سوال
ہم لوگ تکبیر میں قد قامت الصلوٰۃ کے جواب میں أَقامَھَا اللہ وَاَدامَھَا کہتے چلے آئے ہیں۔ مگر اب یہ سننے میں آ رہا ہے کہ یہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اگر یہ درست ہے تو پھر قَد قَامَتِ الصلوٰۃ کے جواب میں کیا کہا جائے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
حقیقت یہی ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ امام شوکانیؒ فرماتے ہیں:
الحدیث فی اسنادہ رجل مجھول وشھر بن حوشب تکلم فیه غیر واحد ووثقه یحییٰ بن معین وأحمد بن حنبل۔
ترجمہ:
’’اس حدیث کا ایک راوی مجہول ہے اور شہر بن حوشب کے بارے میں کئی ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم امام یحییٰ بن معین اور امام احمد بن حنبل نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔‘‘
لہٰذا قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ کے جواب میں أَقَامَھَا اللہ وَأَدَامَھَا کہنا جائز ہے۔
البتہ بہتر یہ ہے کہ قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ کے جواب میں صرف قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ ہی کہا جائے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب