سوال :
ایک شخص کا جھگڑا ہوا ، قاضی نے اسے مسجد میں قرآن پر حلف دینے کے لیے کہا، تو اس نے کہا کہ میں قرآن اور مسجد کو کچھ نہیں سمجھتا ، تو کیا وہ مرتد ہو جائے گا ؟
جواب:
یہ کلمہ کفر ہے، کیونکہ اس نے قرآن اور مسجد کا استخفاف کیا ہے۔ اگر وہ اس سے تائب نہیں ہوتا اور استفسار کے بعد بھی اپنی بات پر قائم رہتا ہے، تو وہ کافر و مرتد ہے، اس کی سزا قتل ہے، جو اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے، اس سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا، اس سے نکاح فسخ ہو جائے گا۔
❀علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
إن جحد التوراة والإنجيل وكتب الله المنزلة أو كفر بها، أو لعنها، أو سبها ، أو استخف بها فهو كافر
”جو شخص تورات، انجیل اور دیگر آسمانی کتب (کے نازل ہونے) کو جھٹلائے یا ان کے ساتھ کفر کرے یا ان پر لعنت کرے یا انہیں برا بھلا کہے یا ان کا استخفاف کرے تو وہ کافر ہے۔“
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى : 647/2)
❀ علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (974ھ) فرماتے ہیں:
من استخف بالمصحف أو التوراة أو الإنجيل أو الزبور كفر
”جس نے مصحف قرآنی یا تورات یا انجیل یا زبور کا استخفاف کیا ، وہ کافر ہے۔“
(الإعلام بقواطع الإسلام، ص 203)