہ کے محتاج ہو، اللہ بے نیاز ہے۔”

لوگوں کا شکر اور احسان شناسی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لَا يَشْكُرُ اللّٰهَ مَن لَا يَشْكُرُ النَّاسَ ))
(سنن ابی داود: 4811، ترمذی: 1954 – صحیح)
ترجمہ: “جو لوگوں.effect نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔”

اور فرمایا:

(( مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَقَالَ: جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ ))
(سنن الترمذی: 2035 – صحیح)
ترجمہ: “جس کے ساتھ نیکی کی جائے اور وہ ‘جزاک اللہ خیرا’ کہہ دے تو اس نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔”

نتیجہ

ہم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر چھوٹی بڑی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں، زبان سے حمد بیان کریں، اعضاء کو اس کی اطاعت میں لگائیں، شرک اور ناشکری سے بچیں، اور اپنے محسنین کا بھی شکر گزار بنیں۔ یہی شکر دنیا میں عزت و برکت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔