مضمون کے اہم نکات
اہل باطل مختلف انداز سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک مسئلہ تعویذ لٹکانے کا ہے جسے آج بھی بہت سے لوگ ایک جائز اور بابرکت عمل سمجھتے ہیں۔ بعض بدعتی حضرات سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ “اہلحدیث غیر مقلدین ہر قسم کے تعویذات کو شرک قرار دیتے ہیں جبکہ قرآنی تعویذ جائز ہیں”۔
اس مضمون میں ہم تفصیل کے ساتھ دکھائیں گے کہ:
① نبی کریم ﷺ کی صحیح اور صریح احادیث میں ہر قسم کے تعویذ کی ممانعت وارد ہے۔
② سلف صالحین اور جمہور محدثین نے تعویذ کو شرک قرار دیا ہے۔
③ قرآن و سنت یا آثار صحابہ سے تعویذ گلے میں ڈالنے کا کوئی ثبوت نہیں۔
④ بعض ضعیف و موضوع روایات کو بنیاد بنا کر بدعتیوں نے جواز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، جن کی علمی حیثیت نہیں۔
لہٰذا یہ مضمون واضح کرے گا کہ تعویذ گلے میں لٹکانا چاہے قرآنی ہو یا غیر قرآنی، صریح احادیث کی روشنی میں ناجائز اور شرک کا دروازہ کھولنے والا عمل ہے۔
① اہل بدعت کا اعتراض
اہلحدیث غیرمقلدین ہر قسم کے تعویذات چاہے قرآنی ہوں یا غیر قرآنی سب کو شرک قرار دیتے ہیں۔ ان کی بنیادی دلیل یہ حدیث ہے:
قال رسول الله ﷺ: "مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ.”
(مسند أحمد 16781، السلسلة الصحيحة للألباني 2961)
ترجمہ: جس نے تعویذ (تمیمہ) لٹکایا اس نے شرک کیا۔
الجواب: شیخ عبد العزيز بن باز کا فتویٰ
اہلحدیث علماء نے واضح دلائل کے ساتھ تعویذات کے مسئلہ کو بیان کیا ہے۔ ان میں سے ایک اہم نام شیخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ ہیں، جو سعودی عرب کے جلیل القدر مفتی تھے۔ انہوں نے تعویذ کی دو اقسام بیان کی ہیں:
✦ پہلی قسم: غیر قرآنی اور شرکیہ تعویذ
"وهي نوعان: أحدهما: ما يكون من أسماء الشياطين أو العظام أو الخرز أو المسامير أو الطلاسم وهي الحروف المقطعة أو أشباه ذلك، وهذا النوع محرم بلا شك لكثرة الأدلة الدالة على تحريمه، وهو من أنواع الشرك الأصغر لهذه الأحاديث وما جاء في معناها، وقد يكون شركا أكبر إذا اعتقد معلق التميمة أنها تحفطه أو تكشف عنه المرض أو تدفع عنه الضر من دون إذن الله ومشيئته.”
(مجموع فتاوى العلامة ابن باز)
🔹 ترجمہ: یہ تعویذ کی وہ قسم ہے جس میں شیاطین کے نام، ہڈیاں، دانے، کیل، یا طلسم وغیرہ لکھے جاتے ہیں۔ یہ قسم بلاشبہ حرام ہے کیونکہ اس کی حرمت پر بے شمار دلائل موجود ہیں۔ یہ شرکِ اصغر ہے، لیکن اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ یہ تعویذ اللہ کے حکم کے بغیر حفاظت کرتے ہیں یا نقصان کو دور کرتے ہیں تو یہ شرکِ اکبر بن جاتا ہے۔
✦ دوسری قسم: قرآنی آیات اور دعاؤں پر مشتمل تعویذ
"والنوع الثاني: ما يعلق من الآيات القرآنية والأدعية النبوية أو أشباه ذلك من الدعوات الطيبة، فهذا النوع اختلف فيه العلماء، فبعضهم أجازه وقال: إنه من جنس الرقية الجائزة، وبعض أهل العلم منع ذلك وقال: إنه محرم، واحتج على ذلك بعموم الأحاديث في النهي عن التمائم والزجر عنها والحكم عليها بأنها شرك، فلا يجوز أن يخص شيء من التمائم بالجواز إلا بدليل شرعي يدل على ذلك، وليس هناك ما يدل على التخصيص.”
(مجموع فتاوى العلامة ابن باز)
🔹 ترجمہ: دوسری قسم وہ ہے جس میں قرآنی آیات یا نبوی دعائیں لکھی جاتی ہیں۔ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے:
-
کچھ نے اسے جائز قرار دیا اور کہا کہ یہ مباح رقیہ کی قسم ہے۔
-
جبکہ بعض علماء نے اسے ناجائز قرار دیا اور اس پر دلائل یہ دیے کہ تمائم کی ممانعت والی احادیث عام ہیں۔ اور کوئی شرعی دلیل موجود نہیں جو قرآنی تعویذ کو جائز قرار دے۔
حاصل کلام:
-
غیر قرآنی تعویذ = شرک اصغر (اور عقیدہ خراب ہونے پر شرک اکبر)
-
قرآنی آیات والے تعویذ = بعض علماء نے جائز کہا، مگر ممانعت پر دلائل زیادہ قوی ہیں۔
-
احادیث کا عموم تعویذ کی ہر قسم کو شامل کرتا ہے۔
② اہل بدعت کا اعتراض
-
تمائم اور تعویذ میں فرق ہے۔
-
ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گلے میں ہڈیاں، منکے، بلی کی ہڈیاں یا طلسم لٹکائے تو یہ "تمائم” ہیں جو شرک ہیں۔
-
لیکن اگر کوئی قرآنی آیات کا تعویذ لٹکائے تو یہ "تمائم” نہیں بلکہ جائز ہے۔
الجواب
یہ دعویٰ سراسر دھوکہ ہے۔
🔹 شرک کا دار و مدار ہڈی یا کاغذ پر نہیں بلکہ عقیدے اور مقصد پر ہے۔
-
اگر کوئی بلی کی ہڈی لٹکائے اس نیت سے کہ یہ حفاظت کرے گی → یہ شرک ہے۔
-
اور اگر کوئی قرآن لکھ کر گلے میں لٹکائے اور عقیدہ بنائے کہ یہ حفاظت کرے گا → یہ بھی شرک ہے۔
🔹 اس کی بہترین مثال رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ»
(مسند أحمد 16781، السلسلة الصحيحة للألباني 2961)
ترجمہ: جس نے کوئی تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔
مثال
جیسے شراب کے مختلف نام رکھ دیے جائیں (شراب، وسکی، برانڈی وغیرہ) تو حقیقت نہیں بدلتی، وہ بہرحال شراب ہی ہے۔
اسی طرح چاہے اسے "تمائم” کہا جائے یا "قرآنی تعویذ” — حقیقت یہ ہے کہ گلے میں لٹکانا ہی شرک ہے۔
حاصل کلام
-
تعویذ اور تمائم کو الگ الگ سمجھنا بدعتی مغالطہ ہے۔
-
مقصد اور عقیدہ اصل بنیاد ہے، نہ کہ صرف نام۔
-
حدیث کے عموم سے واضح ہے کہ ہر قسم کا تعویذ شرک ہے۔
③ اہل بدعت کا اعتراض
-
"تمائم اور تولہ کو نبی ﷺ نے شرک کہا، لیکن دم (رقیہ) کو بھی اسی حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔”
-
پھر کہتا ہے کہ: چونکہ دم بعض صورتوں میں جائز ہے (جیسا کہ صحیح مسلم میں حدیث ہے: «لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك») تو اسی طرح تعویذ بھی جائز ہے۔
الجواب
یہ سب سے بڑا دھوکہ ہے۔
✦ پہلی بات:
نبی ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ»
(سنن ابی داود 3883، مسند أحمد 3615، صحیح ابن حبان 6086)
ترجمہ: رقیہ (دم)، تعویذ اور تولہ سب شرک ہیں۔
✦ دوسری بات:
بعد میں نبی ﷺ نے رقیہ (دم) کی تخصیص فرما دی:
«اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ»
(صحیح مسلم 5732)
ترجمہ: اپنے دم میرے سامنے پیش کرو، اس میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔
🔸 مطلب یہ کہ "رقیہ” پہلے شرک میں شامل تھا، لیکن نبی ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ اگر دم میں شرکیہ کلمات نہ ہوں تو جائز ہے۔
لیکن تعویذ کے بارے میں؟
❌ تعویذ کے شرک ہونے والی حدیث میں کوئی تخصیص موجود نہیں۔
-
اس لیے دم (رقیہ) کا استثناء ثابت ہے۔
-
مگر تعویذ کا استثناء بالکل بھی ثابت نہیں۔
ائمہ کے اقوال
① امام ابو اسحاق الشیرازی (متوفی 472ھ):
"تخصیص السنّة بالسنّة جائز عند الأكثرين.”
(الإحكام في أصول الأحكام)
ترجمہ: اکثر علماء کے نزدیک سنت کو سنت کے ساتھ مخصوص کرنا جائز ہے۔
② خطیب بغدادی (متوفی 463ھ):
"ويجوز تخصيص السنّة بالسنّة من لفظ النبي ﷺ وفعله.”
(الفقيه والمتفقه)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کے قول یا فعل کے ذریعے سنت کو سنت کے ساتھ مخصوص کرنا جائز ہے۔
③ ابو الحسن الآمدی (متوفی 631ھ):
"ويجوز تخصيص السنة بالسنة.”
(اللمع في أصول الفقه)
ترجمہ: سنت کو سنت کے ساتھ مخصوص کرنا جائز ہے۔
حاصل کلام
-
دم اور تعویذ ایک جیسے نہیں۔
-
دم کو نبی ﷺ نے خود جائز قرار دیا → بشرط کہ شرک نہ ہو۔
-
تعویذ کے بارے میں کوئی تخصیص نہیں → لہٰذا وہ ہمیشہ شرک
بدعتی حضرات کا پہلا استدلال
ایک بدعتی نے عبداللہ بن عمروؓ سے مروی روایت پیش کی کہ وہ اپنے بچوں کو کلمات سکھاتے اور نابالغوں کے گلے میں لٹکا دیتے تھے۔
(ابوداؤد 3893، ترمذی 3528 وغیرہ)
الجواب
اس روایت کی سند میں محمد بن اسحاق بن یسار ہے:
-
امام مالک نے کہا: "دجال من الدجاجلہ” یعنی دجالوں میں سے ایک۔
-
امام احمد بن حنبل: مدلس اور ضعیف ہے۔
-
ابو داود: لوگوں کی کتابوں سے حدیثیں لے کر اپنی کتاب میں داخل کرتا تھا۔
-
نسائی: لیس بالقوی (قوی نہیں ہے)۔
🔴 اس لیے یہ روایت سخت ضعیف ہے۔
بدعتی کا دوسرا استدلال
نوح بن ابی مریم سے نقل کیا کہ سعید بن المسیبؒ نے کہا: تعویذ اگر چمڑے میں ہو تو کوئی حرج نہیں۔
(مصنف ابن ابی شیبہ 24008)
الجواب
نوح بن ابی مریم کے بارے میں ائمہ کی جروحات:
-
امام بخاری: منکر الحدیث
-
ابو حاتم: متروک الحدیث
-
ابو زرعہ: ضعیف الحدیث
-
دارقطنی: متروک
-
ابن حجر: کذاب
🔴 اس لیے یہ اثر باطل ہے۔
بدعتی کا تیسرا استدلال
ابن جریج سے روایت کہ عطاء نے فرمایا: اگر تعویذ چمڑے میں ہو تو عورت کو اسے اتار دینا چاہیے، اور اگر چاندی کے خول میں ہو تو چاہے اتارے چاہے نہ اتارے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ 24009)
الجواب
ابن جریج مدلس ہے، اور اس روایت میں عن کے ساتھ روایت کر رہا ہے (معلول عنعنہ)۔
-
امام نسائی: مدلس قبیح
-
ابن معین: ضعیف
-
احمد بن حنبل: خیبث الرائے
-
دیوبندی و بریلوی محققین نے بھی تسلیم کیا کہ اس کا عنعنہ ضعیف ہے۔
🔴 لہٰذا یہ روایت بھی ناقابل حجت ہے۔
بدعتی کا چوتھا استدلال
ثویر بن ابی فاختہ سے نقل کیا کہ مجاہد لوگوں کو تعویذ لکھ کر دیتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ 24010)
الجواب
ثویر بن ابی فاختہ کے بارے میں:
-
یحییٰ بن معین: ضعیف
-
ابو حاتم: ضعیف
-
دارقطنی: متروک
-
ابن حجر: ضعیف رمی بالرفض
🔴 لہٰذا یہ بھی ضعیف روایت ہے۔
بدعتی کا پانچواں استدلال
یونس بن خباب سے نقل کیا کہ ابو جعفر نے بچوں پر تعویذ لٹکانے کی اجازت دی۔
(مصنف ابن ابی شیبہ 23551)
الجواب
یونس بن خباب:
-
امام جوزجانی: کذاب مفتری
-
امام احمد: خیبث الرائے
-
ابو حاتم: مضطرب الحدیث
-
دارقطنی: رجل سوء
🔴 لہٰذا یہ روایت بھی مردود ہے۔
خلاصہ
-
بدعتیوں کے تمام دلائل یا تو ضعیف، یا موضوع، یا رافضی و کذاب راویوں سے منقول ہیں۔
-
کسی صحیح حدیث یا صحیح اثر سے تعویذ لٹکانے کا جواز ثابت نہیں۔
-
بالعکس، صحیح احادیث میں تعویذ کو صراحتاً "شرک” کہا گیا ہے۔
ائمہ و محققین کے اقوال
① شیخ الاسلام ابن تیمیہ (728ھ):
"وأما تعلیق الحروز والتمائم فقد نهى عنه النبی ﷺ، وقال: «من تعلق تميمة فقد أشرك».”
(مجموع الفتاوى 19/64)
ترجمہ: حرز اور تعویذ لٹکانے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا اور کہا: جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا۔
② امام ابن القیم (751ھ):
"التمائم شیء یعلقونه علی الأولاد عن العین، وإنما هی من الشرك؛ لأنهم أرادوا دفع المقدور بزعمهم.”
(زاد المعاد 4/174)
ترجمہ: تمائم وہ چیزیں ہیں جو لوگ بچوں پر نظر بد سے بچانے کے لیے لٹکاتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ شرک ہے کیونکہ وہ اللہ کے مقدور کو ٹالنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
③ امام نووی (676ھ):
"واتفق العلماء على النهی عن جمیع التمائم سواء کانت من القرآن أو من غیره.”
(شرح صحیح مسلم 14/170)
ترجمہ: علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام قسم کے تعویذ منع ہیں، خواہ وہ قرآن کے ہوں یا غیر قرآنی۔
④ حافظ ابن حجر عسقلانی (852ھ):
"وقد أطلق جماعة کراهة التمائم ولو کانت من القرآن.”
(فتح الباری 10/195)
ترجمہ: کئی ائمہ نے تصریح کی ہے کہ تعویذ مکروہ ہیں، خواہ وہ قرآنی کیوں نہ ہوں۔
⑤ شیخ عبدالعزیز بن باز (1420ھ):
"تعلیق الآیات القرآنیة على العنق لا أصل له، ولم یفعله الصحابة، فترکها أولى بل هو واجب؛ سدًا للذریعة.”
(مجموع فتاوى ابن باز 1/204)
ترجمہ: گلے میں قرآنی آیات لٹکانے کی کوئی اصل نہیں، صحابہ نے ایسا نہیں کیا، اس لیے اس کو چھوڑنا واجب ہے تاکہ شرک کا راستہ بند ہو۔
⑥ شیخ محمد ناصر الدین البانی (1420ھ):
"کل ما یعلق على الأطفال من التمائم فهو باطل، سواء کان من القرآن أو غیره.”
(سلسلة الأحاديث الصحيحة 1/445)
ترجمہ: بچوں پر لٹکائے جانے والے ہر قسم کے تعویذ باطل ہیں، خواہ وہ قرآن کے ہوں یا غیر قرآنی۔
اہلحدیث کا موقف
-
تمام تعویذات (قرآنی یا غیر قرآنی) کو لٹکانا شرک ہے۔
-
دلیل: نبی ﷺ نے عموم کے ساتھ فرمایا: «إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» (صحیح ابن حبان)
-
رقیہ (دم) کی تخصیص دوسری احادیث سے ہوئی، لیکن تعویذ کی تخصیص کہیں نہیں۔
-
لہٰذا، اہلحدیث کا منہج ہے کہ تعویذ ہر حال میں شرک ہے۔
خلاصہ و نتیجہ
-
بدعتیوں نے قرآنی اور غیر قرآنی تعویذ میں فرق گھڑ کر عوام کو دھوکہ دیا۔
-
صحیح احادیث میں ہر قسم کے تعویذ کو "شرک” کہا گیا ہے۔
-
تمام ائمہ و محققین کے اقوال سے واضح ہے کہ تعویذ لٹکانا منع ہے۔
-
اہلحدیث کا مؤقف قرآن و سنت کے عین مطابق ہے:
تعویذ لٹکانا شرک ہے، خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی۔
اہم حوالاجات کے سکین


























