مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قرآن مجید کو حمام میں لے جانے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

حمام میں قرآن مجید لے کر جانے کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علماء کرام کا کہنا ہے کہ انسان کے لیے یہ عمل جائز نہیں کہ وہ قرآن مجید کو حمام میں لے کر جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:

❖ قرآن مجید کا ادب اور احترام لازم ہے۔
❖ قرآن مجید کو ایسی جگہ لے جانا نامناسب اور خلافِ ادب ہے جہاں اس کی توہین یا بے ادبی کا امکان ہو۔
❖ حمام جیسی جگہیں، جہاں نجاست اور گندگی کا ماحول ہوتا ہے، قرآن مجید کے وقار اور احترام کے خلاف ہیں۔

لہٰذا، قرآن مجید کو ایسی جگہ لے جانا جہاں اس کی بے حرمتی کا اندیشہ ہو، شرعاً درست نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔