مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قرآن و حدیث کی روشنی میں داڑھی رکھنے کا حکم اور شرعی حیثیت

فونٹ سائز:
ماخوذ ـ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 515

سوال

➊ کیا داڑھی رکھنا فرض ہے یا نہیں؟ اگر فرض ہے تو قرآن و حدیث سے دلیل بیان کریں۔

➋ کیا داڑھی نہ رکھنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی بھی دلیل قرآن و حدیث سے پیش کریں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں داڑھی رکھنے کا واضح نبوی حکم موجود ہے:

{اَعْفُوْا اللِّحٰی}
(بخاری، کتاب اللباس، باب إعفاء اللحی)

اللہ تعالیٰ یا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنا فرض ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

{وَمَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَّلاَ مُؤْمِنَۃٍ…}

لہٰذا داڑھی رکھنا فرض ہے۔ اس بات کی کوئی دلیل کتاب و سنت میں موجود نہیں کہ داڑھی رکھنے کے اس نبوی حکم کو "ندب” یعنی محض پسندیدہ عمل پر محمول کیا جائے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔