مضمون کے اہم نکات
قرآن مجید سے مسیحی استدلالات اور ان کا تجزیہ
پہلی دلیل:
قرآن مجید نے کئی مقامات پر جناب مسیح کو کلمۃ اللہ قرار دیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ ازلی ہے، مخلوق نہیں۔
جواب:
مسیحیوں کا یہ استدلال کوئی نیا نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجران کے عیسائی آئے تھے تو انہوں نے بھی یہ کہا تھا کہ آپ جناب مسیح کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ نہیں مانتے؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل مانتے ہیں۔ عیسائیوں نے کہا کہ ہمیں یہی بات کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی:
﴿هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
وہی اللہ ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو من گھڑت معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانش مند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔
(3-آل عمران:7)
تفسیر طبری: 177/3
ایسا متشابہ لفظ جس کے کئی معانی (تعبیریں) ہو سکیں تو اس کا حقیقی مصداق اور اصلی مطلب لینے کے لیے اس کلام (قرآن) اور صاحب کلام (شارح یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رجوع کیا جائے گا اور یہی اصول تمام لوگوں کے ہاں تسلیم شدہ ہے۔
مسلمان، مسیحی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے اس اصول کو مدنظر رکھیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے لیکن تعصب کی پٹی کوئی اتارنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ ادھر بھی یہی صورتحال ہے، لہذا ان دونوں الفاظ کو اسلامی مصادر (قرآن و حدیث) کے مطابق سمجھنا چاہیے اور پھر غور کریں، آیا یہ اعتراض باقی رہتا ہے؟ تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
➊ عیسائیوں نے جناب مسیح کو تثلیث کا ایک رکن (أقنوم) اور ابن اللہ قرار دینے کے لیے قرآنی الفاظ سے استدلال کیا، وہ اگر ان کے سیاق و سباق کو پڑھ لیتے تو اس گمراہی میں مبتلا نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا . لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا. فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنكَفُوا وَاسْتَكْبَرُوا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا .﴾
اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک کلمہ تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور وہ اللہ کی طرف سے ایک روح تھی۔ پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ تین ہیں، باز آ جاؤ، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ تو بس ایک ہی الٰہ ہے، وہ اس سے بالا تر ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی ملک ہیں، اور ان کی کفالت و خبرگیری کے لیے بس وہی کافی ہے۔ مسیح کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھے گا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو، اور نہ مقرب ترین فرشتے اس کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا۔ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا، اللہ ان کو پورا پورا اجر دے گا۔ اپنے فضل سے ان کو مزید عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے۔
(4-النساء:171 تا 173)
◈ کلمۃ اللہ:
جناب مسیح کے حوالے سے آنے والے اس لفظ کے از روئے قرآن دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی عیسائیوں کو مفید نہیں۔
اول: اللہ تعالیٰ کا ایسا کلمہ جو مخلوق (پیدا ہوا) تھا نہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ازلی۔ اس کی دلیل یہ آیات ہیں:
﴿إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ۔ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ۔ قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ۔﴾
اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ کی خوش خبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا، دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا۔ لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور ادھیڑ عمر کو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔ یہ سن کر مریم بولی: پروردگار! میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا؟ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ جواب ملا، ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔
(3-آل عمران:45 تا 47)
یہاں لفظ يخلق ما يشاء آیا ہے جو اس کلمۃ اللہ کے مخلوق ہونے کی واضح دلیل ہے جبکہ عیسائیوں کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت کلام مجسم ہو کر جناب مسیح علیہ السلام کی صورت میں دنیا کے اندر آئی۔ لہذا پیدا شدہ چیز کیسے اللہ تعالیٰ کی صفت ازلی ہو سکتی ہے؟
کلمۃ اللہ بالکل اس طرح ہے جیسے صالح علیہ السلام کو اونٹنی کا معجزہ دیا گیا تھا تو اسے ”ناقۃ اللہ“ کہا گیا۔ اسی طرح مسجد حرام میں واقع خانہ کعبہ کو ”بیت اللہ“ کہا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے جز اور حصے ہیں، بلکہ یہ سب مخلوق ہیں۔ البتہ ان کی عزت و شرف اور فضیلت کے باعث ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دی گئی۔ اسے ”اضافت تشریفی“ کہا جاتا ہے۔ مزید تائید بائبل سے دیکھ لیں، مثلاً:
جس پہاڑ پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لائے تھے، اسے بائبل میں ”خداوند کا پہاڑ“ کہا گیا ہے۔
پیدائش 22:14
عہد کے صندوق کو” خدا کا صندوق“ کہا گیا ہے۔
سموئیل 3:6
ہیکل کو رب الافواج کا گھر کہا گیا ہے۔زکریا 9:8 نیز اسے خدا کا مقدس کہا گیا ہے۔ 2 کرنتھیوں 16:6
کیا مسیحی لوگ پہاڑ، صندوق، ہیکل وغیرہ کو ازلی مانتے ہیں؟
دوم: کلمۃ اللہ سے مراد لفظ كن ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تخلیق کا سبب ہے چنانچہ مشہور مفسر شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
لم يبين هنا هذه الكلمة التى أطلقت على عيسى لأنها هي السبب فى وجوده من إطلاق السبب وإرادة مسببه، ولكنه بين فى موضع آخر أنها لفظة كن، وذلك فى قوله: ﴿إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ﴾
اس جگہ اس کلمہ کی وضاحت نہیں کی گئی جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام (کی تخلیق) کے لیے بولا گیا۔ لیکن دوسری جگہ کلمہ کن کی صراحت موجود ہے جو اس آیت میں ہے: ﴿إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ﴾ (آل عمران: 59) اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا، پس وہ ہو گیا۔
تفسیر أضواء البیان: 200/1
یہاں کلمہ کن جو عیسیٰ کی تخلیق کا سبب تھا، بول کر سبب (اللہ تعالیٰ کا ارادہ) مراد لیا ہے۔
اور ایسی ہی بات امام غزالی رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے۔
الرد الجمیل لاھیۃ عیسیٰ بصریح الإنجیل از ابو حامد الغزالی: ص 166؛ الداعی إلى الاسلام از ابن الانباری ص 376
اس کی تائید قرآن مجید کی یہ آیت کرتی ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ﴾
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی نوید دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے۔“
(آل عمران: 45)
یعنی اللہ کی طرف سے کلمہ نہ کہ اس کی ازلی صفت۔
اس کی مثال بائبل سے یوں ہے:
آسمان خداوند کے کلام سے اور اس کا سارا لشکر اس کے منہ کے دم سے بنا۔
زبور: 6:33
تو کیا آسمان خدا کا جز ہوا؟ خاص جناب مسیح علیہ السلام کے حوالے سے کہا ہے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ان کی پیدائش کی نوید لے کر سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے پاس آئے تھے تو ساری گفتگو کے بعد فرمانے لگے: کیونکہ جو قول خدا کی طرف سے ہے وہ ہرگز بے تاثیر نہ ہوگا۔
لوقا 37:1
ایک اور انداز سے وضاحت:
محض کلمۃ اللہ کہنے سے اگر کوئی الٰہ یا ذات الٰہ کا جز بن سکتا ہے تو قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات بے شمار ہیں تو کیا وہ بھی یہی حکم رکھتے ہیں؟ مثلاً قرآن کریم میں ہے:
﴿قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ﴾
”پیغمبر! کہو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں، حتیٰ کہ اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے۔“
(18-الكهف:109)
دوسرے مقام پر ہے:
﴿وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
”زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (روشنائی بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے۔“
(31-لقمان:27)
دوسری دلیل:
قرآن مجید میں جناب مسیح علیہ السلام کو روح اللہ کہا گیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی حیات مراد ہے جو ازلی ہے، لہذا مسیح علیہ السلام ازلی و ابدی ہوئے۔
جواب: مسیحی فلسفی یہ کہتے ہیں کہ اس لفظ سے اللہ تعالیٰ والی حیات ازلی مراد ہے جبکہ درحقیقت ایسا نہیں کیونکہ اس کے لیے آنے والے قرآنی الفاظ وروح منه میں لفظ من تبعيض (جز) کے لیے نہیں بلکہ کسی چیز کے صادر ہونے کے لیے ہے، لہذا ترجمہ یوں ہوگا: اور اس (اللہ) کی طرف سے صادر ہونے والی روح۔ جیسا کہ تفسیر البحر المحیط میں ہے:
ومعنى روح منه أي: صادرة، لأنه ذو روح وجد من غير جزء من ذي روح، كالنطفة المنفصلة من الأب الحي، وإنما اخترع اختراعا من عند الله وقدرته. وقال أبى بن كعب: عيسى روح من أرواح الله تعالى الذى خلقها واستنطقها بقوله: ألست بربكم قالوا بلى بعثه الله إلى مريم فدخل. وقال الطبري وأبو روق: وروح منه أى نفخة منه، إذ هي من جبريل بأمره.
اور روح منه کا مطلب ہے: صادر ہونے والی روح کیونکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ایسی روح ہیں جو کسی ذی روح کے حصے کے طور پر وجود میں نہیں آئی، جیسے زندہ والد سے جدا ہونے والا نطفہ ہوتا ہے۔ اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے اور اس کی قدرت سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ اللہ کی طرف سے ان روحوں سے ہے جنہیں اس نے پیدا کر کے ان سے ألست بربكم کے جواب کا مطالبہ کیا تو انہوں نے بلى کہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس روح کو سیدہ مریم کی طرف بھیجا اور وہ ان میں داخل ہوئی۔ اور امام طبری اور ابو روق کہتے ہیں: روح منه کا مطلب ہے اللہ کی طرف سے پھونک کیونکہ جبریل علیہ السلام اللہ کے حکم سے پھونک مارنے آئے تھے۔
تفسیر البحر المحیط از ابو حیان اندلسی: 143/4، دار الفکر بیروت 1420ھ
اور اس کی مثل قرآن مجید کی یہ آیت بھی ہے:
﴿وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ﴾
اس نے آسمانوں اور زمین کی ساری ہی چیزوں کو تمارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اس کی طرف سے ہے۔ بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والی قوم کے لیے۔
(45-الجاثية:13)
﴿الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾
”شیطان تمہیں فقر اور بے حیائی کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ تمہیں اپنے پاس سے مغفرت اور فضل کا وعدہ دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وسعت اور علم والا ہے۔“
(2-البقرة:268)
بائبل میں بھی اس طرح کے کئی جملے ہیں:
(الف) پولوس رقمطراز ہے:هذا كله من الله
اور سب چیزیں خدا کی طرف سے ہیں۔
2 کرنتھیوں 18:5
(ب) من يؤمن بأن يسوع هو المسيح فهو مولود من الله
جس کا یہ ایمان ہے کہ یسوع ہی مسیح ہے، وہ خدا سے پیدا ہوا ہے۔
یوحنا کا پہلا تھا 1:5
(ج) كل مولود من الله لا يعمل الخطيئة لأن زرع الله ثابت فيه
جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے، وہ گناہ نہیں کرتا کیونکہ اس کا تخم اس میں بنا رہتا ہے۔
یوحنا کا پہلا خط 3 : 9
(د) أيها الحبيب لا تتبع الشر، بل الخير من يعمل الخير فهو من الله
اے پیارے! بدی کی نہیں بلکہ نیکی کی پیروی کر۔ نیکی کرنے والا خدا سے ہے۔
یوحنا کا پہلا خط 11:1
کیا مسیحی حضرات تمام مخلوقات، جناب عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح ماننے والوں، اور نیک اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کا جز اور حصہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ حالانکہ ان کے لیے بھی لفظ من استعمال ہوا ہے بلکہ دوسرے اور تیسرے حوالے میں تو اللہ تعالیٰ سے پیدا ہونے کی بات ہے۔ ظاہر ہے کہ ان تمام جملوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے والا مطلب مراد لینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔
تو جیسے قرآن اور بائبل کے ان جملوں میں لفظ من صدور (ابتدا) کے لیے ہے، اسی طرح لفظ روح منه میں بھی اس سے صادر ہونے والی مخلوق کے لیے ہی ہے۔
◈ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دیگر کے لیے ”روح“ کا لفظ:
قرآن مجید کے مطابق لفظ روح فقط سیدنا مسیح علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ سیدنا جبریل علیہ السلام کے لیے بھی یہ لفظ بولا گیا ہے۔ (حافظ ابن حزم لکھتے ہیں: كل روح فَهُوَ روح الله تعالى، على الملك، لكن إذا قلنا : روح الله، على الإطلاق: يعني بذلك جبريل، أو عِيسَى عَلَيْهِما السّلام، كَانَ ذلِك فضيلة عَظِيمَة لهما الفصل في الملل: 9/3 ہر روح اللہ تعالی کی طرف سے ہی ہوتی ہے یعنی وہ اس کا مالک ہے (جو وہ فرشتہ کے ذریعے بھیجتا ہے)۔ تاہم جب ہم مطلق طور پر روح اللہ کہیں تو اس سے مراد سیدنا جبریل ہیں یا سیدنا عیسی علیہم السلام، کیونکہ دونوں کی اس حوالے سے عظیم فضیلت ہے۔)
فرمایا:
﴿فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾
”اور وہ پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی۔ اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا۔“
(19-مريم:17)
اس کو دوسری جگہ روح القدس اور تیسرے مقام پر روح الامین کا نام دیا گیا ہے:
﴿قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ﴾
ان سے کہو کہ اسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رب کی طرف سے بتدریج نازل کیا ہے تا کہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے اور فرمان برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور انہیں فلاح و سعادت کی خوش خبری دے۔
(16-النحل:102)
﴿نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ﴾
اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے۔
(26-الشعراء:193)
سیدنا جبریل علیہ السلام کو روح کہنے کی وجہ ان کا مادّی جسم نہ ہونا ہے، چنانچہ جب سیدہ مریم علیہا السلام کے پاس آئے تو انسان کی صورت اختیار کی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾
اور وہ پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی۔ اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی طرف سے روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا۔
(19-مريم:17)
انہوں نے سیدہ مریم علیہا السلام کے گریبان میں پھونک ماری تو اللہ کے حکم سے حمل ہو گیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی پھونک سے ہوئی تھی۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
﴿وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾
اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی، ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونکی اور اسے اور اس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لیے نشانی بنا دیا۔
(21-الأنبياء:91)
یہ شرف سیدنا آدم علیہ السلام کو بھی حاصل ہے، چنانچہ جب انہیں مٹی سے بنایا گیا تو پھر ان میں اللہ نے اپنی طرف سے روح پھونکی۔ قرآن میں ہے:
﴿فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ﴾
جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔
(15-الحجر:29)
الغرض مسلمانوں کے ہاں یہ نسبت عزت و اکرام کی ہے(دیکھئے تفاسیر: امیر التفسیر: 319/5، تفسیر خازن: 222/5، تفسیر التحریر والتنویر: 17/138) جسے نسبت تشریفی کہتے ہیں۔ نہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا حصہ قرار دینے کے لیے جیسا کہ مسیحی کہتے ہیں۔ اگر مسیحی استدلال تسلیم کر لیا جائے تو آدم علیہ السلام سیدنا مسیح علیہ السلام سے زیادہ خدا بننے کے مستحق ہیں اور قرآن مجید میں ان دونوں کو ہم مثل بھی کہا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
﴿إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ﴾
اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہو جا اور وہ ہو گیا۔
(3-آل عمران:59)
کیا کوئی مسیحی سیدنا آدم علیہ السلام کو بھی خدا تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟
◈ لفظ روح اور بائبل:
یہ تو ہوئی قرآنی تعلیم، اب ہم بائبل دیکھتے ہیں تو وہاں بھی کئی لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے روح بھیجنے کا تذکرہ کیا، تو کیا وہ بھی خدا جیسے ہیں؟ مثلاً:
(الف) پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا: دیکھ میں نے ”بضلی ایل بن اور می بن حور“ کو یہوداہ کے قبیلے میں سے نام لے کر بلایا ہے اور میں نے اس کو حکمت، فھم وعلم اور ہر طرح کی صفت میں روح اللہ(مسیحی لوگ لفظ اللہ سے بدکتے ہیں لیکن ان دونوں مقامات ( دوسرا مقام اگلے حوالے میں) پر اردو بائبل میں یہی لفظ آیا ہے۔ لہذا ان کا کہنا کہ اللہ ایک بت کا نام تھا (نعوذ باللہ) تاقیامت التفات ٹھہرا۔) سے معمور کیا ہے۔
خروج 3۔1:31
بائبل میں اس کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں:
وملأته من روحي.
(ب) موسیٰ نے جب بنی اسرائیل کو جا کر یہ وحی سنائی تو اس میں بھی یہی الفاظ آئے ہیں۔
خروج 35:30-330
(ج) موسیٰ نے اسے کہا: کیا تجھے میری خاطر رشک آتا ہے، کاش خداوند کے سب لوگ نبی ہوتے اور خداوند اپنی روح ان سب میں ڈالتا۔
گنتی 11:29
یعنی ان کے نزدیک تمام انبیاء میں ہی اللہ تعالیٰ کی روح ڈالی جاتی ہے تو پھر مسیح علیہ السلام کی خصوصیت کیا رہی؟
(د) تو ان کا دم روک لیتا ہے اور یہ مر جاتے ہیں اور پھر مٹی میں مل جاتے ہیں تو اپنی روح بھیجتا ہے اور یہ پیدا ہوتے ہیں۔
زبور 104:29-30
(ہ) اگر وہ اپنی روح اور اپنے دم کو واپس لے لے تو تمام بشر اکٹھے فنا ہو جائیں گے اور انسان پھر مٹی میں مل جائے گا۔
ایوب 34:14-15
ان دونوں حوالوں سے معلوم ہوا کہ ہر انسان میں” اللہ کی روح“ ہوتی ہے تو کیا سب خدا ہیں؟
(و) جناب مسیح علیہ السلام نے فرمایا: جو جسم سے پیدا ہوا ہے، جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے، روح ہے۔
یوحنا 3: 6
آگے جا کر لکھا ہے: خدا روح ہے۔
یوحنا 4: 24
اب ہم بائبل سے ہی دیکھتے ہیں کہ خدا سے کون پیدا ہوتے ہیں، سو لکھا ہے:
جس کا یہ ایمان ہے کہ یسوع ہی مسیح ہے، وہ خدا سے پیدا ہوا ہے۔
یوحنا کا پہلا خط 1:5
انجیل یوحنا میں لکھا ہے کہ جو جناب مسیح پر ایمان لاتے ہیں، وہ نہ خون سے نہ جسم کی خواہش سے، نہ انسان کے ارادے سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے ہیں۔
يوحنا 13:1
مزید لکھا ہے: عزیزو! آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی محبت رکھتا ہے، وہ خدا سے پیدا ہوا ہے۔
یوحنا کا پہلا خط 4 : 7
اس طرح عیسائی اور مسلمان تمام کے تمام روح ہوئے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سب مسیح تسلیم کرتے ہیں، نیز محبت کرنے والے لوگ خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھیں، وہ بھی روح ہیں تو کیا ان سب کو مسیحی حضرات خدا ماننے کے لیے تیار ہیں یا اس کا جز اور حصہ تسلیم کریں گے؟
(ز) پولوس نے اپنے مریدین کو کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تم خدا کا مقدس ہو اور خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے۔
1 کرنتھیوں 16:3
(خ) اپنے متعلق پولوس نے کہا: اور میں سمجھتا ہوں کہ خدا کا روح مجھ میں بھی ہے۔
1 کرنتھیوں 4:7
(ط) لکھا ہے: اے عزیزو ہر ایک روح کا یقین نہ کرو بلکہ روحوں کو آزماؤ کہ وہ خدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دنیا میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ خدا کے روح کو تم اس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو کوئی روح اقرار کرے کہ یسوع مجسم ہو کر آیا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔
یوحنا کا پہلا خط 4 : 1۔3
عربی بائبل میں یہاں روح اللہ اور روح من اللہ کے الفاظ ہیں۔ظاہر ہے کہ تمام مسیحی ان حوالہ جات کی کوئی نہ کوئی تاویل کر کے ان کا ایسا معنی کریں گے جس سے شرک کی زد سے بچا جا سکے تو جناب مسیح علیہ السلام کے متعلق آنے والے لفظ کی ایسی تفسیر کیوں نہیں ہو سکتی؟
جناب مسیح علیہ السلام کو ”روح منہ“ کیوں کہا گیا؟
قرآن مجید میں لفظ روح کئی معانی میں استعمال ہوا ہے، پہلے وہ ملاحظہ کر لیں، پھر آگے چلیں گے:
① فرشتہ یعنی حضرت جبریل علیہ السلام
﴿نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ﴾
اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے۔
(26-الشعراء:193)
﴿فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾
اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ بیٹھی تھی۔ اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی طرف سے روح (فرشتے) کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک کامل انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا۔
(19-مريم:17)
﴿قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ﴾
ان سے کہو کہ اسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رب کی طرف سے بتدریج نازل کیا ہے تا کہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے اور فرمان برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور انہیں فلاح و سعادت کی خوش خبری دے۔
(16-النحل:102)
﴿تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ﴾
فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔
(97-القدر:4)
② انسانی جان:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾
یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو یہ روح امر ربی سے ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔
(17-الإسراء:85)
③ نصرت و حمایت:
﴿وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ﴾
”اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی اپنی طرف سے روح (حمایت و نصرت) کے ساتھ تائید کی۔“
(58-المجادلة:22)
④ وحی الٰہی:
﴿وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴾
اور اسی طرح (اے محمد!) ہم نے اپنے حکم سے ایک روح (وحی) تمہاری طرف بھیجی ہے۔ تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے؟ مگر اس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو۔
(42-الشورى:52)
﴿يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ﴾
وہ اس روح (وحی) کو اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے(اس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو) آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے، لہذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔
(16-النحل:2)
دیکھئے کہ مسیحیوں کا بیان کردہ معنی و مفہوم قرآن مجید کی کسی آیت میں مستعمل نہیں، لہذا یہ محض ان کا حکم اور سینہ زوری ہے۔ بہر حال ان چاروں معانی و مفاهیم کے لحاظ سے مسیح علیہ السلام کو روح منہ کہا جا سکتا ہے:
(سیدنا مسیح علیہ السلام کو بطور خاص کیوں روح منہ کہا گیا جبکہ ساری ارواح ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں تو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وسماه روحه، لأنه خلقه من نفخ روح القدس فى أمه، لم يخلقه كما خلق غيره من أب آدمي (الجواب الصحیح لابن تیمیہ: 302/3) انہیں اپنی طرف سے روح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ روح القدس کے ان کی والدہ میں پھونک مارنے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ نے انہیں اس طرح پیدا نہیں کیا جس طرح دوسرے کو وہ انسانی باپ سے پیدا کرتا ہے۔)
(الف) جبریل علیہ السلام خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نوید سنانے کے لیے مقرر ہوئے۔
(ب) عام طریقہ حمل سے ہٹ کر ان کی روح (انسانی جان) سیدہ مریم علیہا السلام میں پھونکی گئی۔
(ج) اللہ تعالیٰ نے جناب مسیح علیہ السلام کی خصوصی طور پر مدد و حمایت کی اور انہیں یہود کے چنگل سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور اس مدد و تعاون کے لیے جس خاص فرشتے کو مقرر کیا تھا، اس کا نام بھی روح القدس ہے جیسا کہ قرآن کے تین مقامات پر یہ بات آئی ہے، ملاحظہ ہو: سورۃ البقرة، آیت نمبر 87، 253 اور سورۃ المائدة، آیت نمبر 110۔
(د) چونکہ عام طریقہ حمل و ولادت سے ہٹ کر ان کی پیدائش کلمہ کن سے ہوئی اس لیے انہیں کلمہ کن (جو وحی ہے) کا نتیجہ ہونے کے سبب یہ لقب دیا گیا۔
◈ روح منہ کی وجہ اور بائبل:
اب ہم آتے ہیں بائبل کی طرف تو آپ نے پیچھے حوالہ جات ملاحظہ فرما لیے کہ لفظ روح مختلف معانی میں آیا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے:
● اللہ کا فضل و رحمت، چونکہ جناب مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و رحمت سے پیدا ہوئے، تو یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
● انسانی جان: جناب مسیح علیہ السلام میں انسانی جان تھی۔
● وحی الٰہی: اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن جو کہ وحی ہے کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔
● نبی: جناب مسیح علیہ السلام نبی تھے۔
● قدرت
آخری الذکر معنی کے لیے حسب ذیل عبارت دیکھیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے فرمایا تھا:
اگر میں خدا کے روح کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آ پہنچی۔
متی 12:28
اسی بات کو انجیل لوقا میں یوں درج کیا گیا ہے: اگر میں بدروحوں کو خدا کی قدرت سے نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آ پہنچی۔
لوقا 11:20
یعنی روح کا ترجمہ قدرت ہے۔
لہذا جناب مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پیدا ہوئے، اس لیے بھی ان پر یہ لقب صادق آتا ہے۔
تیسری دلیل:
جناب مسیح علیہ السلام کو قرآن مجید خالق کہتا ہے اور یہ لفظ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بولا جاتا ہے:
﴿وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي﴾
(اللہ تعالیٰ مخاطب ہے :جناب مسیح علیہ السلام سے) اور جب تم میرے حکم سے گارے سے ایک شکل تخلیق کرتے تھے جیسے کے پرندے کی شکل ہوتی ہے پھر تم اس کے اندر پھونک مار دیتے تھے جس سے وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا۔
(5-المائدة:110)
دوسرے مقام پر جناب مسیح علیہ السلام کا جواب یوں نقل ہوا ہے:
﴿أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ﴾
میں تمہارے لیے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ تخلیق کرتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔
(3-آل عمران:49)
جواب: گمراہ لوگ ہمیشہ سے سیدھی بات کو ٹیڑھا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ ملاحظہ کریں:
اول: اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کی صراحت میں تین اوصاف کا تذکرہ کیا ہے:
”ہر چیز پیدا کرنے والا۔“ (الزمر: 62)
” بغیر ماڈل اور نمونے کے نئے سرے سے پیدا کرنے والا۔“ (الانعام: 101)
” کسی بھی چیز کو صحیح اندازے اور تخلیق کے تقاضوں کے مطابق عدم سے وجود میں لانے والا یعنی الباری۔“
اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔
تفسیر اضواء البيان 8 / 123 تحت تفسير سورة الحشر : آیت 24
اللہ تعالیٰ نے اپنے علاوہ اگر کسی کے خالق ہونے کا تذکرہ کیا تو یہ وصف مقید اور خاص چیز میں تھا، جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے استدلال میں تذکرہ ہوا یعنی ان کو فقط مٹی سے پرندے کی شکل بنانے کے سبب خالق کہا گیا اور یہ شکل بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنائی۔ کیا ایسی شخصیت اللہ ہو سکتی ہے؟
دوم: مٹی سے پرندے کی شکل بنانا کونسا مشکل کام ہے۔ یہ تو عام لوگ بھی بناتے ہیں، اس میں کونسی کاریگری ہے؟ آیا ان کو بھی اللہ کہنا چاہیے؟ دراصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی انسانوں کو تصویر سازی اور مجسمہ بنانے کی اجازت نہیں دی، صرف عیسیٰ علیہ السلام کو خاص اجازت مرحمت فرمائی، اسی لیے ان کی خصوصیات میں یوں ذکر آیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت اور اذن کا تذکرہ ہے۔
بہر حال ان کا اصل معجزہ اس شکل میں پھونک مارنا ہے جو اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا۔
سوم: مسیحی حضرات کا استدلال چونکہ قرآن مجید سے ہے اور جب مکمل الفاظ سامنے رکھتے ہیں تو ان کی بنیاد ریت کی بنی نظر آتی ہے۔ وہ اس طرح کہ یہاں تو اس کی بھی وضاحت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے پرندے کی شکل اللہ تعالیٰ کے حکم و اجازت سے بنائی، تو کیا جو کسی سے اجازت کا محتاج ہو، وہ اللہ ہو سکتا ہے؟
چهارم: اگر جناب مسیح علیہ السلام خود ہی اللہ ہیں اور وہ خود ہی کام کرنے کے لیے خود سے ہی اجازت لیں، تو یہ بالکل ناممکن اور فضول بات ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح 27/4 تا 33
پنجم: جناب مسیح علیہ السلام نے تو صرف پرندے کی شکل بنائی جسے ان کی خدائی پر دلیل بنایا گیا جبکہ بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے معجزے سے بے شمار جوئیں بنیں اور وہ بھی جیتی جاگتی۔ لکھا ہے:
تب خداوند نے موسیٰ سے کہا۔ ہارون علیہ السلام سے کہہ اپنی لاٹھی بڑھا کر زمین کی گرد کو مارتا کہ وہ تمام ملک مصر میں جوئیں بن جائے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ہارون نے اپنی لاٹھی بڑھا کر زمین کی گرد کو مارا اور انسان اور حیوان پر جوئیں ہو گئیں۔ اور تمام ملک مصر میں زمین کی ساری گرد جوئیں بن گئیں اور جادوگروں نے کوشش کی کہ اب جادو سے جوئیں پیدا کریں، لیکن ایسا نہ کر سکے اور انسان اور حیوان دونوں پر جوئیں(کیتھولک فرقے کے مطابق مچھر بنیں تھیں جبکہ پروٹسٹنٹ کی بائبل میں جوؤں کا لفظ ہے۔ دوسرا اختلاف یہاں یہ ہے کہ کیتھولک بائبل کے مطابق جادوگروں نے ان مچھروں کو اپنے جادو کے زور پر بھگانے کی کوشش کی جبکہ پروٹسٹنٹ بائبل میں ہے کہ جادو سے انہوں نے بھی مزید جوئیں پیدا کرنے کی کوشش کی۔) چڑھتی رہیں۔
خروج 8:16-18
ظاہر ہے کہ یہ کام اللہ کے حکم سے ہوا تھا، اور حضرت ہارون علیہ السلام کا معجزہ ہے جو کہ ان کی نبوت پر دلالت کرتا ہے، نہ کہ خدائی پر۔
ششم: اگر لفظ تخلیق (پیدا کرنا) کے سبب جناب عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی کو ثابت مان لیا جائے تو بائبل میں اس طرح تو کئی خدا سامنے آجائیں گے، جیسے:
آشر نفیس اناج پیدا کیا کرے گا۔
پیدائش 30:49
زمین اپنے نباتات کو پیدا کرتی ہے۔
یسعیاہ 61:11
ان تمام گناہوں کو جن سے تم گنہگار ہوئے، دور کرو اور اپنے لیے نیا دل اور نئی روح پیدا کرو۔
حزقی ایل 18:31
اے استاد! ہمارے لیے موسیٰ نے لکھا ہے کہ اگر کسی کا بھائی بے اولاد مر جائے اور اس کی بیوی رہ جائے تو اس کا بھائی اس کی بیوی کو لے لے تا کہ اپنے بھائی کے لیے نسل پیدا کرے۔
مرقس 12:19
انجیل لوقا میں بھی اسی طرح پیدا کرنے کے الفاظ 20:28ہیں۔ گو ان عبارات کا مفہوم اپنی جگہ واضح ہے لیکن ہم نے ان کو محض لفظ کے استعمال کی تردید کے لیے بیان کیا ہے۔ یعنی ایک لفظ دو مختلف شخصیات پر بولنے سے ان دونوں کا ہر ایک معاملے میں یکجا ہونا لازم نہیں آتا۔
ہفتم: قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ خالق دو مفہوم کے لیے آتا ہے:
● ظاہری شکل و صورت بنانا، اس اعتبار سے اللہ کے علاوہ کے لیے بھی بولا گیا ہے جیسا کہ فرمان باری ہے:
﴿فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ﴾
سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔
(23-المؤمنون:14)
اس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث نبوی سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے روز ڈانٹتے ہوئے فرمائے گا:
أحيوا ما خلقتم.
”تم نے جو خلق کیا، اسے زندہ کرو۔“
صحیح بخاری: البیوع، باب التجارة فیما نمرہ – ح 2105
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی یہی معنی مفہوم ہے اور آیت کے الفاظ اس کے لیے صریح ہیں کہ وہ پرندے کی شکل کی مانند بناتے تھے۔
● عدم سے وجود میں لانے والا اور زندگی بخشنے والا، اس معنی کے لحاظ سے یہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہی مستعمل ہے۔ اس لیے ہر چیز کے خالق ہونے کی نسبت اپنی طرف کی ہے اور کسی دوسرے کے لیے واضح الفاظ میں اس کی نفی کر دی:
﴿ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ﴾
یہ اللہ تمہارا رب ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، ہر چیز کا خالق ہے، لہذا اسی کی عبادت کرو۔
(6-الأنعام:102)
دوسرے مقام پر اللہ عزوجل نے ”استفہام انکاری“ میں پوچھا:
﴿هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ﴾
کیا اللہ کے علاوہ کوئی خالق ہے۔
(35-فاطر:3)
چوتھی دلیل: غیب کی خبریں دینا
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام غیب کی خبر دیا کرتے تھے اور یہ صرف اللہ کا خاصہ ہے۔ قرآنی آیت یوں ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:
﴿وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ﴾
”اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو کچھ اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو، میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔“
(3-آل عمران:49)
جواب:
(اول) اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بتاتا تھا، پھر وہ آگے لوگوں پر ظاہر کرتے، بائبل میں ان کا قول یہ ذکر کیا گیا:
میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا، جیسے میں سنتا ہوں، ویسے ہی عدالت کرتا ہوں۔
یوحنا 30:5
اس انجیل کے اس باب کے فقرہ نمبر 19 میں ہے:
پس یسوع نے جواب میں ان سے کہا: میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ بیٹا اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ سوائے اس کے جو باپ کو کرتا دیکھتا ہے۔
قرآن مجید بھی اس کی نشاندہی کرتا ہے:
﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ﴾
”اور نہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاہ کر دے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے (اسے غیب سے مطلع کرتا ہے)۔“
(3-آل عمران:179)
دوسرے مقام پر یوں آیا:
﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا . إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا .﴾
اللہ تعالیٰ غیب جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اس پیغمبر پر کے جسے وہ پسند کرے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے۔
(72-الجن:26،27)
(دوم) الزامی طور پر بائبل کے حوالہ جات بھی دیکھ لیں جن سے کئی دوسرے لوگوں کا بھی غیب سے مطلع ہونا اور بتانا ملتا ہے تو کیا انہیں بھی خدا بننے کا حق ملے گا؟
➊ حضرت ایوب علیہ السلام اپنے دوستوں کے دلوں کے خیالات جانتے تھے۔
ایوب 12:27
➋ حننیا نامی شخص نے مسیحیت قبول کی، جائیداد بیچ کر رقم حواریوں کی خدمت میں پیش کر دی لیکن کچھ اپنے پاس بھی رکھ لی تو جناب پطرس نے اسے کہا: شیطان نے تیرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ تو روح القدس سے جھوٹ بولے اور زمین کی کچھ رقم رکھ چھوڑے۔ شرمندگی سے یہ مرگیا۔ اس کی بیوی آئی اسے بھی ڈانٹا گیا، تو وہ بھی مرگئی۔
رسولوں کے اعمال 5:1-11
خلاصہ:
جناب مسیح علیہ السلام نے سامری عورت کو اس کے حالات سے آگاہ کیا اور اس کا جھوٹ پکڑا جو کہ غیب کی خبر تھی تو کہنے لگی: اے خداوند! مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تو نبی ہے۔
یوحنا 4:19
یعنی غیب کی خبر دینے کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لوگ خدا نہیں بلکہ نبی کہتے تھے اور آپ نے خاموشی اختیار کی۔ اگر یہی خدائی کی دلیل تھی تو اس عورت کی اصلاح کیوں نہیں کی؟