مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قرآن سے لڑکی کی شادی کا شرعی حکم اور دینی انجام

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، جلد 2، صفحہ 189

سوال

کیا قرآن پاک سے لڑکی کی شادی جائز ہے؟ ایسے افراد جو اپنی بیٹیوں کی شادی قرآن سے کرتے ہیں تاکہ دولت محفوظ رہے، ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ اس عمل کی وجہ سے اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • قرآن کے ساتھ لڑکی کی شادی کرنا ایک انتہائی باطل، مردود اور اسلام مخالف عمل ہے۔
  • ❀ یہ نہ صرف اسلامی شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ قرآن مجید اور دین اسلام کا تمسخر اور مذاق ہے۔
  • ❀ اگر کسی شخص پر حجت قائم کر دی جائے (یعنی اس پر واضح طور پر دلیل پیش کی جائے کہ یہ عمل باطل ہے) اور پھر بھی وہ اس عمل کے جواز کا قائل رہے، تو اس کا اسلام مشکوک ہو جاتا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔