سوال
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النجم میں فرمایا کہ فاصلہ ’’دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم‘‘ رہ گیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فاصلوں کی مقدار کو خوب جانتے ہیں، اس کے باوجود یہاں ’’یا‘‘ (او) کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا؟
اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے انہیں ’’ایک لاکھ یا اس سے زائد‘‘ لوگوں کی طرف بھیجا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو تعداد کا درست علم ہے، پھر ’’یا‘‘ (او) کا استعمال کیوں کیا گیا؟ اس کی کیا حکمت ہے؟
جواب
الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عربی زبان میں لفظ "أو” (جس کا اردو ترجمہ "یا” کیا جاتا ہے) مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ عربی لغت میں درج ذیل معانی کے لیے آتا ہے:
➊ تردد و شک
➋ عدم تعین
➌ تنویع و تقسیم
➍ اضراب
➎ تخییر
➏ تسویہ
وغیرہ
سورۃ النجم کی آیت میں ’’أو‘‘ کا مطلب:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنٰی﴾
یعنی: ’’پس وہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ پر تھا۔‘‘
یہاں "أو” تردد یا شک کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا، بلکہ تنویع و تقسیم کے لیے استعمال ہوا ہے۔
یاد رکھیں کہ کمانوں کی لمبائی مختلف ہوتی ہے، بعض چھوٹی ہوتی ہیں، بعض بڑی۔ لہٰذا اگر چھوٹی کمانوں کو معیار بنایا جائے تو ’’دو کمانیں‘‘ مراد ہوں گی، اور اگر بڑی کمانوں کو معیار بنایا جائے تو فاصلہ ’’دو کمانوں سے کم‘‘ شمار ہوگا۔
پس یہاں اللہ تعالیٰ کا ارشاد کسی قسم کے شک یا تردد پر مبنی نہیں، بلکہ مختلف قسم کے فاصلوں کی وضاحت کے لیے ہے۔
سورۃ الصافات کی آیت میں ’’أو‘‘ کا مطلب:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَأَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ مِاْئَةِ أَلۡفٍ أَوۡ يَزِيدُونَ﴾
(الصافات: 147)
’’اور ہم نے انہیں ایک لاکھ یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا۔‘‘
یہاں بھی "أو” کا مطلب تردد نہیں ہے، بلکہ یہ لفظ اضراب کے معنی میں آیا ہے۔
"اضراب” کا مطلب ہے: "بلکہ”، یعنی:
"ہم نے انہیں ایک لاکھ لوگوں کی طرف نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ کی طرف بھیجا۔”
اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ اصل تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی، اور اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازِ بیان اختیار کیا ہے، جو کہ عربی فصاحت کے مطابق ہے۔
نتیجہ:
لہٰذا دونوں مقامات پر لفظ ’’أو‘‘ (یا) کا استعمال کسی قسم کے شک یا لاعلمی کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کے اصولوں کے مطابق ہے، اور یہ تنویع، تقسیم یا اضراب جیسے ادبی اسالیب کو ظاہر کرتا ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب