مضمون کے اہم نکات
اسلام کا قانون طلاق
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے قانون طلاق کو موجودہ دور کے جملہ قوانین طلاق پر برتری حاصل ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ اول الذکر وحی پر مبنی قانون ہے، یعنی اس کا ماخذ خدائے علیم وخبیر کی ذات ہے جس میں کوئی تبدیلی اور تغیر ممکن نہیں، اور اسی کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق اس جہانِ آب و گل کی ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے طبعی وظائف انجام دے رہی ہے اور اس میں حد درجہ توافق و سازگاری ہے، کہیں معمولی قسم کا بھی کوئی اختلاف و نزاع نہیں ہے، سب موجودات کی جبینِ نیاز اس حاکمِ مطلق کے آگے جھکی ہوئی ہے۔ اس کے برخلاف دوسرا قانون وہ ہے جس کا ماخذ انسان کا ذہن ہے جو اپنے تمام حیرت انگیز کمالات کے باوجود بہر حال نقص و تغیر کے عیب سے خالی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ارتقائی عمل رکھتا ہے، یعنی نقص سے گزر کر کمال تک پہنچتا ہے اور یہ کمال بھی اضافی ہے، مستقل اور قائم بالذات نہیں ہے۔ ایک خاص وقت اور زمانے میں جو چیز اکمل و کامل سمجھی جاتی ہے، وہ آگے چل کر حالات کے تغیر کے ساتھ ناقص بن جاتی ہے۔ اس کا اطلاق انسان کے وضع کردہ قوانین پر بھی ہوتا ہے، خواہ وہ کسی دور میں بنایا گیا ہو اور اس کے بنانے والے کتنے ہی جلیل القدر ماہرینِ قانون ہوں۔ لیکن اس واضح حقیقت کے باوجود کیا سبب ہے کہ تقریباً ہر دور میں اللہ کے قانون کے مقابلے میں انسانی قانون کو ترجیح دی گئی ہے اور آج بھی یہ صورت برقرار ہے۔ اس کی وجہ راقم سطور کے نزدیک یہ ہے کہ ہر زمانے میں ایک مختصر وقت کے بعد اللہ کا قانون اپنی اصلی شکل میں باقی نہیں رہا، اس میں تاویل و تفسیر کی شکل میں انسانی ذہن شامل ہو گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے کلی قوانین کے مقابلے میں فقہاء کے وضع کردہ جزوی قوانین پر زیادہ توجہ مرکوز ہوگئی اور انھیں کلی اصولوں کی طرح غیر متغیر سمجھ لیا گیا جیسا کہ اس وقت اسلامی قوانین کا حال ہے، اور اس کا قانون طلاق بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اللہ کا کلی قانون کچھ اور تھا اور تقلید پرست اور جزئیات کے دل دادہ علماء و فقہاء کی قيل و قال نے اس کو کچھ اور بنا دیا ہے جیسا کہ آگے قارئین پڑھیں گے۔
نکاح کی حیثیت :۔
اسلام کی نظر میں نکاح کی حیثیت غیر معمولی ہے اور اس کو میثاقِ غلیظ ، یعنی پختہ عہد سے تعبیر کیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ اَخَذْنَ مِنْكُم مِّيْثَاقًا غَلِيظًا (سورة النساء : 21)
اور وہ (منکوحہ عورتیں) تم سے میثاقِ غلیظ (پختہ عہد) لے چکی ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نکاح دراصل ایک سماجی معاہدہ ہے جس کے دو فریق ہیں، مرد اور عورت۔ اسلام میں معاہدے کی پابندی پر بہت زور دیا گیا ہے، خواہ یہ معاہدہ دو افراد کے درمیان ہو یا دو قوموں کے درمیان، اور خواہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ہو۔ قرآن مجید میں ایک سے زیادہ مقامات پر مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں اور اس کو توڑنے سے گریز کریں۔ مثلاً : ایک جگہ فرمایا گیا ہے :
وَاَوْفُوا بِالْعَهْدِ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (سورة بني إسرائيل : 34)
اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔
قرآن مجید میں متقین کی جن اہم صفات کا ذکر ہوا ہے، ان میں ایک اہم صفت عہد کی پابندی ہے۔ فرمایا گیا ہے :
وَالَّذِينَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُونَ(سورة المؤمنون : 8)
اور وہ (اپنے پاس رکھی ہوئی) امانتوں اور اپنے عہد و پیماں کا خیال رکھنے والے ہیں۔
دوسری جگہ ارشاد ہوا :
بَلٰي مَنْ اَوْفٰي بِعَهْدِهٖ وَاتَّقٰي فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ(سورة آل عمران : 76)
ہاں جس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور اس کی خلاف ورزی سے بچا تو بے شک اللہ ایسے ہی خدا ترسوں کو پسند کرتا ہے۔
اگر یہ عہد و پیمان کفار اور مسلمانوں کے درمیان ہو تب بھی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ اس کی پاسداری کریں اور اس کو ناحق توڑنے سے بچیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ (سورة التوبة : 7)
مشرکین کا عہد اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نزدیک کیسے (قابلِ لحاظ) رہے گا سوائے ان کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس معاہدہ کیا ہے، پس جب تک وہ تم سے سیدھی طرح (معاہدے پر) قائم رہیں تم بھی ان سے سیدھی طرح (معاہدے پر) قائم رہو۔
یہودی قوم جس وجہ سے اللہ کی نظر میں مبغوض ٹھہری، ان میں سے ایک بڑی وجہ ان کی عہد شکنی ہے۔ قرآن مجید میں اس قوم کی عہد شکنی کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً : ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ (سورة البقرة : 100)
اور جب بھی ان لوگوں نے کوئی عہد و پیماں کیا تو ان کے کسی فریق نے اس کو ضرور پس پشت ڈالا ہے۔
تحفظِ نکاح :۔
آیاتِ مذکورہ سے واضح ہو گیا کہ اسلام کی نظر میں عہد و پیماں کی غیر معمولی اہمیت ہے اور عہد شکنی کو وہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نکاح جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ایک معاہدہ ہے جو زوجین کے درمیان ان کی باہمی رضا مندی سے طے پاتا ہے۔ یہ معاہدہ ایک خاندان (فیملی) کی بنیاد ڈالنے اور مل جل کر ازدواجی زندگی گزارنے سے متعلق ہوتا ہے۔ جس طرح دوسرے سماجی معاہدات مختلف اسباب سے ٹوٹ جاتے ہیں، اسی طرح معاہدہ نکاح کا ٹوٹ جانا بھی عین ممکن ہے۔ لیکن دوسرے سماجی معاہدات، مثلاً : معاہدہ بیع و شراء کے مقابلے میں معاہدہ نکاح کا ٹوٹ جانا اپنے نتائج و اثرات کے لحاظ سے ایک خطرناک چیز ہے۔ اس لیے اسلامی شریعت نے اس معاملے میں غایت درجہ حزم و احتیاط سے کام لینے کی ہدایت کی ہے، چنانچہ اسلامی شریعت نے ان تمام ضروری احتیاطی تدابیر کو بیان کیا ہے جن سے نکاح کا تحفظ ہو اور طرفین میں اختلاف و نزاع واقع نہ ہو۔ ان احتیاطی تدابیر کو ہم یہاں اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں :
◈ اسلام اپنے ماننے والوں کو جن میں مرد اور عورت، دونوں شامل ہیں، ہدایت کرتا ہے کہ وہ شادی سے پہلے خوب غور و فکر کر لیں اور جن امور کی تفتیش و تحقیق ضروری ہو، ان کی خوب اچھی طرح تحقیق کر لیں، یہاں تک کہ اگر مرد اپنی زیرِ تجویز بیوی کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو تو شریعت اجازت دیتی ہے کہ وہ اس کو کسی عمدہ بہانے سے دیکھ لے۔ یہی اختیار لڑکی کے ولی کو دیا گیا ہے اور اس کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر شادی نہ کی جائے۔ اگر کسی لڑکی کا نکاح حدِ بلوغ کو پہنچنے سے پہلے کر دیا گیا ہے تو اسلامی شریعت اس کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ بلوغت کی منزل میں قدم رکھتے ہی اگر چاہے تو اس نکاح کو ختم کر دے۔ معلوم ہوا کہ طرفین کی مرضی کے بغیر اسلام میں نکاح ممنوع ہے۔
لیکن موجودہ مسلم معاشرے میں نکاح کے اس زریں اسلامی اصول کو جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، وہ سب پر عیاں ہے۔ یہ امر نہایت برا سمجھا جاتا ہے کہ مرد کسی بہانے سے اس لڑکی کو دیکھ لے جو اس کی شریکِ حیات بننے والی ہے۔ اسی طرح عورت سے اس کی مرضی معلوم کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے، چنانچہ آج بہت سی شادیاں طرفین کی رضا مندی کے بغیر انجام پاتی ہیں۔ یہ غیر اسلامی رواج ان مسلمانوں میں زیادہ ہے جو غیر تعلیم یافتہ ہیں یا رواجی مذہب کے دل دادہ ہیں۔ اس طرح کی شادیاں بسا اوقات زوجین کے لیے غیر مفید بلکہ تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں اور اس کا لازمی نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔ اگر مذکورہ اسلامی اصول کی پیروی کی جائے تو تحفظِ نکاح آسان ہوگا۔
◈ کوئی مرد یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس میں سب خوبیاں ہیں، عیب ایک بھی نہیں ہے، اور نہ کوئی عورت اس بات کی مدعی ہو سکتی ہے، اس لیے معاشرتی زندگی کا ایک سنہرا اصول یہ ہے کہ خامیوں سے صرفِ نظر کیا جائے اور خوبیوں پر نظر رکھی جائے، اسی صورت میں عائلی زندگی کی گاڑی صحیح خطوط پر چل سکتی ہے۔
زوجین کے درمیان خوش گوار تعلقات کے قیام کے لیے مذکورہ اصول کی پیروی نہایت ضروری ہے۔ معلوم ہوا کہ مرد اور عورت اپنی نفسیات اور طبائع کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہیں، اللہ تعالیٰ کا یہ کمالِ علم و قدرت ہے کہ اس نے ضدین میں نہ صرف اتحاد پیدا کر دیا بلکہ دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لیے ناگزیر سماجی ضرورت بن گیا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو نظر انداز کر کے کبھی خوش گوار زندگی نہیں گزار سکتا۔ ضدین کے اس اتحاد کو قرآن مجید میں وجودِ باری تعالیٰ کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ(سورة الروم : 21)
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھارے نفسوں (تمھاری جنس) سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمھارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
اس اتحاد میں بھی اختلاف کا فطری عنصر بہر حال موجود ہوتا ہے۔ اس لیے فریقین پر واجب ہے کہ وہ ہر حال میں فطرت کے اس اختلاف پر نظر رکھیں اور اس کو اس کی فطری حد سے کبھی آگے بڑھنے نہ دیں۔ مرد ہمیشہ سوچے کہ اگر اس کی بیوی کے اندر کوئی کمی یا خامی ہے تو اس میں کوئی خوبی بھی ضرور ہوگی اور عجب نہیں کہ جو کمی ہے وہ اس کے حق میں باعثِ خیر ہو۔ اس حکیمانہ پہلو کی طرف قرآن مجید میں ان لفظوں میں مردوں کی توجہ مبذول کرائی گئی ہے :
وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰي اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا(سورة النساء : 19)
بیویوں کے ساتھ بھلے ڈھنگ سے زندگی گزارو اگرچہ وہ تم کو ناپسند ہوں۔ عین ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دی ہو۔
طلاق کے اسباب میں دو سبب کثیر الوقوع ہیں، ایک مرد کی جانب سے عورت کے نان و نفقہ کی عدم ادائیگی اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک میں کمی یا اس کا فقدان، اور دوسرا عورت کی زبان درازی اور نافرمانی، چنانچہ قرآن مجید میں مردوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ خوش اطواری کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (سورة النساء : 19)
اور تم ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے زندگی بسر کرو۔
ان کی کوتاہیوں سے چشم پوشی کرو اور لڑائی جھگڑے کے بجائے صلح جوئی کی روش اختیار کرو، فرمایا گیا ہے :
وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا(سورة النساء : 128)
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بے پروائی کا قطعی احتمال ہو تو اس امر میں کوئی مضائقہ نہیں کہ دونوں باہم صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے۔ اور طبیعتوں میں حرص پیوستہ ہے۔ اگر تم (اپنی عورتوں کے ساتھ) اچھا برتاؤ کرو گے اور برے سلوک سے بچو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمھارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے۔
اس طرح عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کریں۔ قرآن میں انھی عورتوں کو صالح کہا گیا ہے جو اپنے شوہروں کی بات مانتی ہیں اور اپنی عفت و پاک دامنی کی حفاظت کرتی ہیں جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے :
فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ(سورة النساء : 34)
پس نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، اللہ کی حفاظت کے سبب وہ پیٹھ پیچھے حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔
آج کل بہت سی جدید تعلیم یافتہ خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ شوہروں کی اطاعت کا حکم دے کر اسلام نے ان کا مرتبہ کم کر دیا ہے، حالانکہ کم نہیں کیا بلکہ بڑھایا ہے۔ فیملی کی حیثیت ایک ادارے کی سی ہے اور دوسرے سماجی ادارات کی طرح یہاں بھی ضروری ہے کہ ایک منتظم ہو جس کی بات مانی جائے۔ قرآن مجید کا فیصلہ ہے کہ یہ حیثیت مرد کو حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد ڈکٹیٹر بن جائے، فیملی کے منتظم ہونے کی حیثیت سے یہ بات اس کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور اس کے حقوق کسی لیت و لعل کے بغیر ادا کرے۔ اس حسنِ سلوک اور خبر گیری کے عوض میں عورت کے ذمے شوہر کی اطاعت ہے۔ اگر ایک فریق نے بھی اپنے فرائض سے پہلو تہی کی تو پھر ازدواجی زندگی کا قیام و استحکام ناممکن ہے۔ خاندان کی بقا کا تقاضا ہے کہ فریقین اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دیں۔ طلاق کی نوبت آتی ہی اس وقت ہے جب کسی فریق کی جانب سے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی سرزد ہوتی ہے۔
قبل طلاق کے مراحل :۔
مسلمانوں میں ان کی نادانی اور علماء کی غلط رہنمائی کی وجہ سے یہ غلط رواج عام ہو گیا ہے کہ فوراً ہی طلاق دے دی جاتی ہے، یہ اسلام کے قانون طلاق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس طرح کی طلاق واقع ہی نہیں ہوتی۔ اگر یہ فعل کسی حقیقی اسلامی ریاست میں واقع ہو تو طلاق دینے والا سخت سزا پائے گا۔ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس کے قانون طلاق میں تدریج کا اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہے تو اس کو اس عمل سے پہلے چند مراحل سے گزرنا ہوگا، اس کے بعد ہی طلاق کا مرحلہ آئے گا۔ ان تدریجی مراحل کی تفصیل درج ذیل ہے :
◈ عورتوں کے احساسات و جذبات بڑے نازک ہوتے ہیں، وہ نازک آبگینے کی مانند ہیں کہ ذرا سی ٹھیس لگی اور ٹوٹ گیا، یہی وجہ ہے کہ عورتیں معمولی معمولی باتوں پر بہت جلد برافروختہ ہو جاتی ہیں اور بسا اوقات ان کی یہ برافروختگی شوہر کی نافرمانی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ عورتوں کی اس فطری کمزوری کی وجہ سے قرآن مجید میں مردوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اگر عورتیں نافرمانی کریں تو مشتعل نہ ہوں اور ردِ عمل میں کوئی عاجلانہ فیصلہ نہ کر بیٹھیں بلکہ صبر سے کام لیں۔ مردوں کی دانائی اس میں ہے کہ وہ ان کے ساتھ دل داری کا معاملہ کریں اور محبت سے سمجھائیں۔ اگر اس کے باوجود وہ نافرمانی سے باز نہ آئیں تو ان کو خواب گاہ سے علیحدہ کر دیا جائے، یہ تدبیر بھی ناکام ہو جائے اور وہ عدم تعاون کی روش نہ چھوڑیں تو پھر بادلِ نخواستہ ان کو جسمانی سزا دی جائے، شاید اس طرح وہ رجوع کرلیں اور طلاق کی نوبت نہ آئے۔ النساء : 34
بہت سی عورتیں اور بعض مرد بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے نافرمان عورتوں کو جسمانی سزا کا حکم دے کر ان کی سخت توہین کی ہے۔ یہ ان کی کم فہمی ہے، انھوں نے اس سزا کو اس کے مخصوص محل سے الگ کر کے دیکھا، اس لیے اس سزا کی حکیمانہ مصلحت وہ سمجھ نہیں سکے۔ قرآن مجید نے یہ سخت سزا اس لیے تجویز کی ہے کہ طلاق واقع نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں اس نے خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اس آخری اور بظاہر نا پسندیدہ تدبیر کو بھی اختیار کر لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں طلاق کس درجہ ناپسندیدہ چیز ہے۔ اس نے یہ تو گوارا کر لیا کہ نافرمان عورت کو جسمانی سزا دی جائے لیکن اس بات کو گوارا نہیں کیا کہ اس عورت کو چھوڑ دیا جائے اور اس کی نادانی کی وجہ سے خود اس کا اور اس کے بچوں کا مستقبل تاریک ہو جائے۔ اس کے علاوہ جسمانی سزا کا حکم اس صورت میں دیا گیا ہے جب پہلی دو صورتیں (افہام اور خواب گاہ سے علیحدگی) ناکام ہو جائیں، ان تدابیر کی ناکامی اس امر کا ثبوت ہوگا کہ عورت کے اندر منفی داعیات بہت سخت ہیں۔ ایک نارمل عورت کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ شوہر اس سے تعلقِ زن و شو ختم کر لے لیکن اگر کوئی عورت یہ سزا بھی جھیل جاتی ہے اور نافرمانی کی روش نہیں چھوڑتی تو اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس کی فطرت میں سرکشی ہے لیکن اسلام اس سرکش عورت کو بھی چھوڑنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اس کو راہِ راست پر لانے کے لیے جسمانی سزا تجویز کرتا ہے تاکہ وہ نافرمانی کی راہ چھوڑ دے اور شوہر کی مطیع و فرماں بردار بن جائے اور اس طرح وہ طلاق کے تباہ کن نتائج سے محفوظ ہو جائے۔
لیکن اگر جسمانی سزا بھی بے اثر ثابت ہو اور عورت بدستور نشوز (نافرمانی و سرکشی) کی روش اختیار کیے رہے تو ہر منصف مزاج شخص کا یہی فیصلہ ہوگا کہ اب طلاق کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ لیکن اسلامی قانون کی خوبی دیکھیں کہ وہ اب بھی توقف اختیار کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ مرد اور عورت، دونوں کے خاندان سے ایک ایک فرد بطورِ حَکَم لیا جائے اور ایک فیملی کورٹ بنائی جائے، یہ کورٹ اس بات کی حتی المقدور کوشش کرے کہ طرفین میں مصالحت ہو جائے اور طلاق واقع نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ صدقِ دل سے باہم ملنا چاہیں گے تو وہ ان میں اتحاد پیدا کر دے گا۔ (سورة النساء : 35)
اگر فیملی کورٹ بھی فریقین کے درمیان صلح کرانے میں کامیاب نہ ہو تو اس وقت اسلام مرد اور عورت، دونوں کو جدا ہو جانے کا اختیار دیتا ہے، مرد کو یہ اختیار طلاق کی صورت میں اور عورت کو خلع کی شکل میں حاصل ہے۔
قانونِ طلاق :۔
قرآن مجید کی ایک سے زیادہ سورتوں میں اسلام کے قانون طلاق کا ذکر آیا ہے۔ مثلاً : سورۃ بقرہ میں فرمایا گیا ہے :
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿٢٢٩﴾ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿٢٣٠﴾ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوا ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿٢٣١﴾ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ(سورة البقرة : 229-232)
طلاق دو مرتبہ ہے، پھر روک رکھنا ہے دستور کے مطابق یا چھوڑ دینا خوش اسلوبی کے ساتھ اور تمھارے لیے یہ بات حلال نہیں کہ (وقتِ رخصت) اس (مہر) میں سے کوئی چیز بھی واپس لو جو تم نے ان کو دی ہے مگر اس وقت جب میاں بیوی کو احتمال ہو کہ وہ اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، اور تم کو بھی (اے مسلمانو!) یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو عورت (خلع کے) فدیے میں دے یہ حدود اللہ ہیں، ان حدود سے ہرگز تجاوز نہ کرو۔ اور جو شخص حدودِ اللہ سے تجاوز کر جائے تو ایسے ہی لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں، پھر اگر کسی نے (تیسری مرتبہ) عورت کو طلاق دے دی تو اب وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے، پھر اگر یہ (دوسرا) خاوند اس کو طلاق دے دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دوبارہ مل جائیں بشرطیکہ دونوں حدود اللہ کو قائم رکھنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اللہ ان (حدود) کو ان لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے جو اہل دانش ہیں۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق ان کو رخصت کر دو، ان کو ستانے کی غرض سے ہرگز نہ روکو۔ اور جو شخص ایسا کرے گا سو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور اللہ کے احکام کے ساتھ ہنسی مذاق نہ کرو۔ اور جو نعمتیں اللہ کی تم پر ہیں، ان کو یاد کرو اور (خصوصاً) اس کتاب اور حکمت کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے جس کے ساتھ وہ تم کو نصیحت کرتا ہے۔ اللہ (کے احکام کی خلاف ورزی) سے ڈرو اور یقین رکھو کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی میعاد (عدت) پوری کر لیں تو تم ان کو اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں جب کہ وہ دستور کے مطابق باہم رضا مند ہوں۔ اس بات کی نصیحت تم میں سے ہر اس شخص کو کی جاتی ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس نصیحت کو قبول کرنا تمھارے لیے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکیزگی کی بات ہے۔ اور اللہ (اس قانون کی حکمت کو) جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔
ان آیات کی روشنی میں اسلام کے قانون طلاق کی درج ذیل اہم خصوصیات کا علم حاصل ہوتا ہے : اسلام کے قانون طلاق کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں طلاق دینے اور اس کے واقع (operational) ہونے میں تین ماہ کا فصل رکھا گیا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْءٍ(سورة البقرة : 228)
اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔
اس کے علاوہ شوہر کے حق رجعت کو دو طلاقوں تک محدود کیا گیا ہے جیسا کہ : الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ کے جملے سے واضح ہے لیکن بہت سے علماء و فقہاء نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ طلاق دو مجلس یا دو الگ الگ طہر میں دی جائے۔ مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں : مَرَّتٰنِ کے لفظ میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ دو طلاقیں بیک وقت اور بیک لفظ نہ ہوں بلکہ دو طہروں میں الگ الگ ہوں۔ الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ سے بھی دو طلاق کی اجازت ثابت ہو سکتی تھی مگر مَرَّتٰنِ ایک ترتیب و تراخی کی طرف مشیر ہے جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ دو طلاقیں ہوں تو الگ الگ ہوں۔ مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ کوئی شخص کسی کو دو روپے ایک دفعہ دے دے تو اس کو دو مرتبہ دینا نہیں کہتے۔ الفاظِ قرآن میں دو مرتبہ دینے کا مقصد یہی ہے کہ الگ الگ طہر میں دو طلاقیں دی جائیں۔(معارف القرآن: 560/1)
اس سلسلے میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ایک ہی دفعہ دو طلاقیں دے دینی مکروہ ہیں کیونکہ مرتان کا لفظ تفریق پر دلالت کرتا ہے اور اشارتاً عدد پر۔ اور الطلاق میں لام جنس کے لیے ہے، پس قیاس تو یہ چاہتا ہے کہ اکٹھی دو طلاقیں معتبر نہ ہوں اور جب دو طلاقیں معتبر نہ ہوئیں تو تین اکٹھی دینی تو بدرجہ اولیٰ معتبر نہ ہوں گی کیونکہ تین میں دو سے زیادہ زیادتی ہے۔ تفسیر مظہری، قاضی ثناء اللہ پانی پتی : 300/1
لیکن راقم کو اس تشریح سے اتفاق نہیں ہے۔ الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ سے دو الگ الگ مجلس یا طہر میں طلاق دینا مراد نہیں ہے بلکہ اس سے دو ایسی رجعی طلاقیں مراد ہیں جن کے دینے کا اختیار ایک مرد کو اپنی پوری ازدواجی زندگی میں حاصل ہے، وہ اس طرح کہ ایک مرتبہ حالتِ طہر میں طلاق دے اور عدت کے اندر رجوع کرلے، پھر آگے چل کر کسی سبب سے دوسری مرتبہ طلاق دے اور پھر عدت کے اندر رجوع کر لے، اس کے بعد اگر اس نے کسی موقع پر تیسری طلاق دے دی تو اب اس کا حقِ رجوع ساقط ہو گیا اور عورت اس سے جدا ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ سے تعدادِ طلاق کی تحدید بھی مقصود ہے جو ایامِ جاہلیت اور شروعِ اسلام میں غیر محدود تھی۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابتدائے اسلام میں لوگوں کی حالت یہ تھی کہ بے حد و حساب طلاقیں دیتے تھے۔ کوئی یہ کرتا کہ بیوی کو طلاق دے دی اور جب اس کی عدت ختم ہونے کے قریب آئی تو رجوع کر لیا، پھر اس طرح طلاق دے دی محض بیوی کو ستانے کی غرض سے۔ اس پر یہ حکم نازل ہوا : الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ تفسير مظهري : 303/1 و جامع الترمذي الطلاق واللعان، باب نزول قوله : الطَّلَاقُ مَرَّتن حديث : 1192
ہم نے اوپر الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ کا جو مفہوم بیان کیا ہے، اس کی تائید مشہور صحابی حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل سے ہوتی ہے۔ حدیث کی کتابوں میں ان کی طلاق کا واقعہ مذکور ہے۔ اہل حدیث کا مسلک اسی روایت پر ہے اور اس کا ذکر آگے آرہا ہے، یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق عہدِ نبوی میں دی، دوسری طلاق عہدِ فاروقی میں اور تیسری طلاق عہدِ عثمانی میں دے کر بیوی کو چھوڑ دیا۔ یہی مطلب ہے الطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ… کا۔ تفسير مظهري : 303/1 و سنن أبي داود الطلاق، باب في البتة، حديث : 2206
قرآن مجید نے ہر اس زیادتی کا تدارک کیا ہے جو اہل عرب کی ازدواجی زندگی میں عورتوں کے ساتھ روا رکھی جاتی تھی۔ عربوں میں طلاق کی ایک شکل ایلاء تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایلاء اہل جاہلیت کی طلاق تھی۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء اہل جاہلیت کا ستانا تھا، جب کسی کو اپنی بیوی سے محبت نہیں ہوتی تھی اور وہ یہ بھی نہ چاہتا کہ کوئی دوسرا اس سے نکاح کرے تو وہ یہ قسم کھا لیتا کہ میں کبھی اس کے نزدیک نہ جاؤں گا، اس کو اس طرح چھوڑے رکھتا کہ وہ نہ مطلقہ ہوتی اور نہ خاوند والی۔ شروع اسلام میں بھی اس طلاق کا رواج تھا، پھر اسلام نے اس کی مدت متعین کر دی۔
قرآن مجید نے اس قسم کی طلاق کی جو مدت متعین کی ہے، وہ چار ماہ ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ شوہر اس مدت کے اندر رجوع کرلے ورنہ طلاق دے۔ اس طلاق کو طلاق رجعی کے درجے میں رکھا گیا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسحاق سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب چار مہینے گزر جائیں تو وہ ایک ہی طلاق ہے اور وہ طلاق والی عورت کی طرح عدت پوری کرے۔تفسير مظهري: 291/1
قرآن نے اس کو طلاق سے تعبیر نہیں کیا ہے، اس کے لیے صرف ”ایلاء“ کا لفظ استعمال کیا ہے، اسے طلاق سے تعبیر کرنا فقہائے احناف کا کام ہے۔ قرآن کے الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرنے کے بعد خاوند سے پوچھا جائے گا کہ وہ بیوی سے رجوع کرنا چاہتا ہے یا طلاق دینا۔ ان دونوں میں سے ایک کام کرنا ضروری ہے، اگر وہ رجوع کر لیتا ہے تو ٹھیک۔ ورنہ اسے طلاق پر مجبور کیا جائے گا، اگر وہ رجوع بھی نہ کرے اور طلاق بھی نہ دے تو پھر عدالت خود طلاق دے کر ان کے درمیان علیحدگی کرا دے گی۔ (مرتب)
اس نوع کی طلاق میں بھی جو حد درجہ تکلیف دہ طلاق ہے، شوہر کے حقِ رجوع کو باقی رکھا گیا ہے جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے :
لِّلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (سورة البقرة : 226)
ان لوگوں کے لیے جو قسم کھا لیتے ہیں اپنی عورتوں (کے پاس جانے) سے، انتظار کرنا ہے چار مہینے، پھر اگر وہ رجوع کرلیں تو بلاشبہ اللہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
معلوم ہوا کہ اسلام کی نظر میں صحیح اور پسندیدہ طلاق وہ ہے جس میں عدت کے ساتھ رجعت کا دروازہ کھلا ہو۔
◈ اسلام کے قانونِ طلاق کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جس طرح مرد کو طلاق کا حق ہے اسی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ مہر کی رقم دے کر شوہر سے آزادی حاصل کرلے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ(سورة البقرة : 229)
ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں اس مال میں جو وہ عورت (خلع کے) فدیے میں دے۔
اس کو اصطلاحِ فقہ میں خلع کہا جاتا ہے۔
◈ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اگر شوہر عدت کے اندر رجوع نہ کرے لیکن بعد میں بیوی کو واپس لینا چاہے اور عورت بھی راضی ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں عورت کے گھر والوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ رجعت کے اس عمل میں مانع نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ (سورة البقرة : 232)
تو تم انھیں اس بات سے مت روکو کہ وہ اپنے (پہلے) خاوندوں سے نکاح کریں جبکہ وہ دستور کے مطابق آپس میں راضی ہوں۔
اس سے بالکل ظاہر ہے کہ رجعت اسلام کی نظر میں ایک نہایت پسندیدہ امر ہے۔ ان علمائے کرام کی عقلوں پر رونا آتا ہے جو منشائے قرآن کے خلاف زوجین کو ملنے سے روکتے ہیں، محض اس بنا پر کہ نادان شوہر کے منہ سے غصے میں یا جہالت کی وجہ سے تین طلاق کے الفاظ نکل گئے۔
◈ اسلام کے قانونِ طلاق کی چوتھی اہم خصوصیت یہ ہے کہ طلاقِ رجعی کے بعد عورت کو گھر سے نکالنا ممنوع ہے، مگر یہ کہ اس نے کوئی بے حیائی کا کام کیا ہو۔
◈ پانچویں اہم خصوصیت یہ ہے کہ عدت مکمل ہونے پر، خواہ عورت کو واپس لیا جائے یا رخصت کیا جائے، یعنی طلاق کا عمل واقع ہو جائے، دونوں صورتوں میں دو معتبر گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ مؤخر الذکر دو اہم خصوصیات کا ذکر سورہ طلاق میں ان لفظوں میں آیا ہے :
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ﴿١﴾ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ(سورة الطلاق : 1-2)
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ) جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو عدت کے وقت میں (طہر میں) طلاق دو اور عدت کو شمار کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جو تمھارا آقا اور حاکم ہے۔ ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ بے حیائی کی مرتکب ہوں۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا تو اس نے خود اپنا ہی نقصان کیا۔ تم کو خبر نہیں شاید اللہ تعالیٰ اس (طلاق) کے بعد (ملاپ کی) کوئی صورت پیدا کر دے، پھر جب وہ عورتیں اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو تم ان کو دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق ان کو رخصت کر دو۔ اور اپنے میں سے دو معتبر گواہوں کو اس پر گواہ بنا لو اور (اے گواہو! اگر گواہی کی حاجت پڑے تو) کسی رو رعایت کے بغیر ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔
آج کل مسلمانوں میں جس قسم کی طلاق کا رواج ہے، اس میں قرآن کے قانونِ طلاق کے مذکورہ تمام پہلوؤں کی کھلی خلاف ورزی کی جاتی ہے، پھر بھی ان کو دعویٰ ہے کہ وہ اللہ کی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ خرابی صرف تین طلاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ پورا مسلم معاشرہ غیر اسلامی رسوم و رواج سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں اس کا موقع ومحل نہیں کہ ان سماجی خرابیوں کو بیان کیا جائے۔ لیکن تین طلاقوں کی جو خرابی علماء کے غلط فتوؤں کی وجہ سے مسلم سماج میں سرایت کر گئی ہے، اس کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس خرابی نے ہزاروں معصوم عورتوں اور بچوں کی زندگیوں کو تباہ کیا اور ان کے مستقبل کو تاریک بنایا ہے۔
طلاقِ ثلاثہ (تین طلاقیں) :۔
فقہائے احناف کہتے ہیں کہ اگر کسی عورت کو اس کے شوہر نے ایک ہی مجلس میں بیک وقت تین طلاقیں (طلاقِ ثلاثہ) دے دیں تو وہ واقع ہو جائیں گی، یعنی طلاقِ بائن اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی اور بغیر نکاحِ ثانی (حلالہ) کے وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی۔ یہ فقہ حنفی کا معروف مسلک ہے اور عرصہ دراز سے بہت سے مسلم ملکوں میں رائج ہے۔ لیکن اہل حدیث کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق سمجھا جائے اور شوہر کو عدت کے اندر حقِ رجوع حاصل ہوگا۔ امامیہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ راقم کے نزدیک یہی مسلک درست ہے۔ اول الذکر مسلک سراسر خلافِ قرآن ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو آگے آرہی ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں، تین طلاقوں کا تعلق ازدواجی زندگی کے تین مختلف زمانوں سے ہے۔ انھی تین متفرق طلاقوں کو عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافتِ راشدہ میں بعض صحابہ نے غلطی سے جمع کر لیا، انھوں نے سمجھا کہ ان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ، خواہ تین طلاقوں کو تین الگ الگ وقتوں میں دیں یا ان کو جمع کر کے ایک ہی وقت میں دے دیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی یہ تاویل منشائے قرآن کے خلاف تھی۔ امام نسائی رحمہ اللہ بہ روایت محمود بن لبید نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی کے متعلق خبر دی گئی جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا :
کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل کیا جاتا ہے، حالانکہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں۔ یہ سنتے ہی ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! أَلَا أَقْتُلُهُ؟ کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟ سنن النسائي، الطلاق، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، حديث : 3430 والمحلى لابن حزم، أحكام الطلاق: 167/10
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ناراضی کے باوجود بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم غصے میں اپنی بیویوں کو ایک ہی وقت میں تین اور بسا اوقات اس سے زیادہ طلاقیں دے ڈالتے اور پھر غصہ ٹھنڈا ہونے پر افسوس کرتے۔ آگے چل کر اس غلط طریقہ طلاق کا کثرت سے رواج ہو گیا اور آج تک یہ غیر شرعی طریقہ طلاق مسلم معاشرے میں رائج ہے۔
اس سلسلے میں جو روایتیں ہم تک پہنچی ہیں، ان کے تحقیقی جائزے سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس طرح کی جو طلاقیں دی گئیں، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل مختلف تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو جاتا کہ تین طلاقیں وقتی اشتعال میں آکر دی گئی ہیں اور طلاق دینے والے کی نیت بیوی کو چھوڑنے کی نہیں تھی تو اس طلاق کو طلاقِ رجعی قرار دیتے اور شوہر کو رجوع کا حکم صادر فرماتے۔ اور جب یہ یقین ہو جاتا کہ طلاق دینے والے کی نیت بیوی کو فارغ کرنے کی تھی تو طرفین میں تفریق کرا دیتے۔
دونوں فیصلوں کی نظیریں کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔ اول الذکر فیصلے کی بہترین نظیر حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی طلاق ہے۔ اس طلاق کا ذکر حدیث کی مختلف کتابوں، ترمذی، ابوداود، ابن ماجہ، اور دارمی میں مختلف سندوں کے ساتھ آیا ہے۔ اکثر اربابِ علم نے امام ابوداود رحمہ اللہ کی روایت کو جس میں البتة کا لفظ ہے، صحیح قرار دیا ہے۔ یہ لفظ عربوں کی بول چال میں تین طلاقوں کے لیے کثیر الاستعمال تھا لیکن تین اس کا صریح مفہوم نہ تھا، اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کی طلاق کو رجعی قرار دیا۔ لیکن اس سلسلے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ ابوداود کی سند میں بعض مجہول راوی ہیں جن کی تضعیف امام بخاری رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین نے کی ہے، اس بنا پر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی مسند میں مروی روایت کو باعتبارِ سند زیادہ قوی بتایا ہے اور اسی کو ترجیح دی ہے۔ مسندِ احمد کی روایت اس طرح ہے :
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، اس پر ان کو شدید رنج ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم نے کس طرح طلاق دی تھی؟ انھوں نے کہا کہ میں نے تین طلاقیں دی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ایک ہی مجلس میں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ہی طلاق ہے۔ اگر تم چاہو تو رجوع کر سکتے ہو، چنانچہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے رجوع کر لیا۔ مسند أحمد : 265/1 والسنن الكبرى للبيهقي، الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدة : 339/7
دوسری طلاق کی مثال حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کی ہے جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی سے لعان کیا اور پھر کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس پر جھوٹ بولنے والا ہوں گا اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھ لیا۔ اور پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تین طلاقیں دے دیں قبل اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حکم دیتے۔صحیح مسلم، کتاب اللعان : 1492
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرنے کے بعد فرمایا :
تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نافذ فرمایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جو کچھ پیش آیا، وہ سنت قرار پایا۔ سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا، پس اس کے بعد لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ سنت رائج ہوگئی کہ ان کے درمیان تفریق کرا دی جائے اور پھر وہ کبھی جمع نہ ہوں۔سنن أبي داود، الطلاق، باب في اللعان، حديث : 2250
ان دونوں واقعات میں طلاق کا ذکر بالکل واضح ہے۔ آخر الذکر واقعہ کی شدت کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی سے لعان کیا اور پھر طلاق دے دی۔ اس طرزِ عمل سے صاف عیاں ہے کہ صحابی مذکور اپنی بیوی سے حد درجہ نالاں تھے اور وہ کسی قیمت پر اس کو اپنے پاس رکھنے کے لیے آمادہ نہ تھے، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں تفریق کر دی۔ لیکن حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ کے معاملے میں اس سے بالکل مختلف طرزِ عمل اپنایا۔ ان کے رنج و صدمہ کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ انھوں نے تین طلاقیں شدتِ غضب سے مغلوب ہو کر دی تھیں، اس سے مقصود بیوی سے دائمی ترکِ تعلق نہ تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجوع کا فیصلہ دیا۔
ان دونوں واقعاتِ طلاق سے یہ فقہی اصول مستنبط ہوا کہ فتویٰ محض واقعے کی ظاہری صورت کو دیکھ کر نہیں دینا چاہیے بلکہ ان احوال و کوائف کا مطالعہ ضروری ہے جن کے زیرِ اثر فعلِ طلاق واقع ہوا ہے۔
اس فقہی اصول کو پیشِ نظر رکھیں تو اس روایت کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں طلاق کے بارے میں یہ دستور تھا کہ تین طلاقوں کو ایک قرار دیا جاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ اس معاملے میں جلد بازی سے کام لینے لگے ہیں جس میں ان کے لیے مہلت تھی، اس لیے یہ مناسب ہوگا کہ ہم اس کو ان پر نافذ کر دیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے نافذ کر دیا۔ صحیح مسلم، الطلاق ، باب طلاق الثلاث، حديث : 1472 و سنن أبي داود، الطلاق، باب نسخ المراجعة ……. حديث : 2199 و السنن الكبرى للبيهقي، الخلع والطلاق، باب من جعل الثلاث واحدة ……. : 336/7 و المستدرك للحاكم الطلاق 196/2، حدیث:2793
عہدِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں طلاق دینے والے کی نیت کا لحاظ کر کے طلاقِ ثلاثہ کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا تھا۔ یہی طرزِ معاملہ خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں رہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سالوں میں بھی اسی سنت پر عمل رہا جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ آج کے حالات میں طلاق دینے والے کی نیت کا لحاظ نہ کیا جائے۔ اگر شوہر حلفاً یہ بیان دے کہ تین طلاقوں سے اس کی نیت بیوی کو چھوڑنے کی نہیں تھی محض غصے میں تین کے الفاظ منہ سے نکل گئے تو اس طلاق کو طلاقِ رجعی قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ اسلام کے قانونِ طلاق کا منشا یہ ہے کہ جب زوجین ملنا چاہیں تو ان کو ملنے دیا جائے۔ لیکن اگر تحقیق کے بعد یہ معلوم ہو کہ شوہر نے طلاق کسی وقتی جذبے سے مغلوب ہو کر نہیں دی ہے بلکہ یہ اس کا خوب سوچا سمجھا فیصلہ ہے اور وہ بیوی کو واپس لینے کے لیے بالکل آمادہ نہیں ہے تو پھر تفریق کرا دی جائے بشرطیکہ وہ ان تمام واجبات کو ادا کرنے کے لیے تیار ہو جو بیوی سے ترکِ تعلق کی صورت میں اس پر شرعاً واجب ہوتے ہیں۔
جہاں تک حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فیصلے کا تعلق ہے تو وہ ایک وقتی اجتہاد تھا اور اس دور کے مخصوص حالات و مسائل کے عین مطابق تھا۔ اور حاکم کو اجتہاد کا حق حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اس فیصلے سے اس وقت کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے بھی اختلاف نہیں کیا۔
امام طحاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ لوگوں کو مخاطب فرمایا۔ ان لوگوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے جن کو اس سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے طریقے کا علم تھا تو ان میں سے کسی نے انکار نہیں کیا اور نہ اسے رد کیا۔
وہ روایتیں (آثارِ صحابہ) جن میں تین طلاقوں کو طلاقِ بائن بتایا گیا ہے، ان کا تعلق اسی دور سے ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مذکورہ اجتہاد کو جسے بعض اہل علم نے تعزیری فیصلہ بتایا ہے، اسلام کے اصل قانونِ طلاق کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو اختیار کیا جائے تاکہ ہزاروں مسلم خاندانوں کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافتِ راشدہ، دونوں میں مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل تھا۔ اس کے علاوہ ان کے معاشرے میں مطلقہ اور بیوہ عورتوں کا نکاحِ ثانی آسانی کے ساتھ ہو جاتا تھا۔ وہ مطلقہ عورتیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہ ہوتا، ان کی کفالت اور خبر گیری ریاست کی ذمے داری تھی۔ اس وقت یہ سب حالات عنقا (ناپید) ہیں، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اجتہادی فیصلے کو طلاقِ ثلاثہ کے واقع ہو جانے کے حق میں بطورِ دلیل پیش کرنا دلیلِ کم نظری ہے۔ ہر فتویٰ کو اس کے مخصوص ماحول میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔
صحیح طریقہ طلاق :۔
اسلام نے طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہ بتایا ہے کہ عورت کو حالتِ طہر میں مقاربت کے بغیر طلاق دے کر چھوڑ دیا جائے، عدت گزرنے کے بعد طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی۔ عدت گزرنے سے پہلے شوہر کو حق حاصل ہے کہ وہ رجوع کر لے۔ عدت کے بعد نکاحِ ثانی کی صورت میں عورت کو واپس لیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ واپسی کے لیے تیار ہو۔ سنن ابو داود کی ایک روایت میں ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور ہو جائے تو ایک طلاق دے دے۔ اگر رجعت کا ارادہ نہ ہو تو اسے ویسے ہی رہنے دے یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے :
اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَى اللّٰهِ الطَّلَاقُ
تفسیر مظهري: 303/1، و سنن أبي داود ، الطلاق، باب في كراهية الطلاق، حديث: 2178،و سنن ابن ماجه، الطلاق، باب حدثنا سويد بن سعيد، حدیث: 2018 والسنن الكبرى للبيهقي، الخلع والطلاق، باب ماجاء في كراهية الطلاق : 322/7
حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔
بہت سے نیم خواندہ مسلمان سمجھتے ہیں کہ جب تک تین بار طلاق کے الفاظ نہ کہے جائیں تو طلاق واقع ہی نہیں ہوتی، اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ جب ایک بار کہہ دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے تو پھر الفاظِ طلاق کا تکرار بے سود ہے اور اس سے نفسِ واقعہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ الفاظِ طلاق کا تکرار بالعموم طلاق کو مؤکد کرنے کی غرض سے ہوتا ہے یا شوہر غصے کی حالت میں مشتعل ہو کر تعدادِ طلاق کو بڑھا دیتا ہے، مثلاً : یوں کہے کہ میں نے تم کو سو طلاقیں دیں۔ اس فعل سے گو کہ قابلِ مذمت ہے، طلاق کی نوعیت جوں کی توں قائم رہتی ہے، یعنی وہ ایک طلاقِ رجعی کے حکم میں ہوگا۔ اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ بار اس نازیبا حرکت کا مرتکب ہو تو وہ یقیناً سزا کا مستحق ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دینے والا کوئی شخص جب ان کے پاس لایا جاتا تو اسے درے لگاتے۔ فتح الباري، الطلاق، باب من جوز الطلاق الثلاث: 362/9 ، وشرح معاني الآثار: 59/3و سنن سعيد بن منصور الطلاق، باب التعدي في الطلاق، حديث : 1073
ایک غلط فہمی کا ازالہ :۔
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ایک مجلس یا طہر میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت ہے، اور یہ بلاشبہ خلافِ سنت ہے، لیکن الگ الگ تین مجلسوں یا طہروں میں طلاق دینا مطابقِ سنت۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ جس طرح ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا خلافِ سنت ہے، اسی طرح تین الگ الگ مجلسوں یا طہروں میں طلاق دینا بھی خلافِ سنت ہے۔ فرق صرف درجے کا ہے۔ اول الذکر طلاقِ بدعت ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے لیکن ثانی الذکر کو بدعت کے خانے سے اس لیے نکال دیا گیا ہے کہ اس میں شوہر کے لیے غور و فکر اور رجعت کا موقع باقی رہتا ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ طریقہ طلاق بھی خلافِ سنت ہے۔
مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے لکھا ہے : یہی وجہ ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ اور بہت سے دوسرے فقہاء نے تیسری طلاق کو جائز نہیں رکھا، اس کو وہ طلاقِ بدعت کہتے ہیں۔ اور دوسرے فقہاء نے تین طلاقوں کو صرف اس شرط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے کہ الگ الگ تین طہروں میں تین طلاقیں دی جائیں۔ ان فقہاء کی اصطلاح میں اس کو بھی طلاقِ سنت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے مگر اس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں ہے کہ اس طرح تین طلاقیں دینا مسنون اور محبوب ہے بلکہ طلاقِ بدعت کے مقابلے میں اس کو طلاقِ سنت اس معنی سے کہہ دیا گیا کہ یہ بدعت میں داخل نہیں۔ معارف القرآن : 559/1
سنت کی طرف واپسی :۔
اگر کوئی شخص خلافِ سنت طلاق دیتا ہے، مثلاً : ایک مجلس میں بیک وقت تین طلاقیں دے دے تو ایسے شخص کو تنبیہ کی جائے اور اس کے اس فعل کو کالعدم قرار دے کر اس کو سنت (اصل قانون) کی طرف لوٹایا جائے۔
یہ ایک عجیب بات ہے کہ اکثر علماء و فقہاء تسلیم کرتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں طلاقِ بدعت ہے اور بعض کے نزدیک ناجائز اور حرام لیکن اس کے باوجود ان کا اصرار ہے کہ وہ واقع ہو جاتی ہیں۔
مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
اپنے سارے اختیاراتِ طلاق کو ختم کر کے تین طلاق تک پہنچنا اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا سبب ہے جیسا کہ سابقہ روایت میں لکھا جا چکا ہے۔ اور اسی لیے جمہورِ امت کے نزدیک یہ فعل غیر مستحسن اور بعض کے نزدیک ناجائز ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود کسی نے ایسا کر لیا تو اس کا وہی اثر ہونا چاہیے جو جائز طلاق کا ہوتا ہے، یعنی تین طلاقیں واقع ہو جائیں اور رجعت کا اختیار نہ ہو اور نکاحِ جدید کا اختیار بھی سلب ہو جائے۔معارف القرآن : 563/1
بعض علماء نے اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔ علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے شرحِ موطا میں لکھا ہے کہ جمہورِ امت تین طلاقوں کے واقع ہونے پر متفق ہیں بلکہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر اجماع ہے اور اگر اس کے خلاف کوئی قول ہے تو اس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ شرح موطأ : 167/3
شیخ الاسلام امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ اور سلف و خلف کے بہت سے علماء کا خیال ہے کہ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، البتہ طاؤس رحمہ اللہ اور بعض اہل ظاہر کے قول کے مطابق ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ شرح مسلم للنووي : 478/1
طاؤس رحمہ اللہ اور عکرمہ رحمہ اللہ جیسے اربابِ فقہ کا صرف یہی فتویٰ نہیں ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں طلاقِ رجعی کے حکم میں داخل ہیں بلکہ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ طریقہ خلافِ سنت ہے، اس لیے اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو سنت کی طرف لوٹایا جائے۔ یہی قول ابن اسحاق رحمہ اللہ کا ہے۔تفسير مظهري : 301/1
اس قول کی تائید عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے واقعۂ طلاق سے ہوتی ہے۔ انھوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنتے ہی غصے میں آگئے، پھر فرمایا : اسے چاہیے کہ عورت سے رجوع کر لے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے، پھر پاک ہو جائے، اس کے بعد اگر طلاق ہی دینی ہے تو حالتِ طہر میں مقاربت کے بغیر طلاق دے دے، پس یہی وہ عدت (وقت) ہے جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔صحيح البخاري الطلاق، باب وقول الله تعالى : ﴿يَايُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلَقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّةَ﴾ (الطلاق 1:65) ، حدیث : 1 525 ، وصحيح مسلم، الطلاق، باب تحريم طلاق الحائض …. حديث : (4)-1471
اکثر علماء و فقہاء نے غالباً قانون کے اس پہلو پر غور نہیں کیا اور اگر غور کیا تو کسی سبب سے اس سے صرفِ نظر کر لیا کہ وضعِ قانون کا مقصد افرادِ معاشرہ کے درمیان عدل و قسط کا قیام ہے، یعنی ایک فرد دوسرے فرد کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اس کے لیے حدود اللہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ گویا قانون وہ حد مقرر کرتا ہے جس سے تجاوز کرنا افرادِ معاشرہ کے لیے نقصان کا موجب ہے۔ اسی طرح ہر قانون چاہتا ہے کہ اس کو جوں کا توں نافذ کیا جائے۔ دنیوی حکومتوں میں بھی قانون کا احترام اور اس کی مکمل پیروی لازمی خیال کی جاتی ہے اور اس کی خلاف ورزی موجبِ سزا ہوتی ہے، پھر اسلام کے قانونِ طلاق کے بارے میں یہ خیال کس طرح قائم کر لیا گیا ہے کہ اس کی مکمل پیروی ضروری نہیں ہے اور اس کی عدم تعمیل قابلِ مواخذہ نہ ہوگی۔
اس پس منظر میں غور کریں تو تسلیم کریں گے کہ تین طلاق کا موجودہ طریقہ نہ صرف عورت اور اس کے بچوں کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ ظلمِ صریح کے مترادف ہے۔ تعجب اس پر ہے کہ اس زیادتی کو بچشمِ سر دیکھنے کے باوجود اس غلط طریقہ طلاق کے اثرات کو تسلیم کر لیا گیا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جو مسلمان اسلام کے قانونِ طلاق کی خلاف ورزی کرتا اس کو سزا دی جاتی اور اس قانون کی طرف رجعت کے لیے اس کو مجبور کیا جاتا۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، سزا تو درکنار، طلاقِ ثلاثہ کے پردے میں ان کو یہ موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ عورتوں اور بچوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ (کھیل تماشہ) کریں۔
اگر آپ کسی مفتی سے پوچھیں کہ فلاں شخص نے مغرب کی نماز میں تین رکعتوں کی بجائے دو ہی رکعت ادا کی ہیں تو کیا اس کی نماز ہوگئی؟ فوراً جواب ملے گا کہ ہرگز نہیں، وہ خطا کار ہے۔ وہ ہرگز یہ فتویٰ نہ دے گا کہ نماز تو ہو گئی لیکن یہ نماز بدعت ہے اور مصلی قصور وار ہے۔ اسی طرح اگر کوئی صاحبِ نصاب مسلمان اپنے مال کی زکاۃ مقررہ نصاب سے کم نکالے تو ہر دار الافتاء سے ایک ہی فتویٰ صادر ہوگا کہ زکاۃ ادا نہیں ہوئی، اس لیے کہ اس نے اسلام کے قانونِ زکاۃ کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر اسلامی ریاست ہوگی تو اس نالائق کی پشت پر تازیانے (کوڑے) پڑیں گے اور اس کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ مقررہ نصاب کے مطابق زکاۃ ادا کرے۔
لیکن یہی مفتیانِ کرام اور علمائے عظام اسلام کے قانونِ طلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں اس سے بالکل مختلف طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں۔ تین طلاقیں دینے والے سے یہ نہیں کہا جاتا کہ تمھاری طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لیے کہ خلافِ قاعدہ دی گئی ہے، تم کو اصل قانون کے مطابق طلاق دینی ہوگی اگر تم فی الواقع اپنی بیوی سے رشتہ زوجیت کا انقطاع چاہتے ہو، اس کے بر عکس یہ کہا جاتا ہے کہ طلاق تو واقع ہو گئی مگر تم نے گناہ کا کام کیا ہے۔
موجودہ حالات میں مسلمانوں کی جو دینی اور اخلاقی حالت ہے اور جس نوع کے سیاسی اور معاشی بحران سے ملت دوچار ہے، اس کے پیشِ نظر مسلمانوں کے لیے طلاق کے معاملے میں صرف دو متبادل ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو جس کا آج کل رواج ہے، ایک طلاقِ رجعی قرار دیا جائے، اور دوسرا متبادل یہ ہے کہ اسے کالعدم قرار دے کر طلاق دینے والے سے کہا جائے کہ وہ بیوی کو واپس لے اور سنت کے مطابق حالتِ طہر میں بغیر جنسی مقاربت کے طلاق دے اور عدت کا خیال رکھے۔ اگر بیوی کو واپس لینا ہے تو عدت کے اندر رجوع کرے ورنہ حسنِ سلوک کے ساتھ اسے رخصت کر دے۔ اس کے سوا ہر طریقہ بدعت اور ناجائز ہے۔(منقول از ماہنامہ ”اشراق“ لاہور فروری 2006ء)