جو شخص کسی دوسرے پر زنا کی تہمت لگائے (اور گواہ پیش نہ کر سکے ) تو اس پر تہمت کی سزا واجب ہو جائے گی ، اگر آزاد ہو تو اسی (80) کوڑے اور اگر غلام ہو تو چالیس (40)
لغوی وضاحت: لفظِ قذف کا معنی ہے ”تہمت لگانا ، پھینکنا“ ، یہ باب قَذَفَ يَقْذِفُ (ضرب) سے مصدر ہے ۔ باب قَاذَفَ يُقَاذِفُ (مفاعلة ) ایک دوسرے کو تہمت لگانا ، باب اِسْتَقْذَفَ يَسْتَقْذِفُ (استفعال) تہمت لگانا ۔
[المنجد: ص / 676 ، القاموس المحيط: ص / 759]
شرعی تعریف: آدمی کا کسی دوسرے پر زنا کی تہمت لگانا قذف کہلاتا ہے ۔
[الفقة الإسلامي وأدلته: 5398/7]
یہ کبیرہ گناہ ہے اور اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ [النور: 23]
”یقیناً جو لوگ پاکدامن ، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں ۔“
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی اشیاء سے بچو ۔ (ان میں سے ایک یہ ہے )
قذف المحصنات المؤمنات الغافلات
”پاکدامن ، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگانا ۔“
[بخاري: 6857 ، كتاب الحدود: باب رمى المحصنات ]
➌ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں (حضرت حسان رضی اللہ عنہ ، حضرت مسطح رضی اللہ عنہ اور حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد قذف لگائی تھی ۔
[حسن: صحيح ابن ماجة: 2081 ، احمد: 352/6 ، ابو داود: 4474 ، كتاب الحدود: باب فى حد القذف ، ترمذي: 3181 ، ابن ماجة: 2567]
ارشاد باری تعالٰی ہے کہ :
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً [النور: 4]
”اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں پھر چار گواہ نہیں لاتے انہیں اسی (80) کوڑے لگاؤ ۔“
(شوکانیؒ ) اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے ۔
[السيل الجرار: 341/4]
غلام کے متعلق اختلاف ہے کہ اسے مکمل (80 کوڑے ) حد لگائی جائے گی یا نصف ۔ اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ غلام کو آزاد سے نصف حد لگائی جائے گی ان کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد خلفاء کو اپنے غلاموں کو چالیس (کوڑوں ) سے زائد حد قذف لگاتے نہیں دیکھا ۔
[مؤطا: 828/2]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، امام لیثؒ ، امام زہریؒ ، امام اوزاعیؒ اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ آیت:
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ ………..
کے عموم کی وجہ سے غلام کو بھی مکمل حد لگانے کے قائل ہیں ۔
[فتح البارى: 495/15 ، سبل السلام: 1697/4]
(ابن حزمؒ ) اسی کے قائل ہیں ۔
[المحلى بالآثار: 71/12]
(صدیق حسن خانؒ ) جس آیت میں نصف حد کا ذکر ہے وہ زنا کے متعلق ہے ۔
فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ ……… [النساء: 25]
”لٰہذا حد قذف کو حد زنا پر قیاس کرنا درست نہیں بلکہ غلام کو بھی مکمل حد قذف لگائی جائے گی ۔
[الروضة الندية: 607/2]
(امیر صنعانیؒ ) غلام کو بھی مکمل حد لگائی جائے گی ۔
[سبل السلام: 1697/4]
(سید سابقؒ ) اسی کے قائل ہیں ۔
[فقه السنة: 535/2]
(جمہور ، ابن حجرؒ ) غلام پر آزاد سے نصف حد ہے مرد ہو یا عورت ۔
[فتح الباري: 495/15]
(راجح ) جن حضرات کے نزدیک غلام کو بھی مکمل حد قذف لگائی جائے گی ان کی رائے زیادہ معتبر ہے ۔