قرآن و حدیث کی روشنی میں رعد اور آسمانی بجلی کی حقیقت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 209
مضمون کے اہم نکات

سوال

اب جو آسمانی بجلی کڑک رہی ہے یہ کہاں سے آتی ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟ کیا قرآن وحدیث میں اس کے بارے میں کوئی راہنمائی ملتی ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آسمانی بجلی دراصل بادلوں کو ہانکنے والے رعد فرشتہ کے کوڑے سے نکلنے والی آگ اور کڑک کا نام ہے۔ اس کی وضاحت قرآن و حدیث میں موجود ہے:

قرآن سے رہنمائی

سورۃ الرعد میں ارشاد ہے:

﴿وَيُسَبِّحُ الرَّعدُ بِحَمدِهِ وَالمَلـئِكَةُ مِن خيفَتِهِ وَيُرسِلُ الصَّوعِقَ فَيُصيبُ بِها مَن يَشاءُ وَهُم يُجـدِلونَ فِى اللَّهِ وَهُوَ شَديدُ المِحالِ ﴿١٣﴾… سورة الرعد

ترجمہ:
"گرج اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے۔ کافر اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور اللہ زبردست قوت والا ہے۔”

سورۃ الصافات میں فرمایا:

﴿فَالزّجِرتِ زَجرًا ﴿٢﴾… سورة الصافات

ترجمہ:
"قسم ہے صف باندھنے والے فرشتوں کی۔”

ان دونوں آیات میں رعد فرشتے اور اس کے ماتحت کام کرنے والے فرشتوں کا ذکر موجود ہے۔

حضرت ابن عباسؓ کی روایت

سورۃ الرعد کی آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے:

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا القَاسِمِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا هُوَ؟ قَالَ: مَلَكٌ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ مَعَهُ مَخَارِيقُ مِنْ نَارٍ يَسُوقُ بِهَا السَّحَابَ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ فَقَالُوا: فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ؟ قَالَ: زَجْرَةٌ بِالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى حَيْثُ أُمِرَ قَالُوا: صَدَقْتَ»

ترجمہ:
"ایک روز یہود رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور سوال کیا: اے ابوالقاسم! رعد کیا ہے؟ اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رعد ایک فرشتہ ہے جو بادلوں کو چلانے پر مقرر ہے۔ اس کے پاس آگ کے کوڑے ہیں جن سے وہ بادلوں کو ہانکتا ہے جہاں اللہ چاہتا ہے۔ یہ جو آواز تم سنتے ہو وہ اس فرشتے کی بادلوں کو ہانکنے کی آواز ہے۔ یہ چمک (بجلی) اسی کی وجہ سے ہے۔”

یہ جواب چونکہ تورات کی تعلیم کے مطابق تھا، اس لیے یہود نے اس کی تصدیق کی۔

یہ روایت مسند احمد، سنن نسائی اور جامع ترمذی، جلد 2، صفحہ 14 (تفسیر سورۃ الرعد) میں بھی موجود ہے۔

رعد اور برق کی حقیقت

رعد ایک فرشتہ ہے۔

برق (بجلی) اس کے کوڑے کی چمک ہے۔

گرج اس کی یا اس کے کوڑے کی آواز ہے۔

بظاہر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوڑے کی آگ بجلی کی شکل میں ظاہر ہو کر کسی جگہ گرتی ہے اور وہی گرج بھی بن سکتی ہے۔

شیخ والدی حضرت مولانا شرف الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب